ہفتہ وار کالمز

وینزویلا

وقت کیا واپس لوٹ رہا ہے؟کیا سارے نظریات راکھ ہو چکے؟کیا ساری دنیا مفادات کی غلام ہو چکی؟کیا صدائے حق کبھی نہیں گونجے گی؟کیا ہو گیا واصف حسین؟کیوں بین ڈال رہے ہو،ایسا بھی کیا بدل گیا ایسا بھی کیا ہو گیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا،یہ بین بند کرو اور تاریخ پڑھ لو ،تاریخ آئینہ ہے سچائی نظر آ جائیگی،اندر کا کہرام تھما تو گہرا سا سانس لیا،ایک کپ چائے ایک دو سگریٹ اور پھر تاریخ سے مشورہ،کسی نے کہا تھاWorrying does not fix any thing.یہ ٹھیک ہے کہ گھبراہٹ اور بے چینی کسی بات کا حل نہیںمگر راستہ سوچ سے ہی نکلتا ہے خبر ملی تھی کہ امریکہ نے وینزویلہ پر حملہ کیا ہے وینزویلہ کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے نیویارک لے آئے ہیںان پرامریکہ میں منشیات لانے اور ہتھیار رکھنے کا الزام ہے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیو یارک میں مین ہٹن کی عدالت میں پیش کیا جائے گا،دونوں عدالت میں پیش ہوئے ان پر فردِ جرم عائد کی گئی،صدر مادورو نے کہا کہ وہ ایک مہذب انسان ہیں۔ایک ملک کے صدر ہیںاور ان کو اغوا کرکے امریکہ لایا گیا ہے جج نے مقدمے کی اگلی تاریخ مارچ میں رکھ دی،گویا مادورو کو ڈھائی ماہ وہ جیل میں رہیں گے اور ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ اس دوراں نائب صدر Rodriguez سے معاملات طے کر لیں،امریکی جنرل نے میڈیا کو ان تفضیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کس طرح امریکی فوج نے صدر
مادورو کے محل تک رسائی حاصل کی کتنے جنگی جہازوںاور ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا اور کس طرح مادورو کے بیڈ روم سےمادورو اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کیااور کتنی آسانی سے مشن مکمل کیا،بتایا گیا کہ مشن میں وینزویلا کے چالیس گارڈز مارے گئے،چند دن کے بعد وینزویلا کے حکام نے خبریں دیں کہ مادورو کی ٹانگ پرچوٹیں آئیں،مادورو کی اہلیہ بھی زخمی ہوئیں مادورو کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر نیویارک لے جایا گیا،یہ بھی بتایا گیا کہ اس آپریشن میں ویزویلا کے سو سے زائدفوجی یا گارڈ مارے گئے اور شہر میں شدید گن فائر کی آوازیں آتی رہیں یہ آپریشن رات کے دو بجے کیا گیاٹرمپ نے بتایا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے تیل تک رسائی حاصل کر لی ہے اب وینزویلا صرف امریکہ کو تیل بیچے گا اور جو آمدنی ہوگی وہ صدر ٹرمپ اپنی صوابدید کے مطابق امریکی اور وینزویلا کے عوام پر خرچ کرینگے تیل تک امریکی کمپنیوں کو رسائی حاصل ہوگی اور ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ویزویلا کے پاس دنیا کا 55%تیل ہے اگر روس اور چین چاہیں تو امریکہ سے تیل خرید سکتے ہیں،وینزویلا اور امریکہ کے درمیان کسی معاہدے کی خبریں آرہی ہیںاوراور کہا جا رہا ہے کہ تمام معاملات smoothly طے ہو رہے ہیںتیل تک رسائی حاصل کرنے کے بعد صدر ٹرمپ بہت مطمئن نظر آئے ان کو خوشی ہے کہ یہ سارا آپریشن آسانی سے طے پایااور ویزویلا وہی کر رہا ہے جو امریکہ چاہتا تھاآج کل ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کی بات کر رہے ہیں۔وینزیویلا پر فوج کشی پر یورپ کا ردعمل بہت محتاط رہا،روس اور چین نے سخت بیانات دئے،افریقہ اور ایشیا میں اتنی جان کہاں کہ وہ سخت موقف اختیار کر سکیں،یورپ سمجھتا ہے کہ کہیں نہ کہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے مگر یورپ میں اتنا دم نہیں کہ وہ امریکہ کے خلاف کھڑا ہو سکے،ابھی خبر آئی ہے کہ امریکہ نے صوتی بم کا بھی استعمال کیا جس سے وینزویلا کے تمام فوجی صدر مادورو اور ان کی اہلیہ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور امریکی فوجیوں کو ان کو قابو کرنے کا وقت مل گیا،بہر حال طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا تاریخ کے اوراق پلٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تو پہلے بھی ہو چکا ہےبالکل ویسا ہی جیسا ایک کہانی میں ہے کہ بھیڑیئے نے دریا کنارے ایک میمنے سے کہا کہ تم میرا پانی گندا کر رہے ہو اور میمنے نے کہا کہ پانی تو تمہاری جانب سے میری جانب بہہ رہا ہے تو بھیڑیئے نے کہا کہ ضرور تم نے پچھلے سال مجھے گالی دی ہوگی میمنا کہتا رہ گیا کہ میری عمر تو ابھی چھ ماہ ہی ہے مگر بھیڑیا میمنے کو کھا گیاحضرت عمر کے زمانے میں بھی شام اور ایران پر چڑھائی بلا جواز ہی کی گئی عذر یہ تھا کہ ہم اللہ کا پیغام دنیا تک پہنچا رہے ہیں بنو امیہ اور بنو عباس نے کچھ ریاستوں کو خطوط لکھے کہ ہمارا دین قبول کر لو اور ہماری پناہ میں آجاؤ،اگر ہمارا دین اختیار نہیں کرتے تو جزیہ دینا ہوگااور اگر جزیہ نہیں دوگے تو ہمارے تمہارے درمیان تلوار کرے گی،اسپین میں بھی یہی ہوااگر میں یہ کہوں کہ اس دور کا یہ طریقہ ٹرمپ نے اختیار کر لیا تو کچھ غلط نہ ہوگا،سیاست دان تاریخ سے ہی سیکھتے ہیں اور تاریخ کو ہی استعمال کرتے ہیںوینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ میں بہت بار ہو چکا ہے کسی نے کہا تھا کہ ایک جمہوری لیڈر جب بہت طاقتور ہو جائے توآ ّمر بن جاتا ہے،اور ایک عالمی لیڈر کو جب طاقت نصیب ہو تو فاشسٹ بن جاتا ہے،مگر طاقت کے پاس اپنا فلسفہ ہوتا ہے کمزوروں کو تاوان دینا ہی پڑتا ہے یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا،تاریخ کا کوئی دور ایسے واقعات سے خالی نہیںسکندر سے لے کر آج تک طاقت کا بے محابا نہ استعمال ہوا ہے اور عجیب بات ہے کہ تاریخ فاتح کے ساتھ ہی کھڑی رہی ہے،جب کوئی کمزور مرتا ہے تو وقت اس کی لاش پر کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ تم کمزور کیوں تھے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات،یہ
قدرت کا اصول بھی ہے اور اس کا کوئی مستثنیٰ نہیں
یہ تو ہم نے تاریخ میں پڑھا ہے مگر تاریخ سے متصل تاریخ کا تجزیہ بھی ہوتا ہے، غلط اور صحیح کے کچھ پیمانے بھی ہیںجنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کی تباہیوں کے بعد کچھ اصول مرتب کئے گئے پہلے لیگ آف نیشنز بنی ،بوجوہ یہ تنظیم نہ چل سکی،پھر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی،اقوامِ متحدہ کا چارٹر بنا،بے شمار ذیلی ادارے بن گئے جو تعلیم صحت،انسانی حقوق ،سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے تھے،اس کی بنیاد یہ تھی کہ جو قوم مصیبت میں ہوگی دیگر اقوام اس کی مدد کریں گی کہا گیا کہ ایسا جنگ کی روک تھام کے لئے کیا گیا ہے وہ قوم جس کی مدد کی جا رہی ہے وہ مدد کرنے والی اقوام سے کیوں جنگ کرے گی،اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد دنیا میں امن قائم کرنا تھا جنگ کو روکنا تھاایک دوسرے کی مدد کرنا تھایہ ایک نیک مقصد تھا امریکہ نے ان اداروں کو تعمیر کرنے میں دامے،درمے سخنے ہر طرح مدد کی ان اداروں کی فنڈنگ میں سب سے زیادہ Contributionsامریکہ کی طرف سے ہی آتی رہیں،جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ بہت کمزور ہو چکا تھا،پڑھا لکھا مہذب یورپ تا دیر اپنے زخم چاٹتا رہا،اس نے جنگ سے توبہ کرلی اور یہ طے پایا کہ باہمی اختلافات تو گفت و شنید کے ساتھ حل کر لیا جائے گا،مگر جلد ہی USSRاور امریکہ کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی اور دنیا دو بلاکس میں بٹ گئی امریکہ کی بے پناہ طاقت اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں اس کی Supermacyنے امریکہ کو بے چین کر دیاور جنگوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیاامریکہ نے اپنے بیک یارڈ میںبھی کاروائیاں کیں،اور ہر پانچ دس سال بعد ایک نئی جنگ شروع کر دی جاتی،مگر پھر بھی امریکی اور یورپی سیاست دانوں میں وقار نظر آتا تھا کہیں کہیں دلیل بھی ہوتی Rurhlessnessتھی مگر منہ زوری نہ تھی عراق جنگ نےسینہ زوری اور منہ زوری کو یکجا کر دیا شائد یہ پہلی بار ہوا کہ تیل کی خاطر ہر حد پار کر لینے کا تہیہ کر لیا گیا یورپ نے امریکہ کا پورا پورا ساتھ دیا،کوئی ہاتھ روکنے والا نہیں تھا افریقہ اور ایشیا میں اتنی سکت کہاں تھی،اب یہ سلسلہ وینزویلاتک پہنچ چکا ہے اگلی باری شائد گرین لینڈ یا ایران کی ہو سکتی ہے طاقت کوئی دلیل نہیں مانتی،انسانیت مطمئن تھی کہ ملک گیری اور توسیع پسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے مگر یہ گمان بہت جلد ٹوٹ گیا یہ کئی دہائیوں میں پہلی بار ہوا کہ امریکہ نے یورپ کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے گرین لینڈ پر اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یورپ منہ دیکھتا رہ جائے گا یورپ پر ٹیرف لگا تو یورپ نے کیا کر لیا،ہزار بار دہرائیے کہ طاقت بذاتِ خود ایک دلیل ہے مگر پھر یہ دلیل مر نہیں سکتی کہ اپنے مفادات کے لئے کمزور ممالک پر قبضہ کرنا ان کے وسائل پر تصرف حاصل کرنایا ان کو زیرِ اثر رکھنا سیاست کی کسی صورت میں روا نہیں ہو سکتی،یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ چھوٹے ممالک جو تیل یا معدنی وسائل سے مالا مال ہیں ان کے یہ وسائل امیر ملکوں کے ہی کام آتے ہیں،چھوٹے ملکوں کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہی نہیں کہ وہ اپنے وسائل کوrefine/process کریں اور انہیں مہنگے داموں بیچیں پاکستان کے پاس ریکوڈک کے ذخائر کو processکرنے کی ٹیکنالوجی نہیں کینیڈا نے یہ نہیں کہا کہ ٹیکنالوجی ہم سے لے لو معدنیات خود Processکرلو اور ہم تم سےprocessed إعدنیات خرید لیں گے کینیڈا ہم سے خام مال لے گا خود پراسس کرے گا اور دنیا کو مہنگے داموں بیچے گا ساری دنیا کے خام وسائل امیر ملکوں کے کام ہی آتے ہیں،بقائے باہمی کے اصول کو زندہ رہنا چاہیے۔چھوٹے اور غریب ملکوں کو بھی سانس لینے کاحق ہونا چاہیئے ملک کے وسائل اس ملک کے عوام کی ملکیت ہوتے ہیں ۔وہ ان وسائل کو بیچ کر اپنے لئے سانسیں خریدتے ہیں ان سے ان کی سانسیں نہ چھینی جائیں چھوٹے ملک بیس سال میں جو کچھ بناتے ہیں چار دن کی جنگ ان کو پھر بیس پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button