0

پاکستان کی بدحالی:کچھ اندر کی باتیں!

پاکستان کو اللہ ہمیشہ دائم اور قائم رکھے، ہمارے کرتوت تو اس لائق نہیں کہ یہ ملک زیادہ دیر چل سکے۔ اس کی بربادی میں اس کے حاکموں کا بڑا کردار ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ انہیں کا سارا کردار ہے ۔ عوام بے چارے تو گردش صبح شام کی چکی پیس رہے ہیں۔اس کے اسباب کیا ہیں؟ جتنے دانشور اتنی ہی توجیہات۔ایک نے کہاکہ ان حالات کی ذمہ وار کرپشن ہے۔ اور اس نے کرپشن کے خاتمہ کے لیے اپنی زندگی اور سیاست دائو پر لگا دی۔ کرپشیا نے اس کو تھوڑا چانس دیا اور پھر اس کی حکومت ختم کر کے، اسے جیل بھیج دیا۔ اب اگر آپ اتنے طاقتور کرپٹ مافیا سے لڑیں گے تو یہ تو ہو گا۔لاکھ آپ عوام کو اپنا حامی بنا لیں لیکن وہ تو بے چارے نہتے اور کمزور ہیں خواہ کروڑوں میں ہیں۔ان حالات کی آبیاری کرنے والے دو خاندان ہیں۔ دونوں کو فوجی ڈکٹیٹروں نے پالا پوسا۔ایک کی جڑیں ان وڈیروں جاگیر داروں سے ملتی ہیں جنہوں نے پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھا اور اس کے عوام کو ہاری۔ دوسرا خاندان نواز شر۔۔ کا تھا ،اس نے بھی وردی والے بادشاہ کی گود میں آنکھ کھولی۔ وردی نے اس سے حلف اٹھوایا کہ وہ جب حکومت میں ہو گا تو وردی کا ہر حکم مانے گا۔اور اس طرح اس نے عمر بھر کی وفاداری کی قسم کھائی۔ وہ جب سے حکومت میں آیا، اس نے اور اس کے خانوادہ نے وردی کا ہر حکم اور اس کی ہر خواہش کو پورا کیا۔ یہ انہیں خانوادوں کا کیا دھرا تھا کہ آج پاکستان ایک ایسے تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے کہ جس سے بچنا نا ممکن نظر آتا ہے۔ان حالات کا ذمہ وار صرف وردی کو ٹہرانا حقائق سے رو گردانی ہو گی۔کیونکہ ان خانوادوں نے اگر آئین اور قانون کے مطابق ملک گیری کی ہوتی تو پاکستان میں ہر وہ ہنر اور وہ اہلیت موجود تھی جو مشرق بعید میں صنعتی ترقی کرنے والے چھوٹے، بڑے ممالک کے پاس تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ۔مگر ایسا کیوں ہوا؟
جب پاکستان عالم ظہور میں آیا، تو بے شک ہندوستان کے مقابلے میں اس کے ذرائع بہت کم تھے۔لیکن باہر سے ان کو اتنی امداد مل گئی کہ یہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے تھے۔مگر افسوس، صد افسوس کہ پاکستان کے سیاستدان ذاتی مفادات کی دوڑ میں لگ گئے۔ کیا اس میں انہیں ملک دشمن ممالک سے رہنمائی مل رہی تھی؟ یا وہ جاگیرداری کی مروجہ روایات پر چل رہے تھے جن کے مطابق غریبوں، ہاریوں، اور عوام الناس کو ایسے حال میں رکھا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ ان کے زیر احسان رہیں۔نہ ان کو تعلیم دی جائے کہ انہیں اپنے انسانی حقوق کا ادراک ہو، اور نہ ہی وہ اپنی محنت کا جائز معاوضہ مانگنے کی ہمت رکھ سکیں۔
ایسے حالات میں، نوازیوں نے اور زرداریوں نے ایسے مواقع پیدا کیے کہ سرکاری ملازموں اور سیاستدانوں کو کھلی چھٹی دی گئی کہ وہ جتنی کرپشن کرنا چاہیں ، کریں۔ وردی والوں نے ان کی گردن پر انگوٹھا رکھ کر نہ صرف اپنی مراعات بڑھوائیں، قومی خزانے سے علیحدہ براستہ بجٹ اپنی نفری بڑھوائی اور اپنی تنخواہیں اور مراعات کو ہر سال بڑھوایا۔یہی کافی نہیں تھا، ان زرداریوں اور نوازیوں نے ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ زمینیں دیں جہاں وہ اپنی چھاونیاں بنا سکتے تھے اور کولونیز علیحدہ۔وردی والوں نے پھر وہ کام کیے جو سولینز کے تھے، یعنی فیکٹریاں، بینک، ہوائی کمپنیاں اور کیا کچھ، منافع بخش ادارے بنائے۔ ان سے ان کی اوپر کی آمدنی میں اور اضافہ ہوا۔ اس بھی زیادہ منافع تب ہوا جب وردی نے دوسرے ملکوں کو اپنی خدمات دیں، جن میں سعودی عرب، مشرق دسطیٰ کے ممالک شامل تھے، اور اقوام متحدہ کو امن دستوں کے لیے اپنے فوجی مہیا کیے۔ یہ سب کچھ حکومتوں کی سر پرستی میں ہوا اور حکومتیں چوں نہیں کرتی رہیں۔
پنجابی کی ایک مثال ہے کہ ہانڈی کا منہ کھلا ہو تو کتے کو شرم چاہیے۔ لیکن یہاں کسی نے شرم نہیں کی بلکہ اور زیادہ منہ مارنے والے آ گئے۔سب سے بڑی بات یہ کہ حاکموں نے کبھی یہ راز عوام پر ظاہر نہیں کیا کہ وہ در اصل خود مختار نہیں، بلکہ وہ اپنی ہی ملک کے محافظوںکے ٹٹ پونجئیے ہیں۔ گاہے بگاہے فوج کے جرنیلوں کو برا بھلا بھی کہہ دیتے تھے کہ لوگ ان کی ملک سے وفاداری پر شک نہ کریں۔ یہ سب نواز اور اس کے چیلے چانٹے کرتے تھے اور زرداری بھی۔سب دکھاوا ۔اب آپ کو سمجھ آجانی چاہیے کہ کیوں نواز شریف کو وطن واپس لایا گیا، اس کے اور اس کی فیملی کے مقدمات خارج کروائے گئے، جب انتخابات میں ان کو شکست فاش ہوئی تو کس طرح کھلم کھلا الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے چیف جج کے ساتھ ملکر انتخاب کے نتائج کو الٹ دیا گیا اور جیتی ہوئی پارٹی کو ہروا دیا گیا۔ اس لیے نہیں کہ جیتنے والی پارٹی پاکستان کے خلاف تھی بلکہ اس لیے کہ اس کے رہنما عمران خان کا منشور کرپشن کو مٹانا تھا۔وہ تو سارا کھیل ہی چوپٹ کرنا چاہتا تھا۔اس کا سد باب کرنے کے لیے، کرپٹ سیاستدانوں اور فوج کے جرنیل باجوہ نے سازش کی اور امریکہ میں بیٹھی ہنود و یہود لابی کو ملا کروہ سارا کھیل کھیلا جس نے عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، اور اس کو جیل میں ڈال دیا۔اس کی پارٹی کو تتر بتر کرنے کے لیے تحریک کے دس ہزار سے زیادہ کارکنوں کو جیل میں ڈال دیا اور سینکڑوں مرد اور خواتین کو ایک جھوٹا ڈرامہ بنا کر جیلوں میں ٹھونس دیا۔
بظاہر یہ سرگرمیاں اور سازشیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے غداری کےزمرے میں آنی چاہیئں، لیکن یہ لوگ پاکستان کے غدار نہیں، یہ صرف خود غرض اور لالچی ہیں جو اپنے فائدے کے لیے پاکستان کی ہر ضرورت کو قربان کرتے ہیں۔یہ جانتے ہیں کہ ان کے اللے تللے اس وقت تک ہیں جب تک پاکستان پر ان کا کنٹرول ہے۔ اگر یہ خدا نخواستہ کسی اور ملک کے قبضہ میںآ گیا تو یہ ٹھاٹ باٹھ، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔اب نئی اور ناجائز حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔اس پر سوشل میڈیا میں لوگوں نے غضب کے تبصرے کیے ہیں۔نواز کے چھوٹے بھائی شہباز کی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ اتنا شرمناک ہے کہ اس کے امپورٹڈ وزیر خزانہ کو بھی خفت محسوس ہوتی ہو گی۔مثلاً ہر سال کی طرح پاکستان کی آمدنی کم اور خرچ زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے خسارے کا بجٹ ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں: پہلی یہ کہ ہر سال بجٹ کا خسارا پورا کرنے کے لیے پاکستان کو قرضہ لینا پڑتا ہے، اورگذشتہ قرضہ کی واپسی اور سود کی ایک خطیر رقم دینی پڑتی ہے، جو کل بجٹ کا ایک تہا ئی حصہ بنتا ہے۔دوسرا ایک تہائی پاکستان کے دفاع پر لگانا پڑتا ہے اور باقی کی رقم نظم و نسق پر۔ تعلیم، صحت ، سماجی بہبود، زراعت ترجیحات کی اس فہرست میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک عجیب امر ہے کہ پاکستان نے جب ایٹم بم بنا لیا ہے تو اسے دس لاکھ کی فوج کی کیا ضرورت ہے؟ کیا ہم بھارت سے روائتی جنگ کر سکتے ہیں؟ اور جنگ کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ اب تک جتنی جنگیں بھارت سے ہوئی ہیں ان میں پہل بھارت نے تو نہیں کی تھی؟ کیا بھارت سے معاملات بہتر ہو جائیں تو فوج کی اہمیت کم نہیں ہو جائے گی؟ کہتے ہیں کہ اس لیے جب بھی بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے لگتے ہیں ہماری طرف سے کوئی ایسا واقع ہو جاتا ہے کہ تعلقات کٹھائی میں چلے جاتے ہیں۔اس میں سارا قصور فوج پر ڈالنا بھی غلط ہو گا، کیونکہ ہمارے سیاستدانوں نے اپنے ضمیر اور وفاداریاں تو پہلے ہی گروی رکھ دی ہوئی ہیں۔
نواز شریف شاید ان معاملات کو سمجھ گیا ہے اور شاید اس کا خیال ہے کہ بھارت کے ساتھ ایسے تعلقات بنا لے کہ اس کی جان اپنی فوج سے چھوٹ جائے؟ لیکن اسے بھولنا نہیں چاہیے کہ فوج بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی۔ اس کو اپنے مفادات کی حفاظت کرنا خوب آتا ہے۔اور پاکستان میں قابل فروخت سیاستدانوں کی لائن بھی بہت لمبی ہے۔اگر نواز فیملی کا ضمیر کبھی جاگ جائے تو وہ اپنے پر مسلط پیر تسمہ پا کے احکام ماننے سے انکار کر دے اور ہر سال، بجٹ میں دفاع پر بتدریج بیس فیصد کمی کرے، اور مزید مراعات اور زمینوں کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دے۔ اس جرأت مندانہ اقدام پر اپنی کابینہ اور عدلیہ سے تعاون لے تو ممکن ہے کہ یہ جن بوتل میں واپس ڈال سکے؟ اگر یہ نہیں کر سکتے تو حکومت سے علیحدہ ہو جائیں کیونکہ حب الوطنی کا یہی تقاضا ہے۔
راقم کو سمجھ نہیں آتی کہ نواز اور زرداری حکومت کیوں چاہتے ہیں؟ کیا ابھی ان کی حرص پوری نہیں ہوئی؟ کیا دنیا بھر میں پھیلی جائدادیں اور بینک بیلنس ان کے ان کے بچوں کی با تعیش زندگی گذارنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ بلکہ وردی والوں نے بھی جتنے وسائل بنا لیے ہیں، وہ اور ان کی اولادیں ساری زندگی عیش اور آرام سے گذار سکتے ہیں۔ کیا اب چھوڑ نہیں سکتے؟ یہ کب تک غریب پاکستانیوں کا خون چوستے رہیں گے؟
بجٹ پر عوامی رد عمل ملاحظہ ہو:
۔ ’’ حکومت پاکستان میری صحت پر117 روپے، میری تعلیم پر 227 اور میری حفاظت پر 83000 روپے خرچ کرے گی۔‘‘
۔ ’’ میں تجھ کو بتاتا ہوں، تفسیر ’’بجٹ‘‘ کیا ہے؟ ’’شمشیر و سنا ںاول، تعلیم و صحت آخر۔‘‘
۔ ’’قومی بجٹ 2024
۔۔دفاع کے لیے 2122ارب روپے
۔۔صحت کے لیے ۔۔۔۔ ھوالشافی
۔۔ تعلیم کے لیے ۔۔۔۔رب زدنی علماً
۔۔ خوراک کے لیے۔۔۔۔واللہ خیر الرازقین کے وظیفے مختص‘‘
۔ ’’ایک آدمی نے گھر میں اعلان کیا کہ ’’جو بچہ دوپہر کا کھانا نہیں کھائے گا اس کو دس روپے انعام ملے گا۔ سب بچوں نے خوشی خوشی دس دس روپے لے لیے۔رات کے کھانے پر پر اعلان ہواکہ رات کا کھانا صرف اس کو ملے گا جو دس روپے واپس کرے گا۔یہ ہے ہمارا بجٹ۔‘‘
حکمرانوں نے آئی ایم ایف سے دو ارب ڈالرلینے کے لیے، عوام پر ہر طرح کے مہنگائی کے بم گرا دیے ہیں۔ امریکہ کی سرزنش سے ڈرتے ہوئے روس سے سستہ تیل اور ایران سے سستی گیس نہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایسے حکمرانوں کو اب انتخابات ہارنے کا بھی ڈر نہیں رہا۔ جو شخص اس غلامی کے خلاف کھڑا ہونا چاہتا تھا اس کو جیل کی کال کوٹھری میں بند کر دیا ہے۔ان حالات میں خداواند کریم سے امداد کی توقع رکھنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔سوچنے کی بات ہے اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں بھی لاگو کرے گا تو کیا پاکستان کے حالات اور ابتر ہو جائیں گے؟یا اس سے اور بر تر کیا ہونگے؟ بہتر بھی ہو سکتے ہیں۔یاد رکھیں۔ جو قوم اپنی افرادی قوت پر سرمایہ کاری نہیں کرتی وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ ان کو تعلیم اور صحت سے محروم کرنا سب سے جاہلانہ حرکت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں