
ایران نے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ سخت ردعمل قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمانی کمیشن نے اپنے ایک بیان میں دیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تو نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ اس کے خلاف متحد ہو جائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر پر حملے کی صورت میں علما جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے جس کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں موجود اسلام کے سپاہیوں کا بھرپور ردعمل سامنے آئے گا۔ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن نے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں موجود اسلام کے سپاہیوں کے ردعمل کی ذمہ داری آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔دوسری جانب ایرانی صدر نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا سبب بن جائے گا۔



