الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے گردوں کی پتھری نکالنے میں کامیابی

37

 واشنگٹن: اب سنائی نہ دینے والی آواز کی لہروں سے گردوں کی پتھری کو آسانی سے تباہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ خنزیروں پر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ماہرین شیشے کی چھوٹی گولیوں کو آواز کی امواج سے ہلانے اور خاص سمت میں دھکیلنے کے کامیاب تجربات کئے ہیں۔ اس کے بعد خنزیروں پر اس کے تجربات کئے گئے جو بہت حد تک کامیاب ثابت ہوئے۔

ہم جانتے ہیں کہ پیشاب میں موجود بعض معدن اور کرسٹل جڑ کر پتھر کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کےبعد چھوٹی بڑی پتھریاں گردے یا پیشاب کی نالی میں پھنس جاتی ہے جس سے بہت تکلیف ہوتی ہے اور مناسب علاج نہ ہو تو گردے  کو شدید نقصان پہنچنے کےبعد پورا نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسداں مائیکل بیلے اور ان کے ساتھی ایک عرصے سے الٹراساؤنڈ لہروں سے گردے کی پتھریاں تلف کرنے پر غور کررہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اگر گردے ، پیشاب کی نالی یا دوسری جگہ کوئی پتھر پھنسا ہے تو ہلکے سے دھکیلنے پر وہ آگے کی جانب پھسلتے ہوئے جسم سے باہر خارج ہوسکتا ہے۔ پہلے 15 افراد کی چھوٹی پتھریوں کو کھسکایا گیا۔

اس کے بعد اب حال ہی میں انہوں نے الٹراساؤنڈ کا ایک بلند دباؤ والا حلقہ پتھری کے گرد پھینکا جس میں مجازی طور پر پتھری قید ہوکر رہ گئی۔ اب جب جب اس گول حلقہ حرکت کرتا خود پتھر بھی اس کے ساتھ کھنچا چلا آتا۔ ماہرین کے مطابق کئی مرتبہ اگر پتھری کو ہلکی سی حرکت بھی مل جائے تو اس سے بہت مدد ملتی ہے اور اس کو نکال باہر کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد اس ٹیکنالوجی کو تین ایسے سؤروں پر آزمایا گیا جنہیں دوا دے کر بے ہوش کیا گیا تھا۔ ان کے مثانے میں شیشے کے چھوٹے دانے ڈالے گئے تھے جو گردے کی پتھری کی جگہ استعمال کئے گئے تھے۔ اس کے بعد الٹراساؤنڈ لہروں سے انہیں حرکت دی گئی تو جہاں ماہر چاہتے تھے وہیں انہیں دھکیلنے میں نمایاں کامیابی ملی۔ اس طرح پتھری کو قابو کرنے میں غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی۔

اگرچہ  آڑے ٹیڑھے موتیوں کو مثانے جیسی بڑی جگہ پر ہلانا قدرے آسان ہے لیکن باریک نالیوں میں انہیں کھسکانا بہت مشکل کام ہوسکتا ہے۔ اسی بنا پر ناقدین نے انسانوں کے لیے اس عمل پر اپنی تشکیک کا اظہارکیا ہے۔ ان میں آکسفورڈ کے بین ٹرنے بھی شامل ہیں لیکن وہ اتنا اعتراف ضرور کرتے ہیں کہ جسم سے باہر رہتے ہوئے پتھری کو ہلانا بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.