اب تحریک انصاف کے ساتھ بھی جنگ بندی کرلیں !

پاکستان کے لیے ایک نادر اور خوش آئند موقع آ یا ہے جب اسلام اباد میں امریکہ اور ایران میں صلح کی بات چیت ہو رہی ہے اور اللہ نے چاہا تو اس کے نتیجہ میں فریقین مطمئن ہوںگے۔ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات خاصے روشن نظر آتے ہیں، کیونکہ امریکہ اور ایران دونوں اس بے معنی قتل و غارت سے تنگ آ چکے ہیں۔ایران حق بجانب ہے کہ اس پر جارحانہ حملہ کیا گیا جب کہ اس نے امریکہ کے خلاف کسی جارحانہ عزائم کا اظہار نہیں کیا تھا۔ امریکہ میں اس جنگ کے خلاف عوامی رد عمل صدر ٹرمپ کے حق میں نہیں نظر آتا۔ امریکی عوام اس بات پر ناراض ہیں کہ کیسےا سرا ئیل ، ایک چھوٹا سا ملک، امریکہ کو استعمال کر رہا ہے۔امریکی حکام ا سرا ئیل کے حکم کے غلام نظر آتے ہیں۔ اور اس کے کہنے پر ایک ایسے ملک کو تباہ کر رہے ہیں جس نے کبھی امریکہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ امریکہ نے ایران پر اتنی پابندیاں لگائیں کہ ان کی معیشت تقریباً بر باد ہو گئی۔ یہ سب اس لیے کہ اسرا ئیل یہ چاہتا تھا۔ اسے یہ خوف کھائے جارہا تھا کہ ایران ایک دن ایٹم بم بنا لے گا اور اسےاسرائیل کے خلاف استعمال کرے گا۔ یہ ایک مروجہ حکمت عملی کے بالکل خلاف بات تھی کیونکہ اگر ایک ملک کسی ایسے ملک کے خلاف ایٹمی حملہ کرے گا تو وہ ملک جواب میں بہت سخت حملہ کرنے کی طاقت استعمال کر سکتا ہے۔ایران نے کئی دفعہ کہا کہ ان کی کوئی نیت نہیں ہے کہ وہ ایٹم بم بنائے۔ اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اسرا ئیل یہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔اب دونوں نے ملکر ایران کا باجا بجا دیا ہے۔ اس کو بم مار مار کر اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ ایران کو کئی سال لگیں کے کہ وہ ان نقصانات کا ازالہ کر سکے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے بھی ا سرا ئیل پر تابڑ توڑ میزائل کے حملے کیے ، کہ اس کو غزہ بنا دیا۔ یہ تمام حملے انتہائی غیر ضروری تھے۔شاید صرف امریکہ اوراسرائیل کے پاگل پن کا اظہار۔ بہر حال، اب قرائین بتاتے ہیں کہ یہ باب اب بند ہو جائے گا اور عقل و دانش کا راستہ لیا جائے گا۔ پیوستہ رہ شجر سے، امیدبہار رکھ۔
یہ پس منظر بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں کسی نہ کسی شکل میںاسرائیل کی خواہشات کا عمل دخل ہے جو وہ امریکی صدر کی وساطت سے کروا رہا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہیں، جواسرائیل کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اس کو ڈر ہے کہ کسی دن پاکستان میں کوئی سر پھرا اسلام پسند شخص وزیر اعظم بن گیا تو وہ اسرائیل پر ایٹمی حملہ کروا سکتا ہے۔ وہ کیونکہ ایک چھوٹا سا ملک ہے، وہ ایک بھی ایٹمی دھماکا برداشت نہیں کر سکے گا۔ اسے اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے پاس پاکستان سے زیادہ ایٹم بم ہیں جو وہ جوابی کاروائی کر کے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے۔
جب عمران خان نے اقوام متحدہ میں جا کر مسلمانوں کے جذبات کی بات کی جو مغربی کارٹونسٹ گاہے بگاہے مجروح کرتے تھے، تو ایک قرار داد پاس کی گئی جس میں ایسا کرنے سے روکا گیا۔اس پیش رفت سے عمران خان کو تمام مسلم دنیا میں خوب پذیرائی ملی اور اسکے ساتھ ہی اسرائیل کے کان کھڑے ہو گئے اور اس نے محکم ارادہ کر لیا کہ عمران خان کو یا مروا دیا جائے یا اس قابل نہ چھوڑا جائے کہ وہ دوبارہ کبھی وزیر اعظم بن سکے۔بعد کے واقعات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک سازش کے نتیجہ میں عمران خان کی حکومت گرائی گئی، اور پھر اس پر قاتلانہ حملے کیے گئے۔اور باالآخر اس پر سینکڑوں بے بنیاد مقدمات بنا کر جیل میں بند کر دیا گیا، جہاں وہ آج بھی ہے۔یہ سب کرنے والے کون لوگ تھے؟ س میں کیا شک ہے کہ وہ پاکستانی لالچی، بے ضمیرسیاستدان تھے جنہیں حکومت میں بٹھایا گیا، اور وہ خاکی وردی والے تھے جو ستر سال سے پاکستان پر کبھی کھلے عام اور کبھی در پردہ حکومت پر قابض رہتے ہیں۔
ہمارے جرنیل ہمیشہ سے امریکہ کے وفادار رہے ہیں۔اور آج بھی ہیں۔ اس لیے انہیں اگر معلوم بھی ہو کہ ان کا کوئی فعل پاکستان کے حق میں نہیں، وہ پھر بھی کر گزرتے ہیں۔یہ کہنا مشکل ہے کہ کب سے اسرائیل نے امریکہ کے ذریعہ، پاکستان سے اپنی من مانی کروانی شروع کی، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے اور اس پر بے بنیاد مقدمات، اور اس کو جیل میں رکھنا، اور اب اس کی ملاقاتیں بھی نہ ہونے دینا، یہ سب انہیں صہینیوں کی ہدایت پر ہو رہا ہے۔یہاں تک کہ جب عمران خان کی حکومت گرائی گئی اس سازش کے تانے بانے بھی امریکی محکمہ خارجہ کے صہیونیوں کی کوششوں سے ملتے تھے۔یہ سب جانتے ہوئے کہ وزیر اعظم اکیلا کسی بھی ملک پر ایٹمی حملہ نہیں کروا سکتا جب تک کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کا تعاون نہ ہو، صہیونی یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔اور جب تک ہمارے خاکی مالکوں کو واشنگٹن سے سبز جھنڈی نہیں دیکھائی گئی، عمران خان کی رہائی نا ممکن ہے۔
لیکن کیا کسی پاکستانی کے لیے، خواہ نوری ہو یا ناری، خاکی ہو یاسفید پوش، کسی غیر ملک کی غلامی کرنا ، صرف اس لیے کہ اس کو کچھ ذاتی فوائد ملتے ہیں، جائز ہے؟ کیا یہ ملک سے غداری نہیں ہے؟ اگر نہیں تو خدا کے لیے بتائیے کہ غداری کس چڑیا کا نام ہے؟ یہ بات سب سے خطرناک تب ہوتی ہے جب کہ ملک کے محافظ ہی کسی غیر ملک کے غلام بن جائیں،خواہ وہ خاکی وردی میں ہوں یا شیروانی اور شلوار قمیض میں سیاستدان۔ اور غلامی بھی کس کی؟ ایک ایسے ملک کی جس میں جانے کے لیے پاکستان کا پاسپورٹ بھی اجازت نہیں دیتا۔جس کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات تک نہیں ہیں؟ہمیں یاد رکھنا چاہیے اس ملک کو کو پاکستان میں صرف اتنی دلچسپی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اس کے ایٹمی اثاثوں کو بیکار کر دے یا تباہ و برباد کر دے۔ اس کے علاوہ وہ اس کو اپنے جوتے کی نوک پر بھی نہیں لکھتا۔اور یہ کرنے کے لیے وہ ہر جائز اور نا جائز حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ اور اپنے دوسرے غلام، یعنی امریکہ کو بھی پوری طرح استعمال کر ے گا۔جیسے کر رہا ہے۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ امریکی صدر جو اس غلامی میں اس لیے پھنسا ہوا ہے کہ اسرائیل کے پاس اسے بلیک میل کرنے کے کچھ ثبوت موجود ہیں، جو اس کی شہرت اور صدارت کو خطرہ میں ڈال سکتے ہیں، اس لیے امریکی صدر اس کی ہر جائز اور نا جائز بات ماننے پر مجبور ہے۔ وہ بھی ایک انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ وہ اپنے ملک کے مفادات کے خلاف اس ملک کا غلام بنا ہوا ہے۔ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ اسرائیل نہ صرف بڑے خوفناک، جنگی عزائم رکھتا ہے، وہ اپنے صہیونی بڑوں کے خوابوں کی تعبیر بھی چاہتا ہے جو انہوں نے اسرائیل کے لیے دیکھے تھے۔اصل وجہ کچھ بھی ہو ، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ا سرا ئیل کا وزیر اعظم اپنے سامنے جیل دیکھ رہا ہے کیونکہ اس پر کرپشن کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں، اور وہ جتنی دیر ان جنگوں میں مصروف رہے گا وہ جیل سے دور رہ سکے گا۔
ان تمام حالات کی وضاحت کی ضرورت اس لیے آن پڑی ہے کہ ہمارے اپنے خاکی والے، کچھ ہوش کے ناخن لیں اور ملک کے ہر دلعزیز رہنما عمران خان، اس کی زوجہ، رشتہ داروں، ساتھیوں اور کارکنوں کو جھوٹے مقدمات سے نکلوا کر آزادی کا سانس لینے دیں ۔ اور اس ظلم و جبر سے اپنے آپ کو مزید گناہ گار نہ کریں۔
عمران خان اکیلا پاکستانی رہنما ہے جو پاکستان کو اس کے موجودہ گرداب سے نکال سکتا ہے۔ وہ اکیلا قائد ہے جس کو سارے پاکستان کی حمایت حاصل ہے ۔ اس کا فیصلہ مشکل نہیں، آپ جب چاہیں عام انتخابات کروا کر دیکھ لیں۔اگرچہ یہ گذشتہ انتخابات میں دیکھا جا چکا تھا کہ نواز شریف اور اس کا ٹولہ عوامی حمایت کھو چکا ہے ، اور صرف جعلی ووٹوں اور آپ کی مہربانی سے حکومت بنا سکا ہے۔ اب جب دوبارہ ایلیکشنز ہو نگے، تو اللہ کی مہربانی سے اس سے بھی زیادہ عبرت ناک شکست ہو گی اس پورے ٹولے کو۔ اس لیے عقل کا دانش کا تقاضا یہی ہے کہ جلد از جلد دوبارہ شفاف اور ایماندارانہ انتخابات کروائے جائیں اور جس کی حکومت بنتی ہے اسے بنا لینے دی جائے۔ اور یاد رکھیں کہ عمران خان کے حکومت بنانے سے بیرونی دنیا میں بھی پاکستان کی ساکھ کو فائدہ ہو گا۔
یہ بات قابل فہم ہے کہ خاکی وردی والوں کو خوف ہو گا کہ کہ اگر عمران خان کو، امریکہ اوراسرائیل کی مرضی کے خلاف وزیر اعظم بننے بھی دیا گیا تو وہ ان سے اور ان لوگوں سے انتقام لے گا جنہوں نے اسے جیل میں رکھا، اس کے ساتھیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، تو اس کا پہلے سے عمران خان سے این آر او لیا جا سکتا ہے۔ خان پہلے کئی دفعہ کہہ چکا ہے کہ وہ انتقامی ارادے نہیں رکھتا۔ وہ صرف پاکستان کی بہتری چاہتا ہے۔ اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ایک سچا آدمی ہے اور وعدوں سے نہیں مکرتا۔ اس لیے اگر خاکی وردی والوں کو ڈر ہو تو اسے رہا کرنے سے پہلے، اس سے وعدے وعید کروا لیے جائیں۔اور ویسے بھی خاکی وردی والوں کو ڈر کس بات کا؟ ان کے ہاتھ میں جو بندوق ہے اس کے سامنے کوئی کیا کر سکتا ہے؟ وہ جب چاہیں، ماشل لاء لگا سکتے ہیں۔ حکومتیں بد ل سکتے ہیں۔ وہ خان کو اس کے وعدوںپر عمل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
جہاں تک اسرائیل اور امریکہ کا تعلق ہے، وہ عالمی معاہدوں کے پابند ہیں اور کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کر سکتے۔ قطع نظر، پاکستان ان دونوں ملکوں کو یقین دہانی کروا سکتا ہے کہ عمران خان اگر حکومت میں آبھی جاتا ہے، تو وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ امن پسندانہ تعلقات ہی رکھے گا۔ کسی کی دشمنی نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی ملک پر ایٹمی حملہ کرے گا۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے صرف خطہ میں طاقت کا توازن اور امن کے استحکام کے لیے ہیں۔ ان کو کسی صورت بھی جنگ کے لیے استعمال کرنا مقصود نہیں ہے اور یہی پاکستان کا نصب العین ہے۔اگر اتفاق سے عمران خان اسلامی دنیا کا رہبر بھی بن جائے تو اس کے عزائم کسی ملک کے خلاف لشکر کشی نہیں ہونگے ۔ اس کے بجائے، وہ اسلامی ملکوں میں ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے کام کرے گا۔عمران خان جانتا ہے کہ کسی بھی ایٹمی قوت کے خلاف جنگ کرنا اور اس میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا خود کشی کے مترادف ہے، تا آنکہ وہ ملک ، بلا اشتعال،پاکستان پر ایٹمی حملہ نہ کر دے۔دنیا جانتی ہے کہ سوائے بھارت کے کوئی اور ایسا ملک نہیں جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور وہ پاکستان کا دشمن بھی ہو۔اس لیے عمران خان کی حکومت کو اس خوف سے نہ بننے دینا، جمہوری اصولوں اور انسانی تقاضوں سے انحراف ہو گا۔
ہماری درخواست ہے کہ اہل اقتدار گروہ ، عمران خان اور اس کے ہمراہیوں پر سے تمام مقدمات، جن کا سر پیر نہیں، واپس لے لیں، اس کو باعزت رہا کر دیں، تاکہ یہ ملک خوش حالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ اور اس طرح، جوخوشی اور اطمینان پاکستان نے ایران پر جنگ بندی کروا کے حاصل کیا ہے، اس کو تحریک انصاف کے ساتھ انصاف کر کے دو بالا کر لیں۔



