
حماس کے حامی بھارتی پروفیسر کو امریکا میں گرفتار کر لیا اور انہیں جلد ہی ملک بدر کیا جائے گا۔امریکا کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہندوستانی محقق کو امیگریشن افسران نے گرفتار کر لیا ہے اور ان کے وکیل کے مطابق انہیں ملک بدری کا سامنا ہے۔بدر خان سوری جو ایک پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو ہیں انہیں پیر کی رات ورجینیا میں ان کے گھر کے باہر نقاب پوش ایجنٹوںنے گرفتار کیا۔محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کی اسسٹنٹ سیکریٹری ٹریسیا میک لافلن نے کہا کہ بدر خان سوری کو سوشل میڈیا پر حماس کا پروپیگنڈہ پھیلانے کے جرم میں ملک بدری کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔میک لافلن نے X پر کہا کہ سوری کے ایک معروف یا مشتبہ دہشت گرد سے قریبی روابط ہیں، جو حماس کا سینئر مشیر ہے۔سیکرٹری آف اسٹیٹ نے 15 مارچ 2025 کو ایک عزم جاری کیا کہ سوری کی ریاستہائے متحدہ میں سرگرمیوں اور موجودگی پر انہیں INA سیکشن 237(a)(4)(C)(i) کے تحت ڈی پورٹ کیا جائے۔میک لافلن نے سوری اور حماس کے درمیان تعلقات کے اپنے دعوے کا ثبوت فراہم نہیں کیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محمود خلیل کی ملک بدری کا حکم دیا تھا جسے عدالت نے روک دیا تھا، امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے عدالتی حکم کو چیلنج کیا گیا جسے آج مسترد کردیا گیا۔جج جیسی فرمین نے کہا کہ فلسطینی حقوق کے علمبردار کی ملک بدری کی کوشش غیرمعمولی ہے، خلیل کی درخواست کے خلاف عدالتی نظرثانی کی قانونی درخواست کو آگے بڑھنا چاہیے۔عدالت کا کہنا ہے کہ خلیل کی دلیل ہے کہ ملک بدری کی کوشش آزادی اظہار پر کی جارہی ہے۔جج جیسی فرمین نے کہا کہ امریکی آئین تمام شہروں کو مکمل آزادی اظہار کی اجازت دیتا ہے، کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ اور قانونی مستقل رہائشی محمود خلیل کو ملک بدر کیا جارہا ہے۔محمود خلیل نے امریکا میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہروں کی قیادت کی تھی۔