امن کی فاختہ

Fredrick Combsنے لکھا طاقت کا مظاہرہ ازل سے ہوتا چلا آیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ طاقت کے سامنے دبی دبی زبان میں بیچارگی نے اپنی بات ضرور کہی ہے چاہے فریاد کی شکل میں ہو یا آنسوؤں کی صورت میں،کہیں ہمت ملی تو بغاوت بھی نظر آئی،ایک واقعہ یونان کی تاریخ میں ملتا ہے کہ بادشاہ نے ایک شخص کو قتل کرا دیا،قتل رازداری سے ہوامگر راز چھپ نہ سکا ایک دیوانے کو خبر ہوئی تو وہ ایتھنز کی گلیوں میں کہتا پھرتا کہ بادشاہ قاتل ہے بات پھیلتی گئی لوگ مضطرب ہوتے گئے،بات کھسر پھسر سے نعروں تک پہنچ گئی بغاوت ہوئی اور بادشاہ کو بھاگنا پڑا،ایسے واقعات دنیا کے ہر ملک کی تاریخ میں مل جاتے ہیں،Fredrick Combsکہتا ہے کہ طاقت ور امن کی بات نہیں کرتے امن کی بات ہمیشہ کمزور لوگوں نے کی ہے اور ایسا بھی ہوا کہ امن کی بات کرنے والے مضبوط ہوگئے اور طاقت کے سامنے ڈٹ گئے اور حالات تبدیل ہو گئے کمزور لوگ سوچنے والے ہوتے ہیں طاقت سوچتی نہیں ،طاقت ور کی زبان ہی قانون بن جاتی ہے کمزور اور طاقت ور کی اس کشمکش میں نئی راہ نکلتی ہے قانون بن جاتے ہیں ۔طاقت کے کچھ اختیارات کم ہو جاتے ہیں ،چانکیہ کا نام سنا ہوگا کچھ نابالغ لوگ چانکیہ سے اسی لئے نفرت کرتے ہیں کہ وہ ہندو تھا۔ہندو ضرور تھا مگر پتے کی باتیں کرکے گیا چانکیہ نے کہا کہ حکمرانی کے لئے جہاں طاقت چاہیئے وہاں عوام کے لئے مہربانی اور رحم دلی بھی چاہیئے جو انصاف سے ہم آہنگ ہو،مقدمہ ابنِ خلدون میں بھی حکمرانی کے گر بتائے گئے ہیں اور کہیں ابنِ خلدون کی تحریر میں چانکیہ کے تاثرات بھی ملتے ہیں دونوں کے زمانے مختلف ہیں مگر خیالات میں بہت مماثلت ہے ابنِ خلدون کے بعد میکاولی تک بہت فاصلہ ہے زمانے کے حالات بدل گئے مگر میکاولی نے جو کچھ لکھا ،حکمرانی کے جو گر سمجھائے سیاست سمجھائی وہ چانکیہ اور ابنِ خلدون سے مختلف نہیں،چانکیہ ہو، ابنِ خلدون ہو یا میکاولی،فرد کی حفاظت حکمرانوں پر فرض کر دی گئی،فرد کی حفاظت کے بغیر حکمرانی فرعونیت ہی ہوگی فرد کی حفاظت کے لئے کچھ اقدامات کرنے ہوتے ہیںمیکاولی کے مطابق یہی وہ مقام ہے کسی خطہء زمین پر امن و سکون کے لئے ضابطوں کی ضرورت محسوس ہوئی ،اور یہی سوچ ہمیں Magna Cartaتک لے آئی ،اس سوچ میں وسعت پیدا ہوئی تو اقوام متحدہ کے قیام کے بارے میں سوچا گیابنیاد امن ہی رہی ،معاشرے میں فساد پیدا نہ ہومگر فی زمانہ بھی حکمرانوں کے ذہن میں طاقت کے بے تحاشا کی خواہش ہوتی ہے وہ اس لئے کہ انہیں کوئی روکنے والانہیں ہوتا ،اور وہ سارے اصولوں اور ظابطوں کو روند سکتے ہیں،چنگیزیت کا مظاہرہ غزہ میں نظر آیا اور پھر ایران پر بے جواز چڑھائی میں ،یہ چڑھائی عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی مگر ٹرمپ نے ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ وہ عالمی قوانین کو نہیں مانتے اور صرف وہ خود ہی اپنے آپ کو روک سکتے ہیں اگر وہ چاہیں۔
ایران امریکہ اور اسرائیل کی بمباری سے تباہ تو ہوگیا، اس کا انفرا اسٹکچر برباد ہوگیا، ایران کے اسکول، یونی ورسٹیاںاور پل بھی بمباری سے نہ بچے مگر ایران کا اسرائیل اور امریکہ کو جواب بہت کرارا تھااس نے جنگ کو پھیلا کر امریکہ کو مشکل میں ڈال دیاامریکہ کو اس جواب کی توقع نہیں تھی ایران نے جنگ کو طول دے کر امریکہ کے لئے جنگ کو بہت مہنگا کر دیا امریکہ جنگ پر ہر روز دو بلین ڈالرز خرچ کر رہا تھا ،اس جنگ نے خلیجی ممالک کے لئے بھی معاملات نا گفتہ بہ کر دیئے اور ان کا امریکہ پر دباؤ بڑھ گیا کہ جنگ بند کی جائے امارات کی خواہش تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ کو جاری رکھا گیا اس جنگ کے اثرات پورے خطے پر پڑ رہے تھے پاکستان نے ترکیہ،مصر ،چین کی مدد سے سفارتی کوششوں کا آغاز کیا اور غیر متوقع طور پر امریکہ نے پاکستان کی ثالثی کو قبول کر لیا،پاکستان میں ایرانی اور امریکی وفود آئے ایران وفد میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرقالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے امریکی وفد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وٹکاف،اور جیرالڈ کشنز تھے دونوں وفود میں مذاکرات کے طویل دورانیئے رہے،اکیس گھنٹوں تک مسلسل مذاکرات ہوئے بہت سی باتوں پر اتفاق ہو چکا تھا اور کہا گیا کہ اتوار کو بھی مذاکرات کا ایک دور ہوگامگر چندگھنٹوں بعد جے ڈی وینس نے واپس جانے کا اعلان کر دیا،یہ غیر متوقع تھا امید کی جا رہی تھی کہ دوسرا دور ہوگا تو معاہدہ ہو سکتا ہے،مگر ایسا نہ ہو سکا،تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ جے ڈی وینس کو معاہدے کا کریڈٹ نہیں دینا چاہتے تھے اس لئے وینس کو واپس بلا لیا،قالیباف نے بھی کہا ہم معاہدے سے Inches awayتھے جب امریکہ کے نئے مطالبات سامنے آگئے اور بات چیت ٹوٹ گئی،وینس نے کہا کہ تمام دوسرے معاملات پر اتفاق تھامگر جوہری معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا،ایران جوہری پروگرام کو پانچ سال کے لئے معطل کرنے کے لئے تیار تھا مگرامریکہ کا اصرار تھا کہ جوہری پروگرام بیس سال کے لئے معطل کیا جائے،جے ڈی وینس نے فاکس کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا چار سو پچاس کلو گرام افزودہ یو رینیم امریکہ کے حوالے کرے،ایران اس بات پر تیار نہ تھا مذاکرات کو ادھورا چھوڑ کر جے ڈی وینس امریکہ واپس چلے گئے ذرائع نے بتاتا کہ جے ڈی وینس نے جہاز پر سوار ہونے کے بعد اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو تمام مذاکرات کی رپورٹ دی،یہاں رپورٹ کا لفظ بہت معنی خیز ہے رپورٹ کے معنی یہی لئے جائیں گے کہ ایک ماتحت نے اپنے superiorکو تمام حالات کی رپورٹ دی،یہ بات نارمل نہیں ہے مگر اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کس حد تک امریکی انتظامیہ میں دخیل ہے اور حاوی ہے،جنگ کے دوران یورپ اس قضئیہ سے دور رہا ،اب ٹرمپ نے ایک طرف دوبارہ مذاکرات کی بات کی ہے تو دوسری طرف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی ہے کہاں وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کی بات کر رہے تھے کہاں انہوں نے خود آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی ، مگر ایران اب بھی reselient ہے اس دوران اگر ایک گولی چل گئی تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے دنیا بھر کے تجزیہ کار کہہ رہے کہ ٹرمپ اس ناکہ بندی کو زیادہ دیر قائم نہیں رکھ سکتے بقول ٹرمپ دس ہزار فوجی، درجنوں طیارے اور بحری جہاز ناکہ بندی میں حصہ لے رہے ہیں،ان پر کثیر ٹیکس منی صرف ہو رہی ہے اسی لئے امریکہ کے اندر یہ murmur ہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں اور ٹرمپ اسرائیل کی جنگ لڑ رہے ہیں،برنی سینڈرز ٹرمپ کے بہت بڑے ناقد ہیںکچھ سابق intelligence عہدیداروں نےٹرمپ کے مواخذے کی بات کی ہے اور مشی گن کی ایک رکن کانگریس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ فوجی ٹرمپ کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیں اور آئین ان کو پورا تحفط فراہم کرتا ہےٹرمپ پر بے انتہا دباؤ ہے اس لئے وہ دوبارہ مذاکرات پر تیار ہو گئے ہیں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان میں ہی ہوگا،اور امکان ہے کہ اگلے ہفتے کسی وقت اسلام آباد میں یہ مذاکرات ہو سکتے ہیں،پاکستان خطے کی صورتِ حال کے پیش نظر
امن کا خواہاں ہے پاکستان سمیت تمام خلیجی ممالک گرتی ہوئی معیشت کے بارے میں فکر مند ہیں اس لئے پاکستان کی امن کی کوششوں کو بہت قدر کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے مذاکرات سے قبل اور مذاکرات کے بعد فیلڈ مارشل اورشہباز شریف کی بہت تعریف کی جا رہی ہے اور بجا طور پر وہ اس تعریف کے مستحق ہیںاب دوسرے مذاکرات کےراؤنڈ کے لئے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں شہباز شریف سعودیہ ترکیہ قطرکے دورے پر چلے گئے ہیں ان تینوں ملکوں سے جنگ کے خاتمے پر بات ہوگی،اسحق ڈار کے ساتھ خارجہ امور کا بڑا دماغ طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہیںادھر فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ تہران پہنچ چکے ہیں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ
احتیاط بہت زیادہ ہے پہلے مذاکرات کی تفصیل بھی صحافیوں کو نہ مل سکی تھی امریکی چینلز بھی speculations پربات کر رہے تھے اب بھی میرا خیال ہے کہ مذاکرات سے پہلے وفود کی سطح پر تمام معاملات طے کر لئے جائیں اورمعاہدے پر دستخط کرنے کا مرحلہ آسانی سے طے کر لیا جائے اور مکمل جنگ بندی ہو جائے ایران کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ جنگ بندی مستقل ہونی چاہیئے اور اس بات کی ضمانت فراہم کی جائے کہ ایران پر دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔پاکستان نے ایک طرف امن کے لئے مخلصانہ کوششیں کرکے دنیا کو متاثر کیا ہے تو دوسری طرف پاکستان ایک اچھاnegotiatorاور mediator بن کر ابھرا ہے اس کی سفارت کاری کی دنیا بھر میں تعریف کی جا رہی ہے عالمی میڈیا نے بھی پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کی تعریف کی ہے اخبارات میں شہہ سرخیاں لگی ہیں ادارئیے لکھے گئے ہیں ٹاک شوز میں بار بار پاکستان کا ذکر ہوا ہے یہ بہت بڑی بات ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی ثالثی کو قبول کر لیا ہے ۔امن ایک خوبصورت چیز ہے اور امن کی کوششیں اس سے بھی زیادہ حسین بات ،امن کی فاختہ اور olive branchاستعارے ہیں مگر نفرتوں، اناؤںاور مخاصمتوں کے اس دور میں امن کی کوشش کرنا اور اس کے نتیجے میں امن قائم ہوجانا ایک معجزے سے کم نہیں۔



