تاریخی قانون سازی، لبنان سزائے موت ختم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا

بیروت: لبنان کی پارلیمنٹ نے سزائے موت ختم کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد لبنان مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں سزائے موت کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔لبنانی پارلیمنٹ نے منگل کے روز قانون میں ترامیم کے بعد سزائے موت کے خاتمے کی منظوری دی۔ نئے قانون کے تحت سزائے موت کی جگہ عمر قید بامشقت دی جائے گی۔لبنان کے وزیر انصاف عادل نصار نے پارلیمانی ووٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت کا خاتمہ لبنان کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے لبنان خطے اور عالمی سطح پر اپنی قائدانہ حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔وزیر انصاف نے بعد ازاں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت ختم کرنے کے فیصلے کو جرائم کے حوالے سے نرمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ کسی مجرم کو معاف کرنے کے بجائے ریاست کی جانب سے قتل کے عمل کو مسترد کرنے کا اظہار ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قانون کی منظوری سے قبل لبنان میں 85 افراد سزائے موت کے منتظر تھے۔ تنظیم نے قانون کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔



