Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال، قومی پیغامِ امن کمیٹی کا سکھ برادری سے اظہارِ یکجہتی

لاہور( آصف اقبال) حکومتِ پاکستان کے تحت قائم قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مختلف مکاتبِ فکر اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے قائدین نے فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ کا دورہ کرتے ہوئے سکھ برادری سے اظہارِ یکجہتی کیا اور بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور قومی اتحاد کے عزم کا اعادہ کیا۔وفد نے فاروق آباد میں واقع تاریخی دھرم شالہ کا بھی معائنہ کیا، جہاں خستہ حال دیوار گرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے نمائندوں نے اتفاق کیا کہ دھرم شالہ کی تعمیرِ نو باہمی تعاون سے اس کی تاریخی، مذہبی اور ثقافتی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کی جائے گی۔بعدازاں وفد کے ارکان نے دھرم شالہ کی گری ہوئی دیوار کی تعمیرِ نو کے لیے ازسرِنو سنگِ بنیاد رکھا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے مقدس مقامات کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔قومی پیغامِ امن کمیٹی کے قائدین نے اس موقع پر کہا کہ آئینِ پاکستان مسلمانوں اور غیر مسلم شہریوں کو یکساں مذہبی آزادی اور اپنے عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ مندر، مسجد، گوردوارا یا دھرم شالہ سمیت کسی بھی مذہبی مقام کی ملکیت، شناخت یا تاریخی حیثیت کو تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے فاروق آباد کی دھرم شالہ سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں گردش کرنے والے بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ دھرم شالہ اپنی سابقہ تاریخی اور مذہبی حیثیت کے مطابق برقرار رہے گی اور اس کے تحفظ و بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔وفد نے اس موقع پر اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، امن، برداشت اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ تمام شہری آئین کے مطابق مساوی حقوق اور تحفظ سے مستفید ہو سکیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button