
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اعلان کیا ہے کہ شہر کے محکمہ برائے صارفین و کارکنان کے تحفظ نے معروف سیلف اسٹوریج کمپنی ایکسٹرا اسپیس کے خلاف کارروائی میں 17 لاکھ ڈالر کے تصفیے کو یقینی بنایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت صارفین کو مالی معاوضہ بھی دیا جائے گا جبکہ کمپنی پر آئندہ سخت قانونی شرائط بھی نافذ ہوں گی۔محکمہ کے مطابق فروری 2026 میں کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ اس نے صارفین کو کم نرخوں کا لالچ دے کر اپنی خدمات حاصل کرنے پر آمادہ کیا، بعد ازاں فیس میں غیر معمولی اضافہ کیا، اسٹوریج یونٹس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی اور بعض معاملات میں قانونی کارروائی مکمل کیے بغیر صارفین کا سامان ضبط کرکے نیلام کر دیا۔تصفیے کے تحت کمپنی متاثرہ صارفین کو 10 لاکھ ڈالر بطور معاوضہ ادا کرے گی جبکہ 7 لاکھ ڈالر سے زائد رقم سول جرمانے کی مد میں ادا کی جائے گی۔ کمپنی نے مستقبل میں صارفین کے ساتھ شفاف کاروباری طرزِ عمل اختیار کرنے، غیر منصفانہ نرخوں میں اضافے سے گریز کرنے، اسٹوریج یونٹس کو مناسب حالت میں رکھنے اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی بھی صارف کا سامان ضبط یا نیلام نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک سٹی میں سیلف اسٹوریج کمپنیوں کے لیے نیا لائسنسنگ پروگرام نافذ ہونے والا ہے۔ شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ شہر میں کاروبار کرنے والی تمام سیلف اسٹوریج کمپنیوں کو صارفین کے حقوق اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری کرنا ہوگی۔میئر زوہران کوامے ممدانی نے کہا کہ لوگ اپنی قیمتی اشیا کی حفاظت کے لیے اسٹوریج کمپنیوں پر اعتماد کرتے ہیں، نہ کہ انہیں نظرانداز کیے جانے یا ان کا سامان ضبط و نیلام کیے جانے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ جن کمپنیوں نے کم قیمتوں کا لالچ دے کر بعد میں صارفین کا استحصال کیا، انہیں اب قانون کے مطابق جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ان کے بقول یہ تصفیہ تمام کمپنیوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ نیویارک کے شہریوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔



