ۜاس طرح سفیرانِ حرم آتے ہیں !

ایران پر بلاجواز جو سامراجی اور صیہونی جارحیت اس سال 28 فروری کو مسلط کی گئی تھی اس نے چار پانچ مہینے میں دنیا کے سیاسی نقشے کو یوں بدل دیا ہے کہ تاریخ کے ہر طالب علم کی عقل دنگ ہوکررہ گئی ہے !جس طرح کی تبدیلی ایران نے اس مشترکہ جارحیت کے جواب میں اپنے عزم و استقلال اور صمیمِ قلب سے مرتب کی ہے اس کیلئے آج کی برق رفتار دنیا میں بھی کئی دہائیوں (عشروں) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے عالمی حالات کے مبصر اور تاریخ داں حیرت میں ہیں کہ ایران نے اپنی پر عزم مزاحمت سے کس سرعت کے ساتھ دنیا کے سیاسی اور معاشی نقشے پر وہ نقوش مرتسم کئے ہیں جن کے اثرات نہ صرف دیرپا ہونگے بلکہ اس سے موجودہ دنیا اور آنے والی دنیا بھی متاثر ہوتی رہے گی !
ایک تو ایران نے اس سامراجی عالمی طاقت کے زعم کو اپنی دلیرانہ حکمتِ عملی اور حکمت پر مبنی پالیسی سے باطل کردیا ہے جس نے دنیا پر اپنی طاقت کی ایک طرح سے دہشت بٹھائی ہوئی تھی! سامراجی گروگھنٹال لاکھ طوطے کی یہ رٹ لگاتے رہیں کہ انہوں نے ایران کی طاقت اور دفاعی نظام کو تہس نہس کردیا ہے لیکن آج کی دنیا اب ان کھوکھلے دعووں سے مرعوب نہیں ہوتی۔ ایک بچہ بھی یہ سوال کرسکتا ہے کہ اگر آپ نے اپنے دشمن کو بالکل بے دست و پا کردیا ہے تو پھر آپ اس کے ساتھ امن کے مذاکرات کیوں کر رہے ہیں ؟ ایسے تہس نہس دشمن کو تو پھر آپ کے قدموں میں گر کر آپ سے امن کی بھیک مانگنی چاہئے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے کہ آپ کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ایران آپ کے ساتھ وہ معاہدہ کرلے جس سے آپ کی گلو خلاصی ممکن ہوجائے !جارحیت مسلط کرنے والوں کا خیال تھا کہ اگرانہوں نے ایران کی اعلیٰ قیادت کو ختم کردیا تو ایران گھٹنےٹیک دے گا اور سامراجی- صیہونی گٹھ جوڑاس کے ساتھ اپنی من مانی کرسکے گا !اسی مذموم ارادے سے اس جارحیت نے حملہ کی پہلی رات ہی ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنائی اور ان کے پورے کنبہ کو شہید کردیا تھا، باقاعدہ نشانہ لگاکر لیکن پھر بھی رہبر اعلیٰ کے صاحب زادے اس ننگی جارحیت میں دشمن کا نشانہ بننے سے رہ گئے اور ایرانیوں نے انہیں صاحب زادے کو اپنی رہبری اور قیادت کیلئے چن لیا !استعماری جارحیت کی سب سے بڑی ناکامی یہی ہے کہ اپنی دانست میں تو اس نے ایرانی قیادت کو تہس نہس کرنا چاہا تھا کیونکہ اس کا گمان تھا کہ اس طرح ایران کا سیاسی نقشہ ہی بدل جائے گا، ایران سیاسی انتشار کا شکار ہوجائے گا اور استعمار اپنی پٹھو قیادت ایران پر تھوپ سکنے کے گھناؤنے منصوبہ میں کامیاب ہوجائے گا ! اس مقصد کیلئے اس نے ایران کے سابقہ شہنشاہ کے بیٹے کو، جسے استعمار نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور شہنشاہیت کے خاتمہ کے بعد سے پرورش کیا ہے ، تیار رہنے کا حکم بھی دےدیا تھا کہ وہ ایران کا وہی دور واپس لانے کیلئے کٹھ پیلی کا کردار ادا کرے گا جسے اسلامی انقلاب نے ہمیشہ کیلئے لپیٹ دیا تھا !لیکن ایران کا اسلامی نظام اپنی ثابت قدمی سے اپنا لوہا منوانے کیلئے آج بھی استعمار کے خلاف اسی استقامت کے ساتھ کھڑا ہے جیسے خامنائی کی قیادت میں تھا اور اس کا ثبوت ہفتے بھر طویل وہ تقریبات ہیں، وہ ایران کا قومی سوگ ہے جو خامنائی مرحوم کی تجہیز و تکفین کے حوالے سے اس وقت ایران میں بپا ہورہا ہے اور اس تنظیم اور اس وسعت کے ساتھ ہورہا ہے جس سے دنیا کی نظریں ایران کی طرف لگی ہوئی ہیں!دنیا بھر سے سو سے زائد ممالک کے قائدین اور زعماء خامنائی صاحب کی تجہیز و تکفین کی تقریبات میں شرکت کیلئے پہنچے ہیں۔ ان وفود میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کی ایران سے سیاست اور ریاست کے معاملات میں ایک نہیں بنتی تھی لیکن جس استقلال کے ساتھ ایرانی قیادت نے استعماری اور صیہونی جارحیت کے دانت کھٹے کئے اس نے دوستوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں کو بھی متاثر کردیا ہے اس حد تک کہ وہ ایران کے عوام کے ساتھ اس سوگ میں شریک ہوگئے ہیں !
حکمتِ عملی وہی کامیاب سمجھی جاتی ہے جو بدترین دشمن سے بھی داد وصول کرلے !
ظاہر ہے کہ سامراجی امریکہ کے صدر ٹرمپ اپنے صیہونی حلیف، اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو، کے ہمراہ ایران کے بدترین دشمن شمار کئے جاتے ہیں اور یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے۔ یہ نہ ہوتا تو ایران پر وہ جارحیت مسلط نہ کی جاتی جس کا خمیازہ پوری دنیا بھگت رہی ہے !لیکن ایرانی عوام کا جوش و خروش اپنے مرحوم ، شہید، رہنما کیلئے دیکھ کر جنابِ ٹرمپ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ میں تو سمجھتا تھا کہ ایرانی عوام خامنائی سے نفرت کرتے ہیں لیکن وہی عوام تو اپنے شہید رہبر اعلیٰ کیلئے سینہ کوبی کر رہے ہیں اور غم و اندوہ سے نڈھال ہیں !لیکن اپنے سحر میں مبتلا اور اپنی کھوکھلی طاقت کے ڈھول کا پول کھل جانے کے بعد بھی اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے جنون کا شکار ٹرمپ اب بھی یہ ڈینگ ہانک رہے ہیں کہ میں چاہوں تو ان سب سوگواروں کو مار سکتا ہوں لیکن پھر مذاکرات کرنے کیلئے کون بچے گا؟یہ تکبر، یہ زعم ہی امریکہ کو لے ڈوبا ہے!
اس پر ہمیں وہ شعر یاد آگیا جس کا چرچا پاکستان میں ہر عسکری طالع آزما کےدور میں خاص طور پہ رہتا ہے:
تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اسے بھی اپنے خدا ہونے کا اتنا ہی یقیں تھا !
یہی تکبر، یہی طاقت کا زعم امریکہ کی عالمی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ہے لیکن اپنی ذات کے سحر کا شکار شخص اب بھی خدائی کا دعویدار نظر آتا ہے اور اس غرور کے ساتھ موت و حیات کے فتویٰ اپنی زبان سے ادا کر رہا ہے جیسے واقعی خدائی اس کو مل گئی ہو !یہ صرف امریکہ کی بدنصیبی ہی نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کیلئے شدیدتشویش کا لمحہ ہے کہ ایسے وقت جب امریکہ اپنے قیام کی ڈھائی صد سالہ سالگرہ منا رہا ہے امریکہ کی صدارت پر وہ شخص فائز ہے جو امریکی انقلاب کے بانی مبانیوں کے ہر تصور اور نظریات کی اپنے اقوال اور افعال سے نفی کر رہا ہے اور اس فعل پر اسے کوئی شرمندگی نہیں ہے !امریکی سامراج کی ایران دشمنی تو سمجھ میں آتی ہے اور اس کا سب سے بڑا محرک یہ ہے کہ امریکہ کی عالمی پالیسی پر، اور خاص طور پہ اسلامی ممالک کے ضمن میں، ایک طرح سے صیہونی مفادات کو حاکمیت حاصل ہے اور ایسی حاکمیت ہے کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں کی مجال نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسا اقدام کرسکنے کی جراءت کریں جسے اسرائیل کی آشیرواد نہ میسر ہو۔ یہی سبب ہے کہ اب امریکہ کی نوجوان نسل میں خصوصا” یہ تحریک سر ابھار رہی ہے کہ ایک تیسری پارٹی کی اشد ضرورت ہے جوامریکہ کی نوجوان نسل کے جذبات و نظریات کی نمائندہ ہو اور ان کے تخئیل کو عملی جامہ پہنا سکے !لیکن ایران کے علاقائی اور پڑوسی خلیج کے کچھ عرب ممالک ہیں جن کی ان سوگ کی تقریبات میں شرکت نہ کرنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا سوائے اس تاریخی عرب- عجم کی دشمنی کے جسے ختم کرنے کا پیغام ہمارے رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کا لازمی جزو تھا اور جس کی تلقین حضور ﷺ نے اپنےحجتہ الوداع کے خطبہ میں کی تھی، بطورِ خاص !ان خلیجی ممالک میں کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات نمایاں ہیں جنہوں نے ایران کے اس سوگ میں شرکت نہ کرکے عرب اور عجم کی تاریخی دشمنی کو برقرار رکھا ہے ! لیکن آفرین ہے سعودی حکومت پر کہ جس نے اس روایت کی نفی کرتے ہوئے اس سوگ میں اپنے نائب وزیرِ خارجہ کی سطح پر ایک وفد کے ساتھ شرکت کی جس پر سعودی عرب کی قیادت کی دانشمندی کو داد دینی چاہئے۔ ہمارا دین بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ کسی کی خوشی میں چاہے تم شریک نہ ہو لیکن کسی مسلمان کے سوگ میں شرکت ضرور ہونی چاہئے۔ایرانی قیادت بھی بلا کی فراست مند ہے کہ اس نے اپنے ہر پڑوسی ملک کے وفد کا استقبال کرنے کیلئے قرآنی آیات کا وہ برمحل استعمال کیا جو اس کے سیاسی رویہ کی ایک طرح سے تصویر کشی کرتا ہو۔ مثال کے طور پر اس نے سعودی وفد کے استقبال کیلئے سورہٰ آلِ عمران کی وہ آیت منتخب کی جو غزوہء بدر کے تناظر میں اتری تھی اور جس کا لفظی ترجمہ کچھ یوں ہوتا ہے: تمہارے لئے دو فوجوں کے تصادم میں ایک نشانی تھی : ایک فوج اللہ کیلئے لڑ رہی تھی اور دوسری کفار کیلئے۔ ایمان والے اپنے دشمن کو اپنے سے دوگنا دیکھ رہے تھے۔ لیکن اللہ جس کی نصرت کرنا چاہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔ یقینا” اس میں ان کیلئے سبق ہے جو بصیرت رکھتے ہوں !یقیناً سعودی حکومت بصیرت کی حامل ہے اور اس کی ایران کے شہید رہبر کی تجہیزو تکفین میں شرکت اس بصیرت کی غماز ہے کہ پرانی اور تاریخی دشمنی کیسے پس پشت ڈالی جاسکتی ہے ایک برادر اسلامی ملک کے سوگ میں اس کا غم بٹانے کیلئے !
اس پر ہمیں وہ مشہور شعر یاد آگیا:
آج اس طرح سفیرانِ حرم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں
خدا کرے کہ سفیرانِ حرم کی بصیرت زندہ و تابندہ رہے !سعودی قیادت کی یہ پیش رفت تاریخ ساز ثابت ہوسکتی ہے اگر وہ باریک بینی سے یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ سعودی عرب اور خلیج کے دیگر تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک کی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈے ان ممالک کے دفاع کیلئے نہیں ہیں۔ یہ اڈے صرف اور صرف صیہونی ریاست اسرائیل کی توسیع پسندی کیلئے ہیں اور حالیہ ایران- امریکہ جنگ نے یہ حقیقت بغیر کسی ابہام کے واضح کردی ہے !اب خلیج کے عرب ممالک کو یہ چاہئے کہ وہ اپنی بے مصرف اور بے سود امریکہ کی سرپرستی کی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں اور ایران کے اس نظریہ پر سنجیدگی سے غور کریں کہ خلیج کے ہر ملک کا دفاع علاقائی تعاون میں مضمر ہے اور امریکی سامراج سے یہ توقع رکھنا کہ وہ عرب ممالک کے دفاع کو کبھی بھی اس سطح پر رکھے گا جس سطح پر اسرائیل کا دفاع اور مفاد اسے عزیز ہے !آنے والا وقت بہت جلد یہ دکھادے گا کہ خلیج کے عرب ممالک نے اس حالیہ پیش رفت سے کیا سیکھا ہے، کیا پایا یا کھویا ہے !ان ممالک کے سربراہان کو یہ کلیہ بطورِ خاص یاد رکھنا چاہئے کہ مومن ایک ہی بل سے دوبارنہیں ڈسا جاتا !



