ٹیراہرٹز امواج سے ابتدائی کینسر کی مؤثر شناخت ممکن

28

جاپان: چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ اپنی جڑیں پھیلا چکا ہوتا ہے۔ لیکن اب اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین نے ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کی مدد سے بریسٹ کینسر کی ابتدائی تشخیص میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کی بدولت صرف نصف ملی میٹر کی رسولی کی شناخت بھی کی جاسکتی ہے۔

اوسکا یونیورسٹی اور فرانس کے کچھ اداروں نے مل کر ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کو استعمال کیا ہے۔ تصویر کشی کے اس عمل کے ذریعے وہ رسولیاں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جن کی شناخت اس سے پہلے ممکن نہ تھی۔ اس کینسر کے نمونے کو رنگنے (اسٹیننگ) کا عمل بالکل نہیں ہوتا اور تصویر بالکل شفاف ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح ہزاروں لاکھوں خواتین کو موت کے منہ میں جانے سے بچانا ممکن ہوسکے گا۔ اس کی وجہ ہے کہ ابتدائی شناخت کے بعد کینسر کو قابو کرنا آسان ہوتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.