0

عزم ِ استحکام

ریاستی استحکام کی بقاء کے لئے پاک فوج کی یہ ترجیح رہی ہے کہ وہ سرحد پار سے لیکر اندرون ریاست کے مشاغل پر کڑی نظر رکھے تا کہ امن کے خلاف اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں سرگرداں گروہ ریاست ِ پاکستان کو کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں تاریخ کے سینے میں مدفون دہشت گردی کے حوالے سے کئی واقعات ہیں جن میں پاک فوج نے اپنی قیمتی جانیں وطن پر نچھاور کر کے دشمنوں کو دھول چٹائی ہے میں یہ بات اکثرمثال کے طور پر کہا کرتا ہوں کہ جب کبھی بھی کسی لڑائی جھگڑے کی یا ہوائی فائرنگ کی آواز سماعتوں سے مڈبھیڑ ہوتی ہے تو ہم گھر کے دروازے بند کر کے مرغیوں کی طرح اپنے بچوں کو بانہوں کے حصار میں جکڑ لیتے ہیں جب کہ جنگ پہ یا سرحدوں پر ڈیوٹی کے فرائض ادا کرنے کسی بھی منصب کا فوجی روانہ ہوتا ہے تو اس کی مائیں، بہنیں ،بیٹیاں دعائیں دیتے ہوئے ماتھا چوم کر رخصت کرتی ہیںوہ نہیں جانتیں کہ پھر ملاقات کب اور کہاں ہو گی ؟وطن پر جاں نثاری کا ایسا جذبہ پاک فوج کے علاوہ ملک کے کسی دوسرے اداروں میں اتنی شدت سے پروان چڑھ جائے تو دیوقامت دشمن بھی بلی بن جائے یاد رہے کہ تنخواہ کے ساتھ جان دینے کا وعدہ صرف وردی والے کرتے ہیں دوسرا کوئی نہیں کرتا مگر ہم لوگ صرف تضحیک کر کے ،قربانیوں کو نظر انداز کر کے صرف دنیاوی فائدوں کو تذکروں کی زینت بناتے ہیں جو فوج کی لازوال قربانیوں کے سامنے حقیر ہے جو لوگ فوج کی کارکردگیوں کو ہدف ِ تنقید بناتے ہیں وہ راوی کی نظر میں اپنی کوتاہ قامت کو بلند رکھنے کی کوششوں میں رہتے ہیںمیں نے آج تک جان کے بدلے تنخواہ یا دیگر مراعات لیتے کسی دوسرے ادارے کے لوگوں کو نہیں دیکھا جان نچھاور کرنے اور جام ِ وفا کو پیتے صرف فوجی جوانوں کو دیکھا ہے ۔ فوجی آمریت سے پیدا ہونے والے بحرانوں پر میری تنقید اُس وقت کے کمانڈر پر ہوتی تھی جن میں ایوب خان اور ضیاء الحق سرفہرست رہے ہیں میرا اب بھی یہی موقف ہے کہ سیاست کو بالکل آزاد چھوڑنا کسی صورت درست اقدام نہیں کیونکہ ہمارے یہاں حب الوطنی کم اور مفادات کی آبیاری زیادہ ہونے کی روایات باقاعدہ قانون کا درجہ حاصل کر چکیں ہیںجو جمہوری حکومتیں بجلی کی چوری نہ روک سکیں اُن سے ریاست کا تحفظ کہاں ممکن ہے ؟ فوج کی اہمیت ذرا غزہ کے فلسطینی مسلمانوں سے پوچھیں جنہیں اسرائیلی حکومت امریکی مدد سے زندہ جلانے سے بھی دریغ نہیں کر رہی آئرش ممبر آف پارلیمنٹ گولڈ تھامس بی ڈی روتے ہوئے بیان دیتے ہیں کہ آثار ِ قیامت ہیں کہ اسرائیلی فوج نے 15000زندہ بچے ذبح کر ڈالے اور اُمت ِ مسلمہ خاموش تماشائی ہے ہزاروں مرد و زن نیتن یاہو کے مظالم کا شکار ہو کر شہادت کا رتبہ پا چکے مگر ان معصوموں کی مدد کے لئے دنیا میں انسانوں کا قحط پڑ ا ہوا ہے فضاؤں میں گونجتی ان شہیدوں کی چیخیں معصوم بچوں کی آہ و بکا یہ بتاتی ہے اگر فلسطین کی فوج کو منظم طریقے سے ترتیب دیا گیا ہوتا تو آج یہ خونریزی ،نسل کشی کی وارداتیں اس تناسب سے اسرائیل کے لئے ممکن نہیں ہوتیں مسلمانوں کی بربادیوں کا یہ نوحہ کئی دھائیوں سے تاریخ کے صفحات کو خون ِ نا حق سے تر کررہا ہے جسے دیکھ کر صیہونیت کی آنکھیں بھی نمناک ہیں۔ غیر مسلم ریاستوں میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مظاہروں کا ہونا ہمارے ضمیر جھنجھوڑنے کے مترادف ہے مگر ہم مسلمان اپنے مفادات اور سفارتی تعلقات کی چادر میں لپٹے اپنی جانب بڑھتے ہوئے شعلوں کو نہیں دیکھ رہے ہیں اس طرز عمل کو تو غفلت کہنا بھی کم لگتا ہے دہشت گردی کے شعلوں نے ہمارے وطن ِ پاک کو جلانے کی ہر ممکن کوشش کی جسے پاک فوج نے پوری جوانمردی سے ناکام کیا دوبارہ دہشت گردوں کا سر اُٹھانا فوج کی نہیں سیاست دانوں کی کج فہمی ہے جب اگست 2021میں تحریک انصاف کی حکومت نے کسی بھی ادارے کو خاطر میں لائے بغیر بشمول پارلیمنٹ کے طالبان کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی جسے ریاست کا انہدام کہنا بے جا نہ ہو گا تحریک ِ انصاف کی یہ کارستانی اور 9مئی کے واقعات ایک مذموم ایجنڈے پر کاربند نظر آتے ہیں وجاہت مسعود بتاتے ہیں فروری2024میں خیبر پختون خواہ کے انتخابی نتائج بھی اسی قضیے سے منسلک ہیں قارئین دیکھیں اور جائزہ لیں کہ آج تحریک ِ انصاف کے نووارد سیاست دان آپریشن عزم ِاستحکام کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں ان کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ کہیں نیتن یاہو کی روحیں سرزمین پاک پہ بھی وارد ہو چکی ہیںامریکی نمائندگان کا پاکستان کے انتخابات کو زیر ِ بحث لاتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ ،اور گزشتہ دنوں سی پیک پر کام کرنے والے چینی وفود پر حملہ پاکستان کے غیر ملکی دشمنوں کی کاروائیاں ہیں جن کا سدباب ریاست کے استحکام کے لئے انتہائی ناگزیر ہے اور آپریشن عزم ِ استحکام ،پاک سرزمین پر موجود غیر ملکیوں کے سہولت کاروں کی بیخ کنی لازمی ہے صرف اتنا خیال رہے کہ سرحدی علاقوں کے مکین بھی پاکستانی ہیں کسی غیر مہذب کاروائیوں سے اُن کا بچائو ممکن کرنا بھی دفاعی اہلکاروں کی اولین ذمہ داری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں