Select Language
ہفتہ وار کالمز

مذاکرات‘ ریڈ لائن اور الٹی میٹم

جے ڈی وینس اسلام آباد میں مذاکرات ختم کرنے کے بعد واشنگٹن واپس نہ پہنچے تھے کہ صدرٹرمپ نے فاکس نیوزچینل پر لگ بھگ چالیس منٹ کے انٹرویو میں ان تمام سوالوں کے جواب دے دئے جو دنیا بھر میں پوچھے جا رہے تھے۔ امریکہ اورایران کے درمیان اکیس گھنٹے کے مذاکرات کے بعد جو قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں وہ اس طویل اور مفصل گفتگو کے بعد ختم تو نہ ہوں گی مگر انکے ابہام اور بے یقینی میں خاصی حد تک کمی آ جائے گی۔ فاکس نیوز کی Maria Bartiromo جومیگا تحریک کی ایک مشہور لیڈر بھی ہیں جب کبھی صدر ٹرمپ کو انٹرویو کرتی ہیں تو بہت دلچسپ باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ ماریا صدر ٹرمپ کی پسندیدہ نیوز اینکر ہیں اور فاکس نیوز انکا چہیتا چینل ہے۔ اس پس منظر میں اتوار بارہ دسمبر کی صبح Sunday Morning Futures میں صدر ٹرمپ کی باتیں اہم ہونے کے علاوہ توجہ طلب بھی تھیں۔ اس انٹرویو میں اگر چہ کہ امریکہ کی داخلی سیاست اور نیٹو ممالک سے تعلقات بھی زیر بحث آئے لیکن اسکا اہم ترین حصہ امریکہ ایران مذاکرات کے بارے میں تھا۔ اس انٹرویو سے چند گھنٹے پہلے صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ ماریا بارٹیرومو نے جب اس ناکہ بندی کے بارے میں پوچھا تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس بین الاقوامی آبی راستے سے تمام بارودی سرنگیں ہٹا دیں گے۔ We’ll clean out the strait. We have highly sophisticated mine sweepers اس انٹرویو سے پہلے ہی امریکہ اور یورپ میں دفاعی ماہرین اس ناکہ بندی کے بارے میں میڈیا پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ معروف امریکی تجزیہ نگار Scott Lucas جو آجکل ڈبلن یونیورسٹی میں امریکی اور یورپی خارجہ امور پڑھاتے ہیں نے کہا ہے کہ دو امریکی Naval destroyer یہ کام نہیں کر سکتے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں تقریباً پانچ ہزار بارودی سرنگیں بچھارکھی ہیں۔ تہران کو خود بھی پتہ نہیں کہ یہ سرنگیں کہاں ہیں۔ امریکہ کے لیے انہیں تلاش کرنا اور صاف کرنا نہایت مشکل ہو گا۔ پروفیسر سکاٹ لوکس کے مطابق اس کام میں مہینے بلکہ سال تک لگ سکتے ہیں اور عالمی معیشت میں اتنا دم خم نہیں کہ اس معاملے کو زیادہ مؤخر کیا جاسکے۔ اس لیے اس مسئلے کا فوری حل ایران سے کسی معاہدے کے بغیر ممکن نہیں۔ ماریا بارٹیمورو نے اگلا سوال صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں پوچھاجس میں انہوں نے ایرانی تہذیب کو مٹا دینے کی بات کی تھی۔ اسکے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل کہہ رہا ہے۔ اس پر کسی نے اعتراض کیوں نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران انکے اس بیان کے بعد ہی مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔ فاکس نیوز کی اینکر پرسن نے پوچھا کہ انکے اس بیان پر دنیا بھر میں سخت تنقید ہوئی ہے‘ کیا وہ اب بھی اس پر قائم ہیں۔ صدر امریکہ نے کہا کہ It is fine with me. اس بات کو بڑھاتے ہوے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اگر چاہیں تو ایران کو ایک دن بلکہ ایک گھنٹے میں مکمل طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔ اس تباہی کے بعد وہ دس برس تک بجلی کی سہولت حاصل نہ کر سکے گا اور یوں وہ ایک طویل عرصے تک پتھر کے دور میں چلا جائے گا۔ صدر ٹرمپ اگر چہ کہ بڑی آزادانہ گفتگو کر رہے تھے اور یہ نہ لگتا تھا کہ وہ کوئی بات چھپائیں گے مگر اس سوال کے جواب میں انہوں نے یہ کہنے سے گریز کیا کہ وہ ایران پر ایسا تباہ کن حملہ کریں گے یا نہیں۔ انکے اس گریز سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ تل ابیب سے نتن یاہو کا ایک فون یا پھر وا شنگٹن میں اسرائیلی لابی کے دبائو کے نتیجے میں وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ماریا بارٹیمورو کا اگلا سوال ایران کے جوہری عزائم سے دستبردار نہ ہونے کے بارے میں تھا۔ اسکے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ تیس برس سے کہہ رہے ہیں کہ یہ انکی ریڈ لائن ہے اور وہ کسی بھی صورت میں ایران کو جوہری استعداد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوے کہا کہ انہوں نے نہایت دوستانہ ماحول میں مذاکرات منعقد کیے اور ایران اگر جوہری معاملے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرتا تو بیشتر مسائل پر اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ اسکے بعد نیوز اینکر نے اس انٹرویو کا اہم ترین سوال پوچھا کہ کیا مذاکرات کے دوسرے رائونڈ کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اسکے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آ جائے۔ انکے اس جواب سے پتہ چلتا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا مگر اس سفارتی عمل کے جاری رہنے کے لیے ضروری ہے کہ یا تو ایران اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہو جائے یا امریکہ اس معاملے میں لچک دکھانے پر آمادہ ہو جائے۔ ایران اس لیے اپنے عشروں پرانے مؤقف سے دستبردار نہیں ہو سکتا کہ ایرانی قوم نے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ جارحانہ حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں انفرا سٹرکچر کو سخت نقصان پہنچنے کے علاوہ بیسیوں ممتاز سیاسی رہنما بشمول آیت اللہ خامنہ ای شہید ہو چکے ہیں۔ اتنی شدید تباہی کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں پاسداران انقلاب کی حکومت اپنے جوہری عزائم سے انحراف کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتی۔ اس نے اگر ایسا کیا تو عوامی رد عمل کی لہر ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔صدر ٹرمپ کے اس انٹرویو کے بارے میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ جو کچھ میدان جنگ میں حاصل نہ کر سکا وہ اسے مذاکرات کی میز پر بھی نہ مل سکا۔ اس لیے جس طرح حالات پہلے صدر ٹرمپ کے کنٹرول میں نہ تھے اب بھی نہیں ہیں۔ شاید چین‘ روس اور یورپی ممالک کوئی راستہ نکال لیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button