شہباز شریف، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے!

بحثیت ایک دور افتادہ پاکستانی کے جب کشمیر کے بارے میں ایسی خبریں ملتی ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے حوالے سے دیکھتے تھے، تو اس قدر افسوس ہوتا ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دشمن کی فوج پاکستانی کشمیر میں گھس آئی ہو۔خدا نہ کرے۔آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا علاج ملٹری طاقت نہیں ہے، سیاسی افہام و تفہیم ہے۔ فوج کا کام وہاں سرحد کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ سیاسی مداخلت کرنا۔یہ بات سب جانتے ہیں ۔1947 میں جب پاکستان کو آزادی ملی تو کشمیر متنازعہ علاقہ رہا کیونکہ وہاں کے ہندو راجہ نے بھارت میں شمولیت کا اعلان کر دیا جب کہ کشمیر کی اکثریت مسلمانوںکی تھی۔لیکن انگریز بہادر نے نہرو کو خوش کرنا تھا اس لیے وہ بغیر کوئی فیصلہ دئیے چلے گئے۔پاکستان نے اپنی چھوٹی سی فوج اور مسلح مجاہدوں کے ساتھ بھارت سے جنگ کی اور کچھ کشمیر آزاد کروا لیا جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں۔اس کشمیر کو باقاعدہ پاکستان کا حصہ نہیں بنایا گیا لیکن پاکستان نے اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کا ذمہ لیاجب تک کہ کشمیر میں رائے شماری ہو اور کشمیر کے عوام فیصلہ کریں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، بھارت کے یا پاکستان کے۔اسی طرح جو حصہ بھارت کے قبضہ میں آیا ، اس کا سٹیٹس بھی وہی ہے۔اگرچہ بھارت نے اپنا کوئی قانون بنا کر مقبوضہ کشمیر کو اپنی ایک ریاست بنا لیا۔یہ قانون پاکستان نہیں مانتا، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کے مطابق نہیں ہے۔جون 2026 میں آزاد جموں اور کشمیر ایک اہم سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔حالیہ دنوں میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) اور حکومت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی جس کا بنیادی سبب قانون ساز اسمبلی میں ان 12مخصوص نشستوں کا مسئلہ ہے جو پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔حکومت نے (JAAC) پر پابندی عائد کر دی جس کے بعد مختلف شہروں میں خصوصاً راولا کوٹ، مظفر آباد اور میر پور میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں متعد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں۔ اور بعض علاقوں میں انٹر نیٹ سروس بھی محدود کر دی گئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازعہ صرف 12 نشستوں کا نہیں بلکہ مقامی خود مختاری، سیاسی نمائندگی، وسائل کی تقسیم اور حکمرانی سے متعلق دیرینہ شکایات کا اظہار بھی ہے۔
آزاد کشمیر کی معیشت کئی شعبوں پر مشتمل ہے جن میں:
۱۔ ترسیلات زر (Remittances) برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں مقیم کشمیری تارکین وطن سے آنے والی رقوم معیشت کا اہم ستون ہیں۔خصوصاًمیر پور ضلع کی معیشت بیرون ملک مقیم کشمیری تارکین وطن کی آمدنی سے کافی متاثر ہوتی ہے۔
۲۔ زراعت۔ دیہی آبادی کا بڑا حصہ زراعت اور مویشی پالنے سے وابستہ ہے۔تا ہم پہاڑی جغرافیہ زرعی پیداوار کو محدود کرتا ہے۔
۳۔ سیاحت: نیلم ویلی ، لیہ ویلی، پیر چناسی، اور دیگر قدرتی مقامات سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔تا ہم سیاسی بے چینی اور سیکیورٹی خدشات سیاحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
۴۔ ہائیڈرو پاور: آزاد کشمیر میں پن بجلی پیدا کرنے کی بڑی صلاحیت ہے۔ آزاد پین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جیسے منصوبے خطہ کی معاشی اہمیت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ تقریباً 700میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اہم معاشی چیلنجز: روزگار کے محدود مواقع، صنعتی شعبہ کی کمزوری،وفاقی مالی معاونت پر انحصار، بنیادی ڈھانچے کی کمی، نوجوانوں میں بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام کے باعث سرمایہ کاری میں کمی۔
مستقبل کے امکانات: آزاد کشمیر کے پاس تین بڑے معاشی مواقع موجود ہیں: پن بجلی کی وسیع صلاحیت، سیاحت کا فروغ، اور بیرون ملک کشمیری برادری کی سرمایہ کاری۔لیکن ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر حکمرانی، سیاسی استحکام، شفافیت اور مقامی آبادی کی شکایات کے حل کی ضرورت ہو گی۔موجودہ احتجاجی تحریک اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوام معاشی اور سیاسی فیصلوں میں زیادہ نمائندگی چاہتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان شروع سے آزاد کشمیر کو پوری طرح مالی امداد دیتا رہا ہے۔آزاد کشمیر کے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ حکومت پاکستان کی مالی گرانٹس اور فنڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان فنڈز سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، تعلیم اور صحت کے اخراجات، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر اور مرمت، سرکاری انتظامیہ کے اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات پورے ہوتے یں۔2005 کے تباہ کن زلزلہ کے بعد بھی پاکستان نے بین الاقوامی امداد کے ساتھ ملکر بڑے پیمانے پر بحالی اور تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان آزاد کشمیر کے دفاع سے متعلق پوری ذمہ واریاں ادا کرتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر آزاد کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے۔آزاد کشمیر میں پاکستانی کرنسی فراہم کرتا ہے اور بینکاری کا نظام مہیا کرتا ہے۔پاکستان نے آزاد کشمیر میں پن بجلی کے منصوبوں، بجلی کی ترسیل اور قومی گرڈ سے رابطہ رکھتا ہے۔آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی پن بجلی کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں جاتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہر طرح کی معاونت کرتا ہے۔جیسے ہسپتالوں کی تعمیر، حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام وغیرہ۔ان معاملات میں جو پاکستان میں ہوتا ہے وہی آزاد کشمیر میں۔چند لفظوں میں، آزاد جموں اور کشمیر اس وقت ایک سیاسی اور سماجی کشمکش کے دورسے گزر رہا ہے، حالیہ احتجاجات نے حکمرانی اورنمائندگی کو نمایاں کیا ہے۔ معاشی طور پر خطہ ترسیلات زر، سیاحت اور پن بجلی پر انحصار کرتا ہے ۔ مگر پائیدار ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور موثر اقتصادی اصلاحات نا گزیر ہیں۔یہ تو تھا اے آئی کا فیصلہ۔ اب انسانی ذہانت سے بھی کچھ سن لیجئے۔انسانی ذہانت میں کچھ اچھائیاں بھی ہیں اور خرابیاں بھی۔اچھائی یہ ہے کہ انسان دل سے بھی کام لیتے ہیں اور دماغ سے بھی۔ مصنوعی ذہانت میں دل کا کوئی کام نہیں۔انسانوں کا تجربہ زمان و مکان کے لحاظ سے بہت محدودہوتا ہے۔ انسانوں میں انا کے مسائل بھی ہیں اور یاداشت کے بھی۔ کچھ رشتوں کے معاملے میں تعلقات کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ جب کہ مصنوعی ذہانت ان چیزوں سے بالکل آزاد ہوتی ہے۔انسانی اقدار اس کے نتائج اخذ کرنے اور ان سے سیکھنے میںرکاوٹ بن سکتی ہیں۔بہر حال روزمرہ زندگی میں ہمیں قدرتی ذہانت پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔اب کشمیر کا معاملہ ہی لے لیں۔جب کشمیر میں کسی زیادتی کی خبر پڑھتے ہیں یا وڈیو دیکھتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ بھارت والے قہقہے لگا رہے ہیں۔ کیونکہ ہم 70 سال سے بھارتیوں کے کشمیریوں پر ظلموں کی داستان سنتے آئے ہیں۔اور اب انہیں موقع ملا ہے۔ہم نے آزاد کشمیر کے لوگوں کو اتنے پیار سے رکھا اور ان کو ہر قسم کی اقتصادی، معاشی اور انتظامی سہولت دی۔ تا آنکہ نئی فوجی حکومت کسی دوسری ڈگر پر چل پڑی ہے۔ میاں برادران کو شرم چاہیے وہ اپنے آپ کو کشمیری نژاد کہتے ہیں اور ان کے عہد میںان کا حقہ پانی بند کیا جا رہا ہے؟ہمیں یقین ہے کہ جو مسائل ہیں وہ میز پر بیٹھ کر افہام و تفہیم کے ساتھ حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن فوج کا سیاست سے کیا کام؟ وہ تو ہر مسئلہ کو بندوق کی گولی سے حل کرنا جانتے ہیں۔پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان اپنے صوبوں کے ساتھ ایسا انصاف نہیں کر سکا جسے بے لاگ کہا جاتا۔ آزاد کشمیر تو پھر بھی ایک متنازعہ علاقہ تھا، ہم سے بلوچ بھی نا خوش ہیں۔اس کی بڑی وجہ ہماری حکمت عملی ہے کہ پاکستان کے نکمے حکمرانوں نے بلوچستان کے معاملات بجائے سیاستدانوں کے، فوج کے حوالے کر دیئے، کم از کم راقم کا تاثر یہی ہے۔فوج چاہتی ہے کہ پاکستان کے کچھ علاقے ایسے ہوںجہاں بوقت ضرورت فساد، بلوہ کروا کے فوج کشی کی جا سکے۔ اس طرح پاکستانیوں کو وہ رقم نہیں چبھے گی جو ہر سال بجٹ کے موقع پر اسمبلی میں دفاع کی مد میں بحث کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ بلو چستان ایسی آبادی سے مالا مال ہے جسے پال پوس کر پاکستان کے خلاف کھڑا کیا جا سکتا ہے اور پھر اس کی صفائی بھی۔خیر اس توجہ کو قیاس آرائی سے زیادہ وقعت نہ دیں، لیکن جو بھی وجوحات ہیں ، اس میں پنجاب کے سیاستدانوں کا بڑا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔ نواز شریف کو سوائے کمیشنوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا تھا اور اس کے خانوادے کو بھی یہی بیماری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان ایک قبائیلی معاشرہ ہے اور اس میں قبائیلی رسم و رواج کی زیادہ وقعت ہے بہ نسبت پاکستانی آئین اور قوانین کے۔ بلوچ سردار ان قوانین کی تشریح کرتے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔پاکستانی سیاستدان جو پنجاب اور سندھ سے آتے ہیں وہ ان کے رسم و رواج سے نہ واقفیت رکھتے ہیں اور نہ ان کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اور غالباً سہولت کی خاطر فوج کے حوالے کر دیتے ہیں۔اگر ہمارا قیاس صحیح ہے تو یہ نہایت افسوسناک حکمت عملی ہے۔کیونکہ جو معاملات سیاست، افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیں وہ بندوق کے ساتھ کرنے سے حالات زیادہ بگڑ سکتے ہیں، اور عوام پھر پاکستان کے بارے میں اپنے نظریات اور احساست پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔گذشتہ تیس پینتیس سال سے نون لیگ نے حکمرانی کی اور اپنی نا اہلیت سے پاکستان کے صوبوں کا نقشہ بدل دیا۔ہر علاقہ، صوبہ، پنجاب اوروفاق سے نالاں نظر آتا ہے۔آزاد کشمیر کیا اور بلوچستان کیا۔او ر بلو چستان اور پاکستان کی کہانی سننی ہو تو اوریا مقبول جان سے بہتر ، ذاتی معلومات اور تاریخ سے واقف شاید ہی کوئی اور شخصیت ملے؟اور کچھ نہیں تو ان کی یو ٹیوب پرایک وڈیو ایک گھنٹے کی ہے، وہ دلجمعی کے ساتھ دیکھئے۔اور آپ کو
بلو چستان پر اس سے اچھی بریف نہیں ملے گی۔ہماری بس ایک ہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں نون لیگ، اس کے حاکموں، اور فوجی حکمرانوں سے بچائے۔ہمیں ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو پاکستان کے چپے چپے سے دلی محبت رکھتے ہوں اور اس میں رہنے والوں کو انکے حقوق دینے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں۔



