وزیراعظم شہباز شریف کا ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کا نظام مزید مؤثر بنانے کا حکم

اسلام آباد( آصف اقبال ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہاؤسنگ، زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو مالی وسائل کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرکے قرضوں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم آفس میں ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت کے لیے ایس ایم ای پورٹل نومبر کے اختتام تک فعال کیا جائے۔ پورٹل کے ذریعے بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی، لیٹرز آف کریڈٹ سمیت کاروباری سہولیات کی تازہ ترین صورتحال کی براہِ راست نگرانی ممکن ہوگی۔وزیراعظم نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور انہیں عالمی ویلیو چین سے منسلک کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں نیشنل بینک آف پاکستان اور فرسٹ ویمن بینک کی قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے نیشنل بینک کی ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کی منظوری کی 76 فیصد شرح کو قابلِ تحسین قرار دیا۔وزیراعظم نے نئے تعینات ہونے والے صدر نیشنل بینک کو ہدایت کی کہ بینک کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے بہترین پروفیشنلز کی خدمات حاصل کی جائیں جبکہ مطلوبہ نتائج نہ دینے والے عملے کے خلاف بلاخوف محکمانہ کارروائی کی جائے۔شہباز شریف نے بینکوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس کی فراہمی آسان بنانے کے لیے دیگر صوبوں کو پنجاب کی طرز پر اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی میں آسانی اور شفافیت آئے گی۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 426 ارب روپے مالیت کے 71 ہزار 690 قرضوں کی منظوری دی جاچکی ہے، جبکہ 13 ہزار 214 افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے ہیں۔ رواں سال ایک لاکھ 25 ہزار رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔زرعی شعبے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت زرعی قرضوں کا مجموعی حجم ایک ہزار 352 ارب روپے ہے، جس سے 34 لاکھ 55 ہزار افراد مستفید ہوئے ہیں۔ جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ایس ایم ای شعبے میں اب تک 3 لاکھ 50 ہزار کاروباری افراد کو ایک ہزار 137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔ جون 2027 تک ایس ایم ای قرضوں کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس ایم ایز کو مالی وسائل تک آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ایس ایم ایز کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط اور ہاؤسنگ فنانس کے طریقہ کار کو مزید آسان اور مؤثر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔بریفنگ میں قرضوں کی فراہمی میں مشترکہ رسک شیئرنگ، سپلائی چین فنانسنگ کے فروغ، مستند ڈیٹا شیئرنگ اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے چھوٹے قرضوں کے حصول کو آسان بنانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، تاکہ صارفین کو قرضوں کے لیے بینک برانچوں کے بار بار چکر نہ لگانا پڑیں۔اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ، عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔



