Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

ہیلو ۔۔۔۔اختر !

ایک بہت اچھے، مہذب ،متواضع، ملنسار، خوش مزاج ، زیرک ،پرامن ، صاحب بصیرت اور نہایت منظم زندگی گزارنے والے مہر اللہ یار خان اختر 19جولائی 2026ء کی صبح قریباً پانچ ساڑھے پانچ بجے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ مہر اللہ یار خان اختر میرے بڑے بہنوئی تھے۔ وہ اعلی تعلیم حاصل کرکے محکمہ تعلیم و تدریس سے وابستہ رہے۔ نہایت خوش لباس تھے ، خوش لباسی کو اس دور میں ” فیشن ایبل” ہونا کہا جاتا تھا ۔مجھے ایک ننھا سا واقعہ یاد آ رہا ہے.میں (پڑھائی سے بے زار) پرائمری اسکول کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ میری بڑی بہن کے ساتھ ، جنہیں ہم گھر میں وڈی باجی یعنی بڑی باجی کہتے تھے، ہمارے گھر ملنے آئے ۔اس زمانے کے فیشن کے مطابق انہوں نے ہلکے چاکلیٹی رنگ کا نیا سفاری سوٹ پہن رکھا تھا۔ میں وڈی باجی کے ساتھ بیٹھا انہیں مسلسل دیکھے جا رہا تھا،پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور باجی کے کان میں آہستہ سے پوچھا کہ باجی بھائی جان نے ڈرائیوروں والے کپڑے کیوں پہنے ہوئے ہیں؟. اب میں باجی کو دیکھ رہا ہوں اور وہ زور سے ہنس رہی ہیں۔بھائی جان نے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ہے۔ اب باجی کیا بتائے ،کہنے لگیں کہ آپ کے فیشن کی تعریف کر رہا ہے۔ہاں تو بات ہیلو اختر کی ہو رہی تھی۔ ٹیلی فون کرتے وقت ان کا یہ انداز پورے گھرانے میں مشہور اور پسندیدہ بن گیا تھا۔ یاد رہے کہ اس دور میں موبائل فون کی حکومت شروع نہیں ہوئی تھی۔گھروں میں کسی مخصوص جگہ پر ٹیلی فون سیٹ رکھ دیا جاتا تھا۔اور گھنٹی بجنے پر جو بھی قریب ہوتا ، وہ فون اٹھا لیتا۔ اختر بھائی جان فون کا آغاز "ہیلو ۔۔۔اختر” سے کیا کرتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ جب بھی ان کا فون آتا اور فون ریسیو کرنے والے سے پوچھا جاتا کہ کس کا فون ہے ؟ تو جواب ملتا ۔۔۔۔ہیلو۔۔ اختر ۔وہ گھرانے میں اختر بھائی اور بچوں میں بھائی جان اختر کے نام سے پکارے جاتے۔مہر اللہ یار خان اختر کا اپنے بچوں کے ساتھ دوستی اور بےتکلفی کا رشتہ تھا۔خدا نے دو بیٹے عطا کئے۔فرحان خان ٹونی اور عدنان احمد خان ٹیپو۔ان دونوں بچوں کے ناموں کے ساتھ ٹونی اور ٹیپو میں نے لگائے تھے۔دونوں بچے ماں باپ کے لاڈلے اور باڈی بلڈر ۔فرحان خان ٹونی شیل پاکستان میں جاب کرتا تھا اور چند سال پہلے سکھر پوسٹنگ کے دوران ہارٹ اٹیک سے اللہ کو پیارا ہوگیا۔جوان بیٹے کی بے وقت رحلت نے مہر اللہ یار خان اختر کو اندر باہر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔اس سانحے سے پہلے سال 2001ء میں میری بڑی باجی عیدالفطر کے روز اچانک بیمار ہوئیں،ایمر جنسی میں ہسپتال کا رخ کیا گیا، فیصل آباد کے ہر ہسپتال کے ڈاکٹر چھٹی پر تھے۔یہی فیصل آباد شہر کی وہ عید تھی جب ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کی طرف جاتے ہوئے میری بڑی باجی اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں۔ یہ ہمارے خاندان کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا۔ مہر اللہ یار خان اختر ان سانحات کے بعد اپنی صحت کے حوالے سے ایک الگ دور میں داخل ہو گئے ۔انہوں نے پوری زندگی بڑی بے فکری اور صحت تندرستی کے ساتھ گزاری تھی۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے فیصل آباد میں اپنے بہت بڑے گھر میں اپنی مرضی کا ماحول بنا رکھا تھا،ایک احاطے میں بھینس وغیرہ ، پھر دوست احباب کے لیے ڈیرہ نما جگہ ، حقہ ہر وقت تازہ رہتا ، گاوں سے لائے گئے مستعد خدمتگار حاضر رہتے۔ میزبان کمال کے تھے۔گاوں سے شہر آنے والے مہر صاحب سے لازماً ملنے کے لیے آتے۔ ان سانحات کے بعد وہ چمکنے والی شخصیت کچھ بجھ سی گئی تھی۔شوگر کا عارضہ لاحق ہوا۔بچے بہت خیال رکھتے تھے۔ اب عدنان ٹیپو ان کا چھوٹا بیٹا بھی تھا، بے تکلف دوست بھی اور ایک طرح سے بزرگ بھی۔ بزرگ وہ اس وقت بنتا،جب مہر صاحب کو وقت پر دوا دینی ہوتی ۔ٹیپو اپنے باپ کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کر رہا تھا۔کہنے لگا کہ میڈیسن لینے کا وقت آتا تو گھر کے بڑے کے منصب سے چپکے سے اتر جاتے اور ننھے سے بچے بن جاتے،دوا کو ہر طریقے سے ٹالنے کی کوشش کرتے ۔پھر ٹیپو بزرگ بن کر اس ننھے بچے کو پیار سے دوا کھانے پر آمادہ کرتا۔ان کا دل بہلاتا،وعدے لیتا کہ دوا وقت پر لینی صحت کے لیے ضروری ہے۔ آخری دس سالوں میں دل کے مسائل، شوگر کے مسائل کے ساتھ مسلسل زیر علاج رہنے کی اہمیت اور ضرورت سے تنگ تھے اور مصر تھے کہ میں تو بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں۔ سوچتا ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ اپنی ماں اور اپنے بڑے بھائی کی وفات کے صدمے سہنے والا چھوٹا بیٹا عدنان ٹیپو یہ صدمہ کیونکر برداشت کر پائے گا ۔وہ ہمت والا بچہ ہے،پولیس میں اعلی افسر ہے،پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے ۔لیکن وہ جو غالب نے کہا تھا کہ ؛
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں؟
کوئی کتنا پڑھا لکھا اور باشعور کیوں نہ ہو، اپنے دل کو سنگ و خشت نہیں بنا سکتا۔ میں عدنان ٹیپو کے لیے پریشان ہوں کہ باپ کا خدمتگار بچہ یہ دکھ اور یہ درد کیسے سہہ پائے گا۔مجھے مہر اللہ یار خان اختر کی اچانک وفات کی خبر ملی ،یقین نہیں آیا ،پھر فون پہ فون شروع کئے ۔بالآخر ایک بڑی بہن نے فون اٹھا لیا، انہوں نے سانحے کی تصدیق کی اور بتایا کہ اختر بھائی ایک مہینے سے بیمار تھے ،سارے ٹیسٹ کلیئر آ رہے تھے ۔جبکہ تیز بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ پھر 19 جولائی صبح کی اذان کے وقت وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button