پیپلز پارٹی ہر پالیسی اور کارکردگی کے معاملے پر ن لیگ سےموازنے کیلئے تیار ہے: ندیم افضل چن

لاہور( آصف اقبال )پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہر پالیسی اور کارکردگی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم آزاد اور شفاف انتخابات کی صورت میں پیپلز پارٹی اپنی شکست بھی تسلیم کرے گی۔ندیم افضل چن نے کہا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی کا ذکر کیا ہے، لیکن ان سے گزارش ہے کہ وہ کشمیر کی مجموعی صورتحال کو بھی سامنے رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک قومی جماعت نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہو اور امن و امان کی صورتحال ایسی ہو کہ ایک دن بھی انتخابات نہ کرائے جا سکیں، وہاں انتخابی نتائج پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیر میں بھی اپنی مرضی کے نتائج تیار کیے گئے، جیسا کہ ان کے بقول ماضی میں پاکستان، خصوصاً پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے ہوتا رہا ہے۔میاں نواز شریف کو بزرگ قرار دیتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ وہ ان کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے، تاہم مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کا حساب کیا جائے تو 1985ء سے اب تک تقریباً 40 سال بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے 11 سال اور عمران خان کے تقریباً تین سال نکالنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کو طویل عرصہ اقتدار ملا، جبکہ مشرف دور میں بھی مسلم لیگ (ن) کے کئی لوگ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ چلے گئے تھے۔میڈیا پالیسی ہماری کمزوری ہے۔پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے اعتراف کیا کہ پیپلز پارٹی کی میڈیا پالیسی مسلم لیگ (ن) جیسی مؤثر نہیں اور یہ پارٹی کی غلطی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی جو کام کرتی ہے اسے مؤثر انداز میں عوام تک نہیں پہنچا پاتی، جبکہ مسلم لیگ (ن) اپنے منصوبوں کی تشہیر بہتر انداز میں کرتی ہے۔ندیم افضل چن نے میڈیا پر حکومتی وسائل کے استعمال کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر بھی رپورٹ سامنے آنی چاہیے کہ عوام کے اربوں روپے میڈیا پر کس نے خرچ کیے اور مختلف میڈیا سیلز کے ذریعے سیاسی بیانیے کو کس طرح آگے بڑھایا گیا۔اداروں کی نجکاری اور کارکردگی کا بھی موازنہ کریںانہوں نے کہا کہ پاکستان میں نجکاری کا عمل ہوا ہے، اس لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار کا موازنہ کیا جائے کہ کس حکومت نے کتنے قیمتی قومی ادارے فروخت کیے۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ مریم نواز ٹرانسپورٹ کی بات کرتی ہیں، لیکن شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سرکاری ٹرانسپورٹ سروس قائم کی تھی جسے بعد میں فروخت کر دیا گیا۔زراعت کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں صرف ایک مرتبہ زرعی شعبہ سرپلس میں گیا اور وہ صدر آصف علی زرداری کے دور میں تھا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں گندم درآمد کرنا پڑی۔



