نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام میںکب پیش رفت ہو گی؟

59

عمران خان نے 2018 میںجب وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالی اور قوم سے پہلا خطاب کیا، تو کچھ بہت حوصلہ افزأوعدے بھی کیے، جن میں سے ایک غریبوں اور کم تنخواہ دار ملازمین کے لیے پچاس لاکھ گھر بناناتھا۔ یہ پروگرام پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ بنایا گیا۔ اس منشور میں بتایا گیا کہ ملک میں ایک کڑوڑ گھروں کی کمی ہے اور جس میں ہر سال آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گی۔ اس گرانقدرمنصوبہ کی تکمیل کے لیے، مندرجہ ذیل اصولوں پر عمل کیا جائے گا:
خواہشمندوں کی قوت خرید بڑھانے کے لیے، انہیں پندرہ سے بیس سال کی معیاد کے قرضوں کی سہولت دی جائے گی۔مکانوں کی تعمیر میں خرچ کم رکھنے کے خیال سے ڈیزائین کے معیار اور ضروریات کو یکساںرکھا جائے گا۔ اجازت ناموں میں جلدی کی جائے گی اس سے اخراجات کم ہونگے۔ ضروری سہولتوں کے ساتھ نئی آبادیا ںبنائیں گے۔تعمیر کنندگان کے اخراجات میں آسان قسطوں پر زمین ، جلد منظوری اور شہری سہولتوں کی جلد فراہمی سے خاطر خواہ کمی ہو گی۔ کم از کم وقت میں منصوبوں کی تکمیل کے لیے، تعمیر کنندگان کو قرضے ملیں گے جس سے بالآخر صارفین کو فائدہ ہو گا۔ہمارا تخمینہ ہے کہ مندرجہ بالا عوامل سے یہ گھر ۱۵ سے ۲۰ فیصد کم خرچ پر بنیں گے۔اور ان اقدامات کی وجہ سے پہلے تین سال میں مستفید ہونے والے عوام کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ہو گا۔اور موجودہ حالات میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ لوگ اس منصوبہ سے فا ئدہ اٹھا سکیں گے۔اس تعمیراتی کام سے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ بھی پورا ہو گا کیونکہ اندازہ ہے کہ ایک گھر بننے سے ۲۰ لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔انکے علاوہ بینکنگ، تعمیرات کی دیکھ بھال اور انشورنس کے شعبوں میں ایک سے تین لاکھ ملازمتیں کھلنے کے امکانات ہونگے۔ایک تخمینہ کے مطابق ایک گھر کی قیمت اوسطاً تیس لاکھ روپے ہو گی۔ منشور کے مطابق نیا پاکستان ہائوسنگ اتھاریٹی کا وفاق اور صوبائی سطح پر قیام اور ضروری قوانین کا نفاذ پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے منشور سے جو عام آدمی کی ضرورت کے جو گھر بنیں گے انکی منصوبہ بندی میں معلوم ہوتا ہے کی کسی حد تک اورنگی کے پائلٹ منصوبہ سے حاصل کردہ اسباق کو استعمال کیا گیا ہے لیکن ایک حد تک، کیونکہ اس منصوبہ میں مستفید ہونے والی آبادی کی شمولیت شروع سے ہی یقینی بنائی گئی تھی۔تفصیل اس اجمال کی ملاحظہ ہو۔
پاکستان میں کراچی کی شہری آبادی کے لیے غریبوں اور کم آمدنی والے لوگوں کے لیے ایک قابل ِعمل، دیر پا اور کم خرچ گھر بنانے کا اورنگی کا پائلٹ منصوبہ تھا (OPP)، اور اسقدر کامیاب کہ دنیا میں اس کے ڈنکے بجے۔اس منصوبہ کا خیال اور اس کو عملی جامہ پھیلانے کا سہرا شہرہ آفاق سرکاری افسر اور دانشور اختر حمید خان کو جاتا ہے۔خان صاحب تو اب بقید حیات نہیں، البتہ شاید ان کے قریبی رفیق شعیب سلطان صاحب ہوں جو اس سارے منصوبے میں ان کے ساتھ رہے۔ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کی اورنگی کی کچی آبادی میںگندے پانی کے نکاس کا شدید مسئلہ تھا۔ یہ 1980کی دہائی کا زمانہ تھا۔ تو اختر حمید خان جو دیہاتی ترقی کا فقید المثال تجرباتی منصوبہ مشرقی پاکستان کے ضلع کومیلا میں چلا کر آئے تھے، انہوں نے اورنگی کے مسئلے کو شہری آبادی کی رہائش بہتر بنانے کا چیلنج سمجھا۔ اور اس کا حل کچھ ایسے سوچا کہ اس منصوبہ کی کامیابی سے سارے ملک کی شہری کچی آبادیوں کو تبدیل کیا جا سکے۔
اختر حمیدخان صاحب کے منصوبہ کی خاص بات علاقہ کے عوام کی بھر پور شمولیت تھی۔ایک دفعہ جب بستی والوں کو منصوبہ سمجھ آ گیا تو انہوں نے اپنے علاقہ کے مسائل کے حل میںبڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور نہ صرف سینی ٹیشن کا معقول انتظام بنایا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صحت عامہ، مکانوں کی تعمیر اور چھوٹے قرضوں کی فراہمی کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا۔اس منصوبہ کی حکمت عملی کے نتیجہ میں تین غیر حکومتی رفاہی ادارے ظہور پذیر ہوئے۔ ان تینوں اداروں نے مخصوص شعبوں میں اپنا کردار ادا کیا۔ ایک کا کام تحقیق اور تربیت تھا۔ دوسرے کا چھوٹے قرضوں کا ذمہ وار تھا اور تیسرا، صحت اور معاشرتی بہبودکا کام کرتا تھا۔اس منصوبہ کا ایک قابل ذکر کارنامہ تھا کہ علاقہ کے عوام نے خود اپنی کوششوں سے اور اپنے پیسے سے ، کم خرچ والاگندے پانی کے نکاس کا نظام بنایا۔بلا شبہ اختر حمید خان کی قیادت میں انکو رہنمائی بھی ملی اور حوصلہ افزائی بھی۔آج بھی ان کا تحقیق اور تربیت کا ادارہ سارے کراچی کو فائدہ پہنچا رہاہے۔ لیکن کراچی کی بد قسمتی کہ اس شہر کی لوٹ مار کرنے والوں نے اس ادارے کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس ادارے کی ہر دلعزیز اور نہایت قابل ڈائیریکٹر پروین رحمان کو ۱۳ مارچ 2013 کو سفاکی کے ساتھ قتل کر دیا گیا، غالباً کسی زمین کے تنازعہ میں۔غالب کا شعر ہے جو یاد آ رہا ہے: ؎ مقدورہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم۔ تو نے وہ گنج ہائے گراں ما یہ کیا کیے!
اختر حمید خان نے اورنگی کیوں چنا اور وہاں کے باسیوں نے ان کی بات کیوں سنی؟ ممکن ہے کہ یہ آبادی زیادہ تر ان بہاریوں کی تھی جو بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان لائے گئے تھے۔ خان صاحب نے کیونکہ ایک بڑا وقت مشرقی پاکستان میں گزارا تھا ، انہیں ان بہاریوں کے ساتھ ہمدردی بھی تھی اور وہ ایک دوسرے کی بات سمجھتے تھے۔کون کہہ سکتا ہے کہ اگریہ بستی بہاریوں سے آباد نہ ہوتی تو کیا پھر بھی بستی والے اس طرح جوش و خروش کے ساتھ اپنی بہتری کے پراجیکٹ میں حصہ لیتے؟ شاید! اختر حمید خان صاحب نے اگر ایک دوسری زبان اور دوسری تہذیب کے دیہاتی عوام کے ساتھ رہ کر ایک انقلاب برپا کر دیا تو وہ کسی بھی زبان اور تہذیب کے عوام کے ساتھ ترقیاتی عمل کامیاب کروا سکتے تھے۔اس لیے ہمیں ان کے طریق کار پر توجہ دینی ہو گی اور انکے اورنگی پائلٹ کو وسیع تر سطح پر لے جانا ہو گا۔تبھی پتہ چلے گا کہ وہ پائلٹ ایک منفرد ذاتی کامیابی تھی یا ان کے تجرباتی ماڈل میں ترقی کی کلید پنہاں تھی جو کہیں بھی کسی بھی طبقہ میں کامیابی کی ضامن بن سکتی ہے۔ اس راقم کی رائے میں اورنگی سے حاصل کردہ اسباق کا بغور مطالعہ کیا جائے اور عمرا ن خان اپنے سو لاکھ مکانوں کی تعمیر میںان اسباق سے حاصل کردہ شواہد کو بروئے کار لا کر اپنے منصوبوں میں چار چاند لگا سکتے ہیں۔ اور ترقی کے عمل کو دیر پا، تیز تر اور کم خرچ بھی بنا سکتے ہیں۔
اب ایک اور امر اسی سلسلہ کا ہے جسے آپ بلڈنگ مٹیریل سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں صدیوں سے سیمنٹ اور لال مٹی کی اینٹوں سے مکان بنائے جانے کا رواج ہے۔ آج کل البتہ اس قسم کی ساخت میں بہت سی اختراعات ہو چکی ہیں۔ ان میں سے راقم ایک کا ذکر ضرور کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہے پہلے سے تیار شدہ مواد(pre-fabricated) ۔ ایسے مٹیریل سے تیار شدہ عمارت کو پری فیب گھر کہتے ہیں۔ یہ ایسے مواد سے بنایا جاتا ہے جو کسی فیکٹری میں تیار ہوتا ہے اور وہاں سے جائے تعمیر پر پہنچایا جاتا ہے اور اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ایسے گھروں کی بہت قسمیں ہیں۔مثلاً موبایل ہوم جو فیکٹری میں تیار کئے جاتے ہیں اور بڑے ٹرکوں پر لاد کر منتخب زمین کے پلاٹ تک پہنچائے جاتے ہیں۔ امریکہ کے دیہاتی علاقوں میں ان کا کافی رواج رہا ہے۔البتہ پری فیب موڈولر گھر البتہ گھر کے پہلے سے بنے ہوئے اجزا سے بنائے جاتے ہیں۔ ہر جزو میں اکثر بنیادی ضرورت کی تمام چیزیں جیسے پانی کے پائپ، بجلی کی تاریں، دروازے اور الماریاں پہلے ہی سے بنی ہوتی ہیں۔ ان اجزاء کو موقع پر لا کر جوڑ دیا جاتا ہے۔اس طرح گھر دنوں میں تیار ہو جاتا ہے۔ان پری فیب میں مختلف شکلیں ہیں۔ مثلاً پینل یا پوری بنی بنائی دیوار یا کِٹ گھر۔ پینل فیکٹری سے منگوا کر آپ دنوں میں مکا ن کھڑا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کِٹ ہوم کے تمام بنے بنائے اجزا ایک کِٹ کی صورت میں پہنچا دئیے جاتے ہیں جسے ماہر معماربہت تھوڑے وقفہ میں مکان کی شکل دے دیتے ہیں۔ہر سائز کے گھر پری فیب سے بن جاتے ہیں ۲۵۰ مربع فٹ سے ۰۰۰،۳ مربع فٹ تک کے۔
پری فیب مکان کی تعمیر پر کم لاگت آتی ہے ایک تو اس میں لگی لگائی سہولتیں ہوتی ہیں دوسرے اس سے مزدوری کم لگتی ہے۔پاکستان میں غالباً ابھی یہ ٹیکنالوجی نہیں پہنچی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی فیکٹریاں بن نہیں سکتیں۔ جب لاکھوں مکان بنانے کے منصوبے ہوں تو ایسی فیکٹریاں بنانا منافع بخش کام ہو سکتا ہے۔خریدار چاہیں تو پری فیب میں کھڑکیاں، فرش، بجلی کی وائرنگ، دروازے تک شامل ہو سکتے ہیں۔ایسے گھر ان مقامات پر زیادہ منافع بخش ہوتے ہیں جہاں سڑکوں، سیور، پانی کے پائپ پہلے سے موجود ہوں اور زمین ہموار ہو۔ ایسے مکان کی بنیاد بنانا ایک علیحدہ مرحلہ ہے۔سائز اور بناوٹ کے حساب سے ایک پری فیب گھر چار سے چھ ماہ میں تیار ہو سکتا ہے۔پری فیب کے اور بھی فوائد ہیں۔ بجائے اس کے کئی قسم کی کمپنیاں مختلف ٹرکوں پر سامان بھیجیں، بنا بنایا گھر کا سامان ایک ہی وقت میں پہنچ جاتا ہے۔کچھ لوگ سولر پینلز اور بارش کا پانی جمع کرنے کی سہولت پینل میں لگوا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی کئی امکانات موجود ہیں۔اگر حکومت اس طریق کار میں دلچسپی لے تو پاکستان میں ایسے سرمایہ داروں کی کمی نہیں جو ایسا سامان بنانا شروع کر دیں۔
پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے اور آئندہ پچاس سال تک بڑھتی رہے گی اس لیے گھروں کی ضرورت بڑھے گی۔ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے ا س لیے نجی شعبہ کو اگر سہولتیں ملیں تو یہ بہت تیزی سے ترقی کرے گا۔ حکومت کی ذمہ واری ہے کہ وہ اپنی رہنمائی اور نگہبانی کا موثر انتظام کرے تا کہ گھٹیا لوگ گھٹیا سامان لگا کر تعمیر نہ کریں۔
ایک اور گذارش ہے کہ پاکستان میں مکان بنانے کے شوقینوں نے بہت سی زرعی زمینوں کو ہڑپ کیا ہے جس سے ملک میں خوراک اور دوسری فصلوں کے اُگانے کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ تر عمارتیں دو اورتین منزلہ ہوں۔ کثیر التعداد گھر بنانے کے اور بھی فائدے ہو سکتے ہیں جیسے بستی میں سکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کی موجودگی آسان کی جا سکتی ہے۔ ایسی بستیوں میں تجارتی منڈیاں، تفریح گاہیں، فائر اور پولیس سٹیشنز، کو بھی مرکوز کیا جا سکتا ہے ۔ اگر ایسی بستیاں بڑے شہروں کے نزدیک بنیں گی تو اہل بستی کو روزگار کی تلاش میں دور نہیں جانا پڑے گا۔ہر ایسی بستی میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سہولت لازمی ہو۔ مصالحتی عدالتیں اور یونین کونسل کے دفاتر نزدیک ہوں۔جائداد کی ملکیت، منتقلی اور خرید و فروخت کے قوانین اور طریق کار آسان اور قابل اعتماد ہوں۔جو لوگ جائداد کی خرید و فروخت کا کام کریں ان کے لیے ضروری قوانین کی مہارت کا ہونا لازمی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے اس انتہائی ضروری پروگرام پر خاطر خواہ ترقی نہیں ہو رہی۔ غالباً ضروری قانون سازی (جیسے جائداد کی قرقی کا قانون) ابھی تک نہیں بنا۔ جس کی وجہ سے بینک قرضے دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ بہت سے لوگ قرضہ لیکر مکان کی شروعات تو کر دیں گے لیکن بینک کی قسطیں نہیں ادا کر سکیں گے اور معاملہ عدالتوں اور کچہریوں میں چلا جائے گا۔ اس لیے جب تک کوئی واضح اقدام نہیں لیے جاتے اس پروگرام کے چلنے میں روکاوٹیں رہیں گی۔ اس کام میں سست روی کا ذمہ وار کون ہے؟ اس کا تعین تو وزیر اعظم خود ہی کرسکتے ہیں!

Leave A Reply

Your email address will not be published.