صدارتی نظام کا شوشہ بنیادی آئینی اصولوں سے انحراف

30

بے شک عہد جدید میں جمہوری اور مہذب ریاستوں میں آئین ایک مقدس کتاب بن چکا ہے جس پر جدید ریاست کا وجود قائم ہوتا ہے جو آسمانی کتابوں کے بعد انسانی کتابوں کا مجموعہ ہے جو ہر ملک نے اپنے اپنے عوام کی خواہشوں کے مطابق نافذ کررکھا ہے، مزید برآں دنیا بھر کے دستاویز میں بنیادی اصول طے پائے جاتے ہیں جن کو بدلنا ناممکن ہوتا ہے جس کی وجہ سے آئین کو بدلنا بھی مشکل ہوتا ہے، آئین پاکستان میں بھی بنیادی ڈھانچے میں بنیادی اصول طے پا چکے ہیں جس میں آئین ساز اسمبلی نے مشترکہ اور متحدہ کاوشوں سے آئین پاکستان بنایا جس میں اسلامی جمہوریہ، انسانی، شہری بنیادی حقوق اور دوسری شقوں کے علاوہ یہ بھی قرار دیا گیا کہ پاکستان میں ایک پارلیمانی نظام حکومت ہو گا جس میں ملک کے تمام صوبوں اور اکائیوں کو خودمختاری حاصل ہو گی جس کا وعدہ قرارداد پاکستان میں لیا گیا تھا کہ اکثریتی مسلم صوبوں اور ریاستوں میں بننے والے پاکستان میں صوبے اور ریاستیں بااختیار اور خودمختار ہوں گی جس کے لئے لازم ہو گا کہ پاکستان میں ایک پارلیمانی نظام ہو گا ،آخر کار 1973ء کے آئین میں طے پاگیا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت ہو گا جس میں ایک پارلیمنٹ، صدر، قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہو گی جو قانون سازی کرے گی دوسری عدلیہ ہو گی جو قانو ن اور آئین کی تشریح کرے گی، تیسری انتظامیہ ہو گی جو قانون پر عملدرآمد کرائے گی جس کے اداروں کو بدلا نہیں جا سکتا، چونکہ قانون ساز اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے جس نے آئین بنایا تھا اب ملک میں قانون ساز اسمبلی بنتی ہے جو آئین میں گاہے بگاہے بعض شقوں میں ترمیم کرتی ہے مگر آئین کے بنیادی اصولوں کو ختم نہیں کر سکتی، نہ ہی کوئی طاقت یا پارلیمنٹ آئین کو منسوخ یا معطل کر سکتی ہے جس کی منسوخی پر جنرل یحییٰ خان کے خلاف 1972ء میں فیصلہ آیا جس پر عملدرآمد نہ کرایا گیا، بعدازاں تقریباً چالیس سال بعد پھر ایک اورجنرل مشرف کے خلاف سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جنرل مشرف کے تین نومبر 2007ء کے تمام اقدام جس میں آئین کی معطلی کالعدم قرار دیتے ہوئے مجرم جنرل مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ غداری قائم کرنے کا حکم دیا جس میں موجودہ بعض جج صاحبان بھی شامل تھے، لہٰذا جن جنرلوں نے آئین توڑا، منسوخ یا معطل کیے تھے وہ غداری کے مرتکب ہو چکے ہیں جن کے قبروں کے ٹرائل ہو سکتے ہیں جس طرح جنرل مشرف کا ٹرائل ہوا جن کو سپریم کورٹ کی خصوصی عدالت نے چیف جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں سزائے موت کی سزا سنائی جس کے ردعمل میں بڑے بڑے دربان ا ور بلوان اٹھے کہ جنرل کبھی غدار نہیں ہوتا ہے جبکہ آئین پاکستان چیخ چیخ کر اعلان کررہا ہے کہ اگر کوئی غاصب اور قابض شخص آئین پاکستان کو معطل یا منسوخ کرے گا یا کوئی تعاون کرے گا تو وہ مقدمہ غداری کا مرتکب ہو گا جس کی سزا موت ہے مگر بلوانوں اور دربانوں نے لاہور ہائیکورٹ جس کو خصوصی عدالت کے اختیار حاصل نہیں ہے اس سے الٹا سیدھا فیصلہ کراکر جنرل مشرف کو بچانے میں لگ گئے جبکہ سزا اب بھی برقرار ہے جس پر کبھی بھی عملدرآمد ہو سکتا ہے، انتظار صرف اس حکومت کا ہے جو عوام سے منتخب ہو کر آئے گی، علاوہ ازیں دنیا بھر کے آئین میں مارشل لاء ایک لیگل ٹرم کہلاتا ہے جس میں ملک کا منتخب سربراہ صدر یا دوسرا عہدیدار ملکی برے حالات جس میں لاقانونیت یا خانہ جنگی کی حالت میں ملک کے ان علاقوں میں مارشل لا نافذ کر سکتا ہے جس طرح امریکہ میں کئی مرتبہ مارشل لاء نافذ رہا ہے لیکن پاکستان کے آئین میں مارشل لاء کی گنجائش نہیں ہے تاکہ مارشل لاء کی آڑ میں باغی جنرل ایوب خان کی طرح صدر سکندر مرزا کے مارشل لاء کی توسیع پر ملک پر قبضہ کر لے حالانکہ سکندر مرزا کا بارہ اکتوبر 1958 کا مارشل لاء بھی غیر قانونی تھا جنہوں نے مارشل لاء سے پہلے 1956ء کا آئین منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد وہ مارشل لاء نفاذ نہیں کر سکتے تھے چونکہ صدر سکندر مرزا اور وزیر دفاع آرمی چیف جنرل ایوب خان کی ملی بھگت تھی جنہوں نے پاکستان کا آئین منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کی حکومت پر قبضہ کر کے انہیں جلا وطن کر دیا تھا، جو جنرلوں کے درمیان دھوکہ دہی احسان فراموشی اور خودغرضی کی علامت پائی جاتی ہے جو انہیں فرنگیوں سے ورثے میں ملی ہے کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی طرح چاپلوسی کرو اور دھوکہ دو، ایٹم بم بنوائو اور پھانسی دو، قتل کرو اور تختے الٹو، بہرحال صدارتی نظام کے بارے میں بحث و مباحثے آئین پاکستان کی خلاف ورزری اور ملک توڑنے کے مترادف ہے، یہ جانتے ہوئے کہ ملک میں صدارتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دوم پاکستان میں مختلف اقوام بستی ہیں جن کے اپنے اپنے لسان، نسل اور کلچر ہیں جو صرف اور صرف پارلیمانی نظام حکومت میں متحد رہ سکتی ہیں جس کا مظاہرہ 1971ء میں ہو چکا ہے کہ جب جنرل ایوب خان کے دور آمریت میں مغربی پاکستان کے صوبوں کو ون یونٹ بنا کر ایک صوبہ بنا کر مشرق پاکستان کو نیچا دکھایا گیا تو ملک ٹوٹ گیا، آج پھر صدارتی نظام کے تحت پنجاب کے مقابلے میں تین صوبوں اور اکائیوں کا ون یونٹ بنا کر صوبائی خودمختاری کو ملیا میٹ کرنے کی سازش ہورہی ہے تاکہ ملک پھر ایک مرتبہ 1971کے سانحہ سے دو چار ہو، قصہ مختصر صدارتی نظام ایک سازش ہے جس کے خلاف عوام کو اٹھنا ہو گا کہ اگر آئین نہ رہا تو ملک باقی نہیں بچے گا، لہٰذا اب کسی بھی آئین کے خلاف مہم جوئی، ڈاکہ زنی، قبضہ گری کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جو بھی شخص صدارتی نظام یا اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی بات کرتا ہے وہ دراصل پاکستان توڑنے کی سازش میں ملوث ہے اس لئے پاکستانیوں کو اپنے آئین کو بچانا ہو گا، آئین نہیں تو پاکستان نہیں ہو گا، جس کے بغیر بنگلہ دیش بن چکا ہے اگر اب پھر کوئی آئین کے خلاف حرکت ہوئی تو کوئی دوسرا دیش بن جائے گا، یہ سب کچھ وہ طاقتیں کررہی ہیں جنہوں نے قائداعظم کا حکم نہ مانا، لیاقت علی کا قتل کیا تھا، بھٹو کو پھانسی دی تھی، بے نظیر بھٹو کو مارا تھا اور نواز شریف کو ہٹایا تھا، وہ طاقتیں اب پھر زور پکڑ رہی ہیں جن سے پاکستان کو خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.