Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

سپریم لیڈر کا سپریم جنازہ،ڈیڑھ کروڑ افراد کی شرکت!قومی یکجتی کی مثال!

28 فروری 2026 کواسرائیل اور امریکی حملے کے نتیجے میںایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت خاندان کےچار افراد نےجام ِشہادت نوش کیا۔ شہادت کے چار ماہ بعدتدفین کی رسومات ادا کی گئیں،پچھلےجمعے کے روز تہران میں شروع ہونے والی آخری رسومات کئی روز تک جاری رہیں جس میںبین الاقومی وفود بشمول عرب اور اسلامی دنیا سے آئے ہوئے سرکاری وفود شریک ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان تقریبات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد نے شرکت کی ۔اس موقع پر علی خامنہ ای کا تابوت ایک ہال میں رکھا گیا تھاجہاں ان کے ساتھ خاندان کے دیگر افراد بشمول ان کی بیٹی بشریٰ، پوتی زہرہ محمدی، داماد مصباح الحودہ اور مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرہ حداد عادل کے تابوت بھی رکھے گئےتھے ۔ یہ تقریب نہایت منظم اور پُرمعنی تھی جس کو باقاعدہ ایک حکمت عملی کو مدِنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔جنازہ میںجو سرکاری وفود آئے تھے انھیں باری باری ایک گروپ کی شکل میںتابوت کے سامنے لایا جاتا۔گروپ میں شامل لوگ عقیدت اورا حترام سے اپنا تعزیتی پیغام نوٹ کرواتے۔وفود کے ہال میں داخلے کے ساتھ ہی موسیقی بجتی سنائی دیتی، سرکاری وفود جب ہال میں تعزیت کے لیے روکتےتو اس وقت قرآنی آیات کی تلاوت کی جاتی،اس میں غیر ملکی سرکاری وفود کی شمولیت اور تقریبات کے دوران موسیقی، وفود کی آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی قرآنی آیات اور وہاں نظر آنے والے مناظر نے بھی صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ ہر وفد کے لیے مختلف آیات کا انتخاب کیا گیا تھا۔ کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ آیا ہر وفد کے لیے منتخب کی جانے والی آیات کے پیچھے کوئی خاص وجہ تھی ؟وفود کی آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی آیات کی فہرست شیئر کرتے ہوئے دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ آیات بے ترتیب نہیں تھیں، ’بلکہ انھیں احتیاط سے منتخب کیا گیا تھا ۔کچھ صارفین کے خیال میں یہ قرآنی آیات کی صرف تلاوت نہیں تھی… بلکہ اس میں ایک سیاسی یا علامتی پیغام تھا۔
ان کا مزیدخیال تھا کہ ایسی آیات سیاستدانوں اور سفارت کاروں کو اشارے دینے کے لیے استعمال ہوتی ہیں ۔کچھ صارفین ایسا نقطۂ نظر بھی رکھتے دکھائی دیئے،ان کا کہنا تھا کہ ایران نے خامنہ ای کے جنازے کو ایک اہم سیاسی تقریب میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی مدد سے جنگ کے بعد ’’تسلسل‘‘ اور’’اتحاد‘ ‘ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سرکاری سطح پر ایرانی حکام کی جانب سے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ آیا موسیقی کا انتخاب مخصوص وفود کی مناسبت سے کیا گیا تھا یا نہیں۔ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے ایک باضابطہ میوزیکل ورک ترتیب دیا گیا تھا جس کا عنوان’ ’شہید لیڈر‘ ‘تھا۔ اسے ایرانی فنکار امیر حسین سمیعی نے ترتیب دیا تھا ۔یہ موسیقی چھ حصوں پر مشتمل تھی جنھیں ’امر ہو جانے‘، ’سفر،’ ’باپ‘‘،’ ’دوبارہ زندہ کئے جانے‘‘، ’’جدائی‘ ‘اور’ ’الوداع‘‘ کا نام دیا گیا ۔
سوشل میڈیا پر صارفین تقریب کی تفصیلات سے زیادہ اس کے ذریعے دیئے جانے والے مبینہ پیغامات کو ڈی کوڈ کرنے میں دلچسپی لیتے دکھائی دے رہے تھے۔کئی صارفین اس بات کو بھی رد کرتے نظر آئے کہ ہر وفد کی آمد کے وقت پڑھی جانے والی آیات کا کچھ خاص مقصد تھا۔ نجاح محمد علی نے ہر وفد کے لیے مخصوص آیات پڑھے جانے کے الزام کو چھوٹا دعویٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران اپنے مہمانوں کا احترام کرتا ہے اور وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ آیات کو وفود کی شناخت سے جوڑنے کے کوئی ثبوت نہیں۔ سابق سپریم لیڈرعلی خامنہ ای جیسی قدآور شخصیت کے لیے اتنے بڑے سرکاری جنازے کے انعقاد کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس کی ہر تفصیل کوئی سیاسی پیغام رکھتی ہو ۔اگر ایران نے ہر وفد کے لیے مختلف آیات منتخب کیں، تو اس کے ممکنہ مقاصد یہ ہو سکتے ہیںمذہبی زبان میں سفارتی پیغام دینا۔ہر ملک کے ساتھ تعلقات، تعاون یا اختلاف کی نوعیت کو علامتی انداز میں ظاہر کرنا۔یہ تاثر دینا کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی کو اسلامی اصولوں سے جوڑ کر پیش کرتا ہے۔داخلی اور خارجی دونوں سامعین کو یہ دکھانا کہ ایران بین الاقوامی سطح پر تنہا نہیں ہے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان آیات کے ’’اصل مقصد‘‘ کے بارے میں ایران کی جانب سے ہر آیت کی باضابطہ تشریح موجود نہیں ہے، اس لیے یہ کہنا کہ حکومت یقینی طور پر فلاں پیغام دینا چاہتی تھی، ایک رائے ہوگی، نہ کہ ثابت شدہ حقیقت۔ بلکہ ایسی بڑی شرکت حامیوں کی مضبوط، وابستگی اور عقیدت کا واضح اظہار ہو سکتی ہے۔
سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای 1939 میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ان کے والد سید جواد خامنہ ای ایک شیعہ عالمِ دین تھے جبکہ والدہ بھی ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد کا تعلق خامنہ سے تھا اوران کا خاندان سادات میں شمار کیا جاتا ہے، خاندان مالی لحاظ سے نسبتاً سادہ زندگی گزارنے والا تھا،خامنہ ای نےمشہد اور بعد میں قم میں دینی تعلیم حاصل کی، جس نے ان کی مذہبی اور سیاسی سوچ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی ماحول اورمذہبی گھرانے میں پرورش نے انہیں شیعہ دینی علوم کی طرف مائل کیا، جو بعد میں ان کے سیاسی کردار کی بنیاد بنا۔ ان کی مادری زبان آذری (آذربائیجانی ترکی) تھی، تاہم وہ فارسی اور عربی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ ان کی عوامی اور سیاسی شناخت ہمیشہ ایک ایرانی انقلابی اور شیعہ مذہبی رہنما کی رہی ہے۔ ان کی تقاریر میں بھی عموماً ایران کی قومی وحدت پر زور دیا جاتا ہے، نہ کہ نسلی سیاست پر۔
علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ ان کے دور کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ فوجی اور دفاعی لحاظ سےایران نے اپنے میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور مقامی دفاعی صنعت کو نمایاں طور پر ترقی دی۔خامنہ ای کے دور میں ایران نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے علاقائی اثر میں اضافہ کیا۔ اسی وجہ سے ایران مشرق وسطیٰ کی اہم علاقائی طاقتوں میں شمار ہونے لگا۔معاشی لحاظ سےایران کی معیشت ہمیشہ کمزور ترین رہی۔ بین الاقوامی پابندیوں، افراطِ زر، کرنسی کی قدر میں کمی اور بے روزگاری نے عوام پرگہرا اثر ڈالا۔ایران کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہونے کے باوجود پابندیوں اور اندرونی معاشی مسائل نے ترقی کو محدود ہی رکھا۔مگرحکومت اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، لیکن مختلف ادوار میں احتجاجی تحریکیں بھی سامنے آئیں، جن سے ظاہر ہوا کہ ملک کے اندر سیاسی اور سماجی اختلافات موجود تھے۔اگر صرف فوجی صلاحیت اور علاقائی اثر کو معیار بنایا جائے تو خامنہ ای کے دور میں ایران پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوا۔ لیکن اگر معیشت، عوامی معیارِ زندگی اور بین الاقوامی تعلقات کو دیکھا جائے تو ایران کو شدید چیلنجز کا سامنا رہا۔اس لیے ایک متوازن نتیجہ یہ ہے کہ خامنہ ای کے دور میں ایران فوجی اور تزویراتی اعتبار سے مضبوط ہوا، جبکہ معاشی اور عوامی فلاح کے میدان میں نمایاں مشکلات برقرار رہیں۔!!!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button