
عدن: یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملہ کیا گیا، جس کے بعد قافلہ کچھ دیر کے لیے محاصرے میں رہا۔بعض رپورٹس میں وزیر دفاع کو یرغمال بنائے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا، تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق قبائلی ثالثی کے بعد وہ وہاں سے نکل گئے۔مقامی رپورٹس کے مطابق مسلح افراد نے وزیر دفاع کے قافلے پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کے دو محافظ اور ایک بچہ زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد قافلے نے ایک فوجی کیمپ میں پناہ لی، جسے مسلح افراد نے گھیرے میں لے لیا تھا۔رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں نے سابق وزیر دفاع محسن الداعری کی سعودی عرب میں حراست کے معاملے پر طاہر العقیلی کے ساتھ مطالبات رکھے تھے۔ بعد ازاں قبائلی ثالثی کے ذریعے محاصرہ ختم کرایا گیا اور وزیر دفاع کو وہاں سے روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی۔طاہر العقیلی یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے وزیر دفاع ہیں اور فروری 2026 میں اس عہدے پر مقرر ہوئے تھے۔ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے جنوبی علاقوں میں حکومت کے حامی مختلف مسلح دھڑوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ ملک میں حوثیوں کے خلاف جاری لڑائی کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی و عسکری اختلافات بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔



