Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
ہفتہ وار کالمز

بے لگام سوشل میڈیا، ففتھ جنریشن وار اور قومی ذمہ داری

ایک وقت تھا جب خبر تک رسائی صرف اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے ممکن تھی۔ خبر شائع ہونے سے پہلے کئی مراحل سے گزرتی، اس کی تصدیق کی جاتی اور پھر عوام تک پہنچتی۔ مگر آج ڈیجیٹل دور میں صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ اب ہر شخص کے ہاتھ میں موجود موبائل فون ایک مکمل نشریاتی مرکز بن چکا ہے۔ چند سیکنڈ میں کوئی بھی خبر، ویڈیو یا تصویر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ جدید دور کی بڑی نعمت ہے، لیکن جب یہی طاقت ذمہ داری، تحقیق اور اخلاقیات سے محروم ہو جائے تو وہ معاشرے اور ریاست دونوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو نئی وسعت دی ہے۔ اس نے عام شہری کو بھی اپنی آواز بلند کرنے، مسائل اجاگر کرنے اور حکمرانوں سے سوال کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے کہ عوام سوال کریں، اختلاف کریں اور اصلاح کی بات کریں۔ لیکن آزادیِ اظہار کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بغیر تحقیق کسی پر الزام لگا دیا جائے، کسی ادارے کو نشانہ بنایا جائے یا افواہوں کو حقیقت بنا کر پیش کیا جائے۔بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا پر سنسنی خیزی، جھوٹی خبروں، من گھڑت کہانیوں اور غیر مصدقہ معلومات کا سیلاب نظر آتا ہے۔ بعض لوگ چند ویوز، لائکس اور فالوورز حاصل کرنے کے لیے ایسی خبریں بھی پھیلا دیتے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف افراد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے، اور یہی وہ صورتحال ہے جس سے دشمن قوتیں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔دنیا آج ففتھ جنریشن وار کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں بارود سے زیادہ معلومات استعمال ہوتی ہیں، گولی سے زیادہ افواہ اثر کرتی ہے اور میزائل سے زیادہ جھوٹا بیانیہ نقصان پہنچاتا ہے۔ جدید جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں، سوچوں اور جذبات پر بھی لڑی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، سائبر حملے، جعلی ویڈیوز اور گمراہ کن مہمات اب اس جنگ کے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔اطلاعاتی جنگ کا بنیادی مقصد دشمن ملک کے عوام کو تقسیم کرنا، ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور کرنا، نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرنا اور معاشرے میں انتشار کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم خود ہی اپنے اداروں، اپنے قانون اور اپنی اجتماعی طاقت پر یقین کھونے لگتی ہے تو بیرونی قوتوں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔پاکستان ایک اہم جغرافیائی اور تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مختلف ادوار میں روایتی اور غیر روایتی دونوں قسم کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی اتحاد، اجتماعی شعور اور ذمہ دارانہ رویہ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگر ہم بغیر تحقیق ہر خبر کو آگے بڑھائیں، ہر ویڈیو کو سچ مان لیں اور ہر الزام کو حقیقت سمجھ کر پھیلائیں تو ممکن ہے ہم انجانے میں انہی قوتوں کے بیانیے کو مضبوط کر رہے ہوں جو پاکستان میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاستی اداروں پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوری معاشرے میں احتساب اور تنقید ناگزیر ہیں، لیکن تنقید ہمیشہ حقائق، شواہد، آئین اور قانون کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ دلیل پر مبنی اختلاف اصلاح پیدا کرتا ہے، جبکہ بے بنیاد الزام صرف نفرت اور انتشار کو جنم دیتا ہے۔ مضبوط قومیں اپنے اداروں کی اصلاح بھی کرتی ہیں اور ان کی ساکھ کا تحفظ بھی۔آج سب سے بڑی ضرورت ڈیجیٹل شعور کی ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر وائرل خبر درست نہیں ہوتی، ہر ویڈیو مکمل حقیقت نہیں بتاتی اور ہر دعویٰ قابلِ یقین نہیں ہوتا۔ خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کا ذریعہ دیکھنا، مختلف معتبر ذرائع سے تصدیق کرنا اور جذبات کے بجائے عقل سے فیصلہ کرنا ایک ذمہ دار شہری کی پہچان ہے۔اس ذمہ داری کا دائرہ صرف پاکستان کے اندر رہنے والوں تک محدود نہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی اس ملک کے سفیر ہیں۔ ان کی تحریر، ان کی گفتگو اور سوشل میڈیا پر ان کا رویہ دنیا کے سامنے پاکستان کا تاثر پیش کرتا ہے۔ اس لیے چاہے کوئی پاکستانی لاہور، کراچی، گلگت یا گوادر میں رہتا ہو، یا لندن، نیویارک، دبئی، ریاض یا ٹورنٹو میں، اس کی قومی ذمہ داری یکساں ہے کہ وہ سچ، تحقیق اور قومی مفاد کو ہمیشہ ترجیح دے۔ریاستیں صرف مضبوط افواج، جدید ہتھیاروں یا ترقی یافتہ معیشت سے محفوظ نہیں ہوتیں بلکہ باشعور، ذمہ دار اور متحد شہری بھی ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ جب عوام اپنے اختلاف کو تہذیب کے ساتھ بیان کریں، خبر کو تحقیق کے بعد قبول کریں، افواہوں کو مسترد کریں اور قومی مفاد کو ذاتی پسند و ناپسند پر مقدم رکھیں تو کوئی اطلاعاتی جنگ، کوئی پروپیگنڈا اور کوئی سازش اس قوم کو کمزور نہیں کر سکتی۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے صرف صارف بن کر رہیں گے یا ذمہ دار شہری بھی بنیں گے۔ کیا ہم ہر غیر مصدقہ خبر کے پھیلانے والے ہوں گے یا سچائی کے محافظ؟ کیا ہم اختلاف کو نفرت میں بدلیں گے یا اسے اصلاح کا ذریعہ بنائیں گے؟پاکستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اس کی عزت، اس کا استحکام اور اس کا مستقبل کسی ایک ادارے، حکومت یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اختلاف ضرور کیجیے، سوال بھی اٹھائیے، اصلاح کا مطالبہ بھی کیجیے، مگر ہمیشہ سچائی، تحقیق، شائستگی اور قومی مفاد کو اپنا رہنما اصول بنائیے۔یاد رکھیے، جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں جیتی جاتیں، بلکہ قوموں کے شعور، کردار اور ذمہ دارانہ طرزِ فکر سے بھی جیتی جاتی ہیں۔ اگر ہر پاکستانی اپنے قلم، اپنی زبان، اپنے ووٹ اور اپنے سوشل میڈیا کے استعمال میں دیانت، تحقیق اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنا لے تو کوئی ففتھ جنریشن وار، کوئی جھوٹا پروپیگنڈا اور کوئی بیرونی سازش پاکستان کے اتحاد، وقار اور استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ مضبوط قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ سچائی، اتحاد اور شعور سے مضبوط بنتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button