Select Language
ہفتہ وار کالمز

وہی ڈھاک کے تین پات ؟!

نشستن، گفتن، برخاستن اور پھر ٹائیں ٹائیں فش۔
پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں جو مذاکرات جنگی فریقین، امریکہ اور ایران کے مابین جمعہ، 10 اپریل کو منعقد ہوئے تھے وہ 21 گھنٹے کی طوالت کے بعد کسی سمجھوتہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے، اور ایسے عالم میں بے نتیجہ رہے جب دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد کی طر ف لگی ہوئی نہیں بلکہ گڑی ہوئی تھیں اور دنیا بھر کے مبصرین ان مذاکرات کے نتیجہ کے ضمن میں اپنے سانس روکے اور اپنے قلم تھامے بیٹھے تھے!
ویسے حقیقت حال کا یہ منطقی تقاضہ ہے کہ ایسے پیچیدہ مذاکرات میں جن میں دونوں فریق گذشتہ 47 برس سے ایک دوسرے کے خلاف شکایتوں کے محضر جمع کرتے رہے ہیں اور جن کے موقف میں قطبین کا فاصلہ اور فرق ہے کسی سفارتی حل کا ایک ہی نشست میں، چاہے اس کا دورانیہ 21 گھنٹے پر محیط ہی کیوں نہ ہو، نکلنا اپنے تخئیل کو بہت لمبی پرواز کروانے کے مترادف ہے !سفارتی عمل ہمیشہ وقت چاہتا ہے۔ یہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا کام نہیں ہے جو گھڑی کی چوتھائی میں مکمل ہوجائے۔اس خاکسار نے اپنی زندگی کے چھتیس (36) برس سفارت کاری کے خارزار میں بتائے ہیں۔ تو ہم یہ جانتے ہیں کہ سفارتی عمل اپنی کامیابی کیلئے صبر کا سرمایہ مانگتا ہے۔ سفارت کار کے پاس بندوق یا توپ نہیں ہوتی جسے داغ کر وہ اپنی منشاء پوری کرلے یا اپنا ہدف حاصل کرسکے۔ ایک سفارتکار کا اثاثہ صرف اس کے الفاظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے ہم مذاق میں کہا کرتے تھے کہ ہم لفظوں کے تاجر ہیں!اب لفظوں کی تجارت میں یہ توہوتا نہیں کہ گولی داغیں اور ہدف حاصل کرلیں یا اپنے شکار کو مار گرائیں۔ اسی لئے اٹلی کے جغرافیہ میں وہ جو ایک علاقہ ہے، وینس کا، اس کے لوگ، اس کے دانشور جدید سفارتکاری کے باوا آدم شمار کئے جاتےہیں۔ مارکو پولو، جو اپنی سیاحت اور اس سے منسلک سفارت کیلئے تاریخ کا ایک بڑا نام ہے، اس کا تعلق بھی وینس سے تھا۔تو جدید سفارت کاری کے موجد وینیشئین کا یہ قول ہے کہ ایک فوجی یا سپاہی بدترین ہوتا ہے سفارت کاری کیلئے اسلئے کہ ایک سپاہی کو تو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ اسے سیاہ اور سفید کا فرق یاد رکھتے ہوئے اپنا ہدف حاصل کرنا ہے لیکن، میاں!سفارت کار سیاہ اور سفید کے درمیان جو سلیٹی رنگ ہوتا ہے، جسے انگریزی میں گرے کہا جاتا ہے، اس پہ نظر رکھتا ہے اسلئے کہ وہ جانتا ہے کہ ہدف سیاہ یا سفید میں نہیں بلکہ سلیٹی میں چھپا ہوتا ہے !
لیکن کیا کیا جائے کہ ہماری ملک کی بدنصیبی سے ہم پر گذشتہ سات دہائیوں سے جو عسکری طالع آزما مسلط رہے ہیں اور آج بھی ان کا نمائندہ، خود ساختہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، قوم کے سینے پر مونگ دل رہا ہے اور پاکستان کی تقدیر کا مالک بنا بیٹھا ہے تو دنیا نے دیکھا کہ اسلام آباد کے مذاکراتی عمل میں ہمارے جعلی فیلڈ مارشل ہر جگہ پیش پیش رہے۔عاصم منیر تو الگ ان کا بغل بچہ، محسن نقوی جو ملک کا وزیرِ داخلہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرکٹ کا بھی مافیا ڈون بنا ہوا ہے، وہ بھی ان مذاکرات میں اپنے برادرِ نسبتی، جعلی فیلڈ مارشل کے ہمقدم اور شانہ بشانہ رہا۔اب سوال کیا جاسکتاہے کہ فیلڈ مارشل کا سفارتی عمل میں کیا کام یا مقام؟ لیکن ، صاحب، وہ نہ صرف عقلِ کل ہیں بلکہ پاکستان کے مالک و مختار بھی ہیں، ملک ان کی ملکیت ہے، ان کی جاگیر ہے تو وہ سفارتکاری کے صبر طلب مراحل کو کیسے اپنی پسندیدہ کٹھ پتلیوں پر چھوڑسکتے تھے؟۔وہ بذاتِ خود دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے سربراہ اور اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سفارتی عمل کے ایک فریق کے پسندیدہ فیلڈ مارشل ہیں اور یہ اعزاز ان کیلئے دنیا میں ہی جنت مل جانے کے مترادف ہے۔ اور انہیں، پاکستان کے بے تاج شہنشاہ ہونے کے تعلق سے یہ حق حاصل ہے کہ جس سیاسی کٹھ پتلی کو چاہیں اپنے ساتھ رکھیں۔ سو محسن نقوی کی ان مذاکرات میں موجودگی کا یہی جواز ہے!۔ہم نے دو دن پہلے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک پیشن گوئی کی تھی جسے ہم یہاں بھی دہرا رہے ہیں: بہت جلد یہ ہونے والا ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب اپنی صدارت کا بھی ڈول ڈال دینگے۔ تا حیات تو وہ اب ہر جوابدہی سے استثنیٰ حاصل کرچکے ہیں اب ان کا اگلا ہدف پاکستان کے تاحیات صدر ہونے کا ہے۔ پہلے عسکری طالع آزما، جو عاصم منیر ہی کی طرح خود ساختہ فیلڈ مارشل بھی تھے، ان کا عزم بھی تا حیات صدر رہنے کا تھا لیکن دستِ قدرت بھی تو ہے اور وہ کیا تحریر کرتا ہے قسمتوں کے فیصلے کرتا ہے چاہے کوئی تاحیات استثنیٰ حاصل کرلے یا تا حیات صدر رہنے کا خواب دیکھے!۔تو عاصم منیر بھی ایوب خان کی پیروی کرنے کیلئے کمربستہ لگتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس پورے منظر نامہ میں زرداری کہیں نظر نہیں آیا۔ بلکہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان دھرے جائیں تو ان کا بوریا بستر گول ہونے کے بہت نزدیک ہے۔ ان کی جائے پناہ دبئی بھی اس وقت محفوظ نہیں رہی لیکن ان کے باہر کی دنیا میں بہت ٹھکانے ہیں۔ انہوں نے تو ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔چھٹی شہباز شریف مہرے کی بھی ہونے والی ہے۔ تو بہت جلد فیلڈ مارشل صاحب پاکستان کے تاحیات صدر ہوجائینگے اور محسن نقوی وزیرِ اعظم۔ اسی لئے ان کو مذاکراتی عمل میں ہر قدم پہ رکھا جارہا تھا تاکہ وہ اس کے رموز بھی جان لیں۔ لیکن جو پاکستانی کرکٹ کا اس گماشتہ کے ہاتھوں حال ہوا ہے وہی ملک و قوم کا بھی ہوگا۔ سامراجی غلاموں اور ملت فروشوں سے اور امید بھی کیا رکھی جاسکتی ہے !۔تو پاکستان نے اسلام آباد کا مذاکراتی عمل منعقد کرکے دنیا بھر میں تہلکہ تو مچادیا ہے اور اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں جو قوم کے ہر فرد کیلئے خوشی اور مسرت کی بات ہے۔ ایک اعزاز ہے جو پاکستان نے عالمی برادری میں حاصل کیا ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی پر بھارت کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہا ہے!۔مودی سرکار نے پاکستان کو ہر محاذ پر جو تنہا کرنا چاہاتھا تو اب مودی کا بھارت ہی تنہا نکو بن کر رہ گیا۔ بھارتی میڈیا کی صفوں میں جو تلملاہٹ ہے اس کا تو خوب خوب ہی مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ بھارت کے بلند بانگ اینکروں کی سٹی گم ہے اور مبصرین کوئلوں پر لوٹ رہے ہیں۔ ان سب کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ پاکستان نے یہ کیا چمتکار کیا ہے جو دنیا میں اس کی شہرت ہورہی ہے اور ہاہاکار ہے !۔اسلام آباد کے مذاکرات بے نتیجہ رہے، بے ثمر رہے اس میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں، کوئی قصور نہیں، کوئی ناکامی نہیں۔ پاکستان ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا تھا اور وہ کام اس نے پوری مہارت کے ساتھ کیا۔نتیجہ مثبت نہیں نکلا تو اسے منفی کہنا بھی پیش از وقت ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا، سفارتی عمل ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا کام نہیں بلکہ اس کےبرعکس یہ وقت مانگتا ہے، صبر اور تحمل چاہتا ہے اور خلوصِ نیت بھی، جو کسی بھی عمل کی کامیابی کیلئے بنیادی ضرورت ہے!امریکہ کی نیت صاف نہ اس کے فیصلے کرنے والوں کے رویہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امن کے متلاشی ہیں!مثال کے طور پہ، لبنان ایران کا حلیف ہے اور اس بات پر امریکہ اور ایران کااتفاق ہوا تھا، جنگ بندی کے اعلان سے پہلے، کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہوگا۔ لیکن وہ جو دہشت گرد صیہونی ریاست ہے، اسرائیل، اس کے جنگ کے جنون میں مبتلا وزیر اعظم، بن یامین نیتن یاہو، کے ایجنڈا میں تو جنگ بندی کا لفظ ہی نہیں ہے بالکل اسی طرح جیسے امن سے رہنا صیہونی ریاست کی لغت میں ہی نہیں ہے۔ تو نیتن یاہو نے لبنان پر جارحیت جاری رکھی بلکہ ایک دن میں بیروت کے مضافات میں وہ وحشیانہ بمباری کی گئی کہ تین سو سے زائد بیگناہ شہری ہلاک ہوئے اور ہزار سے زیادہ زخمی!لیکن ٹرمپ نے نیتن یاہو کا ساتھ دیا اور طوطے کی طرح اسی کی رٹ لگائی کہ لبنان جنگ بندی کے معاہدہ میں شامل نہیںہے !خواجہ آصف نہ ہمارے پسندیدہ ہیں نہ ہم ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لینے کے عادی ہیں اسلئے کہ وہ زیادہ تر بے سروپا باتیں کرتے ہیں لیکن اسرائیل کو کینسر زدہ ریاست قرار دے کر انہوں نے ہمارا دل جیت لیا!اسرائیل جب سے معرضِ وجود میں آیا ہے، مغربی دنیا کا عرب دنیا کے سینے میں گھپا خنجربن کر، اس کے بعد سے اس نے اپنی دہشت گردی سے ایک دنیا کو پریشان اور تہہ و بالا کیا ہوا ہے لیکن امنِ عالم کی بدنصیبی کہ اسے امریکہ کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے اور امریکی اسلحہ امریکی افواج کے پاس بعد میں پہنچتا ہے اسرائیل کے پاس پہلے!
جب سے اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا عمل شروع کیا ہے اسے امریکہ کی طرف سے دو برس کے عرصہ میں بائیس ارب ڈالر کا اسلحہ اور مہلک ہتھیار تحفہ کے طور پہ ترسیل کئے گئے ہیں۔ صرف اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کو امن اور سلامتی سے کتنی دلچسپی ہے !خود امریکہ کی تاریخ جنگ و جدل سے بھری ہوئی ہے!جمی کارٹر کاشمار امریکہ کے واقعی شریف صدور میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ امریکہ اپنی دو صد سالہ تاریخ میں صرف بارہ برس بغیر جنگ کے رہا ہے ورنہ دنیا میں کہیں نہ کہیں وہ جنگ میں ملوث پایا گیا ہے!امریکہ کے اپنے مورخین اوردانشوروں کا تجزیہ ہے کہ اپنی دو سو سالہ تاریخ میں امریکہ کم از کم دس بڑی جنگوں میں شامل رہا ہے۔ یہ وہ ریکارڈ ہے جو ہماری برائے نام مہذب دنیا کے کسی اور ملک کو حاصل نہیں ہے!امریکہ کے دنیا بھر میں اسی (80) سے زائد ملٹری اڈے ہیں۔ ایران کے مطالبات میں امن کی خاطر یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ خلیجِ فارس کے ہر عرب ملک میں جو امریکہ کے جنگی اڈے ہیں انہیں بند کیا جائے اور یہ مطالبہ کوئی ناجائز بھی نہیں ہے اور عرب ممالک نے دیکھ لیا، حالیہ جنگ میں، کہ ان کی دانست میں انہوں نے جو اڈے امریکہ کو اپنی حفاظت کیلئے دئیے تھے وہ ان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔ حفاظت اگر امریکہ نے کی ہے تو صرف اور صرف صیہونی ریاست اسرائیل کی!تو امریکہ کی نیت میں ، جہاں تک امن کا سوال ہے، کھوٹ ہے، بدنیتی ہے لیکن اس کے ساتھ اس کے صدر کا تکبر اور بلند بانگ دعوے خطہ کے اور بلکہ دنیا کے امن و چین کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں!جنگ بندی سے پہلے وہ ایران کی پانچ ہزار سالہ تاریخ اور تہذیب کو دفن کردینے اور مٹادینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ اب مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کی بندرگاہوں کو مکمل طور پہ بند کردینگے، اپنے حصار میں محبوس کردینگے اور جس کسی نے بھی ان کے منصوبے کی مخالفت کی تو اسے وہ، بقول ان کے، "جہنم کی آگ” میں دھکیل دینگے !انسانی تاریخ میںبڑے بڑے فرعون، نمرود اور شداد پیدا ہوئے لیکن آج سے پہلے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ وہ جہنم کا مالک و مختار بھی ہے اور نافرمانوں کو اس کی آگ کے شعلوں کے سپرد کرسکتا ہے !تو یہ امن مذاکرات کس کروٹ بیٹھتے ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرسکتا ہے، اور کرے گا بھی، لیکن بے یقینی کی صورتِ حال کسی کے حق میں بھی نہیں ہے سوائے دہشت گرد ریاست، صیہونی اسرائیل کے!کیا پاکستان مذاکرات کے اگلے دور میں بھی پیش پیش اور نمایاں ہوگا اس کا تعین بھی اگلے چند روز میں ہی ہوگا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ دنیا کے امن کو اگرخطرہ لاحق ہے تو ان جنگی جنونیوں سے جو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرسکتے ہیں اور وہ اتنے اپنے سحر میں مبتلا ہیں کہ انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں!لیکن حق و باطل کی جنگ میں اللہ کی طرف سے نصرت صرف حق کے پرستاروں کی ہی ہوتی ہے!
مرحبِ وقت کی پھر مات مقدر ٹہری
خیبر شکن کے کلمہ گذاروں کے ہات سے
حیدرکی حریت کے پرستاروں کی ہے شان
مرعوب نہ ہوئے کسی کرگس کی گھات سے !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button