فنون لطیفہ

32

انسان سماجی حیوان ہے، سماج سے جڑا رہتا ہے، اور سماج کی ہر ہر ادا کا ساتھی ہوتا ہے کیا سکھ کیا دکھ، کیا شادی کیا غمی، اسی سماج میں جیتا ہے اور اسی سماج میں مرتا ہے، STEAWRT HOBBSکہتا ہے کہ خوف نے انسان کو ایک ساتھ رہنا سکھا دیا، سب سے پہلے بیکرانی کا خوف انسان کو لاحق ہوا اور وہ غاروں اور درختوں میں پناہ لینے لگا اسی خوف نے اس کو سوچنے پر آمادہ کیا، غور و فکر نے اسے پرندوں کے چہچہانے کی طرف مائل کیا اور اس نے پرندوں کی نقل اتاری اور وہ گروہ جو اس کے ساتھ رہتا تھا چونک اٹھا، یہ موسیقی کی طرف انسان کا پہلا قدم تھا، وہ لکھتا ہے موسیقی کی جانب توجہ مبذول ہونے کو غور و فکر سے الگ نہیں کیا جا سکتا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی نے زمین پر کسی درخت کی شکل بنا دی ہو اور یہ شغل اس کو مصوری کی جانب کھینچ لایا ہو، جب جب آوازوں نے ترنم پکڑ لیا اور عکس بنایا حسن کی جانب بڑھا یہ فنون لطیفہ کی جانب پہلا قدم تھا پھر یہ سلسلہ بڑھتا گیا جو اجتناکے غاروں اور گائوں کے چوپال سے نکل کر جدید دور کا فنون لطیفہ کی سرگرمی بن گیا جس پر مختلف تہذبیں فخر کرتی ہیں اور شاعری، موسیقی، مصوری، نقاشی اور مجسمہ سازی پر ناز کیا جاتا ہے، فنون لطیفہ کی ہر شاخ کا تعلق علم اور غور و خوض سے ہے اور یہ فکر تہذیبوں کا زیور اور ثقافت کے سر کا جھومر ہوتی ہے، جہاں جہاں انسان کو آزادی فکر میسر رہی فنون لطیفہ نے ترقی کی، ادب کی ترقی بھی اس شاح سے جڑی ہوئی ہے، دنیا بھر میں جوں جوں سماج نے ترقی کی فنون لطیفہ نے بھی ترقی کی، یہ سچ ہے کہ مختلف سماجوں میں اظہار رائے پر قدغن لگائی مگر دیگر فنون لطیفہ ترقی کرتے رہے مثلاً بادشاہوں کے درباروں میں زباں بندی رہی مگر انہی درباروں میں موسیقی، شاعری، فن تعمیر کو بے حد سراہا گیا، ہندوستان میں رقص اور موسیقی مذہب کا حصہ بنا چرچ میں بھی موسیقی کا رواج رہا، البتہ مجسمہ سازی اور مصوری انسان کا اپنا ذوق تھا، یہ غالباً تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ مذہب نے موسیقی ،مصوری اور مجسمہ سازی کو ممنوع اور حرام قرار دے دیا ہو، یہ صورت اسلام میں دیکھی جا سکتی ہے، سوال کرنے سے روک دینا بھی آزادی اظہار پر پابندی ہے مگر موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی پر پابندی قابل فہم ہے نہیں کیونکہ ان سب کا تعلق غور و فکر سے ہی ہے۔

عرب کی تاریخ میں شاعری کی روایت تو نظر آتی ہے اس کے علاوہ کوئی اور فن اس معاشرے میں پنپ نہیں سکا، اس کی وجہ اسے منطقے کا قبائلی نظام تھا جہاں زندگی طاقت کے گرد گھومتی رہے اور اب بھی یہ مزاج بدلا نہیں ہے، اب بھی عربوں کو دنیا کی سب سے زیادہ متشدد قوم کہا جاتا ہو، جن معاشروں میں طاقت کا زور چلتا ہے وہاں ذہن کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اسی لئے ARAB PENINSULAمیں کوئی فلاسفر موسیقار پیدا نہیں ہوا، یہ جو آپ کو کچھ آئمہ اور محدث اور مفسر نظر آتے ہیں یا معدودے چند سائنس دان ان سب کا تعلق عجم سے ہے، عجم کی صورت عرب سے قدرے مختلف رہی ہے، اسی لئے عجم نے چند مفکر پیدا  کئے مگر مذہبی پابندی کی وجہ سے اس علاقے میں بھی موسیقی فن مصور یاور مجسمہ سازی اور شاعری کا دور دورہ نہ تھا، اسلام پھیلا تو کئی صدیوں تک جنگیں لڑی جاتی رہیں، جس کے اثرات کئی نسلوں نے قبول کئے اور ذہن فنون لطیفہ کی جانب مائل ہونا ہی بھول گئے، پھر ریاستی جبر ایسا تھا کہ شعر و شاعری اور ادب کا خیال نہ آیا، بس فقے پر فقے لکھے جاتے رہے، فنون لطیفہ اس وقت تک انسان کے ساتھ نہیں چلتے جب تک ذہن میں نمی اور مزاجوں میں نرمی نہ ہو، مزاجوں کی کرختگی اور سختی نے پورے معاشرے کا مزاج بدل دیا۔

ہندوستان میں صوفی اپنے قدم جمانے کے لئے موسیقی کی جانب متوجہ ہوئے رومی دھمال کی طرح ڈال چکے تھے سو سوفیوں نے موسیقی اور رقص سے خود بھی خط اٹھایا اور اس کو مذہبی طور پر حلال بھی بنا دیا، مغلیہ دور میں شاعری اور فن موسیقی نے ترقی کی، اُردو کے تمام باکمال شاعر اسی دور میں پیدا ہوئے، خطاطی کو بھی عروج نصیب ہوا، یہ مصوری کا متبادل سمجھا جا سکتا ہے، ہندو چونکہ مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں سو مورتیاں تو بنتی رہیں مگر سماج اور مذہب کے ڈر سے لوگ مجسمہ سازی اور مصوری کی جانب نہ آسکے اور یہ صورت اب تک برقرار ہے، بھارت کے سماج کی رگوں میں رقص اور موسیقی ہی بہتی ہے، مورتی بنانے کاایک رواج بھی معاشرے میں موجود ہے مگر بھارت میں کوئی بڑا مجسمہ ساز پیدا نہ ہو سکا، نہ ہی کوئی بڑا مصور، BRIDGE HEMMETنے مضحکہ اڑاتے ہوئے لکھا انگلینڈ میں مصوری اور مجسمہ سازی کی روایت نہ تھی یہ روایت فرانس میں تھی سو انگریز ہندوستان میں جو چیز لائے وہی ہندوستانیوں نے قبول کر لیا، وہ اس SPELLسے باہر نہ نکل سکے۔

پاکستان میں ابتداء سے ہی مذہب کا جبر رہا جو اب تک جاری ہے سو پاکستان میں بھی شعر و شاعری، ادب تو پھولا پھلا موسیقی کا چلن بھی رہا مگر ضیاء الحق کے دور میں فلم ،ڈرامہ اور ادب روبہ انحطاط ہوا نئی سوچ پر قدغن لگی اور ملک میں میوزک اکیڈمیز نے کام کرنا بند کر دیا، اس کی جگہ نعت خوانی اور نعت کالج نے لے لی چونکہ یہ کاروبار زیادہ ثمر آور تھا اور ہن برستا تھا تو پاکستان کے نامور سنگرز نے موسیقی کو خیر باد کہا اور نعت خوانی کرنا شروع کر دی، یہ الگ بات کہ ان کو مبلغ کا بھیس بھی بدلنا پڑا، مگر لگے ہاتھوں یہ کام ہوتا رہا، فنون لطیفہ وہاں ترقی کرتے ہیں جہاں ان کو آزاد فضا میسر آجائے، اسی لئے مغرب فنون لطیفہ کا مرکز رہا اس کو عوامی اور سرکاری سرپرستی بھی حاصل رہی اور ان کے نصیب میں دولت عزت اور شہرت آئی جس کو وہ افراد رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو چاہتے تھے کہ پاکستان میں فنون لطیفہ کے لئے ماحول سازگار ہو۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.