امریکی صدر، ایک جوکر، ایک جگت باز، ایک کامیڈین یا بلف مین؟

گزشتہ کئی ہفتوں سے ہمارا کالم اخبارات کی ڈیڈ لائن کے بعد لکھا جارہا ہے اور چھپا جارہا ہے جس کا براہ راست ذمہ دار امریکن صدر ہے، آپ پوچھیں گے کہ وہ کیوں؟ وہ یوں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسقدر غیر متوقع اور ناقابل یقین کردار کے مالک ہیں کہ میڈیا سمیت دنیا کا کوئی شخص بھی ان کے ذہنی مزاج اور متلون مزاجی کے حوالے سے کوئی پیش گوئی اور اعتبار نہیں کر سکتا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سب سے بڑی بات تازہ ترین خبر اور اس کے حوالے سے تجزیہ، عمومی طور پر روزانہ اور خصوصی طور پر پچھلے چھ، آٹھ ہفتوں سے صدر ٹرمپ کی طرف سے ایسے ایسے مضحکہ خیز اور بھیانک بیانات روزانہ سامنے آرہے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ دنیا کی سب سے بڑی ریاست کا طاقتور ترین شخص یوں بقیہ دنیا کی بربادی کی اس طرح سے باتیں کر سکتا ہے۔ کبھی کوئی الٹی میٹم دیاجاتا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران کو تباہ و برباد کر کے پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا جائے گا۔ کبھی یہ بیان آتا ہے کہ امریکہ اس جنگ سے جلد باہر آجائے گا، یورپ کو اگر تیل چاہیے تو وہ خود کچھ کرے امریکہ اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ کبھی ٹرمپ کی طرف سے دھمکی جاتی ہے کہ اگر ایران نے میری مرضی کے مطابق جنگ بندی نہ کی تو اس کے آئل کے جزیرے پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ کبھی مسٹر بلف مین ٹرمپ کی جانب سے ڈیڈ لائن دی جاتی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو دنیا کی سب سے قدیم ریاست، ثقافت اور تہذیب کو ایران سے زمین بوس اور غائب کر دیاجائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر دھمکی، ہر الٹی میٹم اور ہر ڈیڈ لائن پر ایک فائنل تاریخ بھی دی جاتی ہے اور یہاں تک یہ خبریں بھی آتی ہیں کہ شاید ایران پر نیو کلیئر اٹیک بھی کر دیاجائے گا۔پھر جب ایران اور علاقے کی دیگر عرب ریاستیںصدر ٹرمپ کی ان پھکڑ باز دھمکیوں پر کان نہیں دھرتے اور نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس وقت صدر ٹرمپ کا پوری دنیا ساتھ چھوڑ چکی ہے۔ کیا یورپ، کیا افریقہ، کیا ایشیا، کیا مشرق وسطیٰ، سب نے صدر ٹرمپ کی گیڈ بھبکیوں کو سنجیدہ لینا چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ جب تک یہ کالم اخبارات میں چھپے گا تو ٹرمپ کا کیا نیا سرپرائز ہو گا۔ آخری خبریں آنے تک پاکستان کی وساطت سے اسلام آباد میں ایک معاہدہ ہوا تھا تینوں ممالک کے درمیان جس میں یہ طے ہوا کہ ایران، اسرائیل، امریکہ، تینوں ممالک دو ہفتے کے لئے عارضی جنگ بندی کریں گے اور اس دوران مزید مذاکرات جمعرات والے دن دوبارہ سے اسلام آباد میں ہوں گے۔ ابھی اس معاہدے کی تفصیلات میڈیا کو وصول ہی ہو رہی تھیں کہ اسرائیل نے لبنان پر ایک بڑاحملہ کر کے دو سو سے زائد لبنانی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور ابھی تک وہاں پر بمباری جاری ہے۔ ایران نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ معاہدے کے مطابق لبنان سمیت علاقے اور خطے کے کسی بھی ملک پر کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ثالث پاکستان نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ لبنان بھی اس معاہدے میں شامل تھا مگر اسرائیل نے انکار کر دیا ہے کہ لبنان اس معاہدے میں شامل نہیں تھا اور حسب معمول امریکی صدر ٹرمپ نے ایک دفعہ پھر لبنان کے حوالے سے اسرائیل کی تصدیق کر دی ہے، جیسا کہ ہم نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے کسی بھی قسم کے بیان کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے اصرار پر ایران نے ان خلاف ورزیوں کے جواب دینے کیلئے ابھی تک اپنے گھوڑوں کی طنابیں تھام رکھی ہیں مگر آخر کب تک؟ اس وقت تمام نظریں اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حافظ عاصم منیر فیلڈ مارشل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہز ماسٹر وائس(HIS MASTER’S VOICE)بنے ہوئے ہیں کیونکہ ماضی قریب میں وہ یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اس صورت حال میں قطعاً نیوٹرل نہیں کیونکہ لوگ یہ بات نہیں بھولے جب چند ہفتوں قبل جنرل حافظ صاحب نے اہل تشیع کے علمائے کرام کو جی ایچ کیو میں بلا کر دھمکی دی تھی کہ اگر آپ کو ایران سے اسقدر ہمدردی ہے تو آپ سب لوگ ایران چلے جائیں۔ جنرل عاصم کے ان ریمارکس کے تناظر میں ہمیں حیرانی ہے کہ ریاست ایران نے کس طرح سے پاکستان کی ثالثی کو قبول کر لیا کیونکہ دنیا کو یہ معلوم ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر شاہ صدر ٹرمپ کے بروکر ہیں اور سب کو ان مذاکرات اور ثالثی کے نتائج پہلے ہی سے معلوم ہیں، مگر چلیں دیکھتے ہیں، شک کے شبے کو موقع دیتے ہوئے، چور کو اس کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔ مگر ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ 26نومبر کو سینکڑوں پاکستانی شہریوں کے قاتل اور پاکستان میں جمہوریت پر ڈاکہ ڈالنے والے ڈاکو اور مدرسے سے فارغ التحصیل حافظ کی وجہ سے ہماری پیاری پاکستانی فوج کو پاکستان عوام کے روبرو لاکھڑا کیا ہے ۔ مگر ہم آج بھی چند جنرلوں کے بجائے اپنے سجیلے فوجی جوانوں اور سپاہیوں کے ساتھ ہیں۔



