ہفتہ وار کالمز

گردش زمانہ!

تشکیل پاکستان کے بعد ہمارے سارے ہی تہوار بہت سادگی سے منائے جاتے تھے ، رمضان کی آمد کی خوشی ہوتی تھی گھر کے تمام افراد ہی روزے رکھتے تھے اور بچوں کو روزہ رکھنے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا پہلا روزہ رکھنے پر بچوں کا بہت اچھا TREATMENT ملتا تھا اور یہ TREATMENT مزید روزے رکھنے پر اکساتا افطار بہت سادہ ہوتی اور سحری پر بھی کوئی خاص اہتمام نہ ہوتا افطار کو اہمیت حاصل تھی، گھر سے مسجد کے امام کے لئے کھانا ضرور بھیجا جاتا، عید پر سب سے زیادہ خوشی نئے کپڑوں کی ہوتی، مگر نئے کپڑوں میں مرضی کو دخل نہ تھا، والدین جس کپڑے کا انتخاب کر لیتے وہی فائنل ہو جاتا ظاہر ہے کہ پاؤں چادر دیکھ کر ہی پھیلائے جاتے، ایسا کبھی نہ ہوتا کہ عید کے لئے قرض لینا پڑے، مڈل کلاس کے افراد عید اور بقرہ عید کے لئے پہلے سے ہی کچھ پس انداز کر لیا کرتے تھے، لڑکیوں کے لئے چوڑیوں اور مہندی کا اہتمام ہوتا تھا گھر پر جب دوپٹے رنگے جاتے تو آنگن میں جیسے دھنگ اتر آتی، عید پر خاص تکلف کھانوں کا ضرور ہوتا تھا سادگی تھی اور کفائیت شعاری، اصراف کا دور دور خیال نہ تھا، بقرہ عید بھی بہت سادگی سے منائی جاتی ، دور دراز رشتہ داروں میں کہیں قربانی کا اہتمام ہو جاتا تھا، گلی گلی اور گھر گھر قربانی نہیں ہوتی تھی، دیگر تہوار بڑی خاموشی سے گزر جاتے تھے ، ہاں شب برات پر حلوہ بنتا اور کونڈے بھی تیار ہوتے ، مجھے کہنے دیجیئے کہ مذہب میں نہ کوئی دکھاوا نہ کوئی گلیمر ، مذہب اور زندگی میں سادگی اختیار کی جاتی تھی اور یہی سادگی زندگی کا حسن تھی مگر وقت کب ایک سا رہتا ہے، وقت گزرتا رہااور زندگی میں بہت تبدیلی آگئی ہم نے دیکھا کہ اس وقت نہ مولوی معاشرے کی زندگی میں جھانکتا تھا اور نہ ہی کوئی مولوی کی زندگی سے سروکار، مگر اتنا ضرور تھا کہ امام اور مؤذن کے طعام کی ذمہ داری اہل محلہ پر ہوتی تھی قیام حجرے میں ہوتا ، عید بقرہ عید پر علاقے کے لوگ امام مسجد اور مؤذن کے لئے کپڑوں کا انتظام بھی کر دیتے ، ایسا کم ہی ہوتا کہ اہل محلہ مولوی کے پاس کسی معاملے پر فتویٰ لینے چلے جائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ امام کی گرفت معاشرے پر تھی نہیں، امام کا
تعلق بہت غریب گھرانوں سے ہوتا تھا اسی وجہ سے ان میں کسی حد تک احساس کمتری تھا اگر میں یہ کہوں کہ یہ ایک خطرناک صورت حال تھی جس کا احساس نہ ہو سکا اور اس کے خطر ناک نتائج بر آمد ہوئے ، تراویح کا اہتمام کم تھا البتہ لیلہ القدر میں مساجد بھر جاتیں اعتکاف بھی کم کم ہی ہوتا، ان مراحل سے گزرنے والوں میں سے کسی نے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ وہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد متقی ہو گئے ہیں مگر یہ ضرور تھا کہ جو پابند صوم الصلواۃ ہوتا اس کا معاشرے میں احترام ہوتا تھا یہ سب پچھلی صدی کی بات ہے تقسیم کے بعد سب کچھ بدل گیا، ایمانیات کی سطح کچھ بھی ہو مگر دکھاوا رفتہ رفتہ بڑھتا چلا گیا، ایک لطیفہ عام ہے کہ ایک کاروباری شخص نے مولوی سے پوچھا کہ میں ایک نیا کاروبار شروع کرنے لگا ہوں بتائیں از روئے شرع مجھے اس کاروبار کی اجازت ہے یا نہیں، مولوی نے کہا آپ کاروبار شروع کرلیں ہم آیت نکال لیں گے جماعتِ اسلامی کا ایک عمومی نکتہ نظر یہ رہا کہ نماز کی پابندی کے بعد آپ کو ہر بات کی اجازت ہے، پچھلی صدی میں مولوی کو بہت FRUSTRATION ہوتی تھی کہ ہم اس طرح جلوس کیوں نہیں نکال سکتے جس طرح ہندو ہنومان کا جلوس نکالتے ہیں اور اس کے لئے ایک راستہ عید میلاد النبی کی صورت میں نکال لیا گیا، پہلے یہ اہتمام مساجد میں ہوتا تھا پھر یہ نظارہ سڑکوں پر آ گیا اور اس میں نئے نئے رنگ شامل ہوتے چلے گئے، محرم کے جلوس دیکھنے کے لئے بھی ایک خلقت اُمڈ آتی ہے، رمضان میں بھی مسلمانوں کے طور طریق بدل گئے رفتہ رفتہ رمضان ایک FOOD FESTIVAL بن گیا اس جدت کو فروغ دینے کے لئے ذرائع ابلاغ نے بڑا کردار ادا کیا، کھانوں اور پکوان کو کچھ اس طرح GLAMOURIZE کیا گیا کہ روزوں کی منشا ہی بدل گئی، سحر اور افظار اب سحر پارٹیوں اور افطار پارٹیوں میں بدل گئی ، ہر طرف جشن کا سماں، دکھاوا اور اصراف، اور پھر میڈیا کی جانب سے رمضان TRANSMISSION کا اہتمام،اور اس تمام FANTACIES میں مولوی شامل، شوبز کی حسین لڑکیوں کو جب رمضان TRANSMISSION کی نظامت دے دی گئی تو ملا کی بھی باچھیں کھل گئیں، رنگ و نور میں مہ وشوں کی شرکت، مولوی کو ایسے لگا کہ جنت ایسی ہی ہو گی، قرآن کی آیت ہے کہ ہم نے تم پر روزے فرض کر دئے تاکہ تم متقی ہو جاؤ، تقوے کی بات ایک صدی پہلے بھی نہ تھی اور پچھلے پچاس سالوں میں تو مولوی یہ بات بتانا ہی بھول گیا کہ روزوں کا تقاضا تو تقوے کا حصول ہے اب ہم کسی سے پوچھ لیں کہ تقویٰ کیا ہے تو یا تو لوگوں کے تیور بدل جاتے ہیں یا لوگ بغلیں جھانکتے ہیں، ہم اپنے احباب سے پوچھتے ہیں کہ رمضان کے بعد ہمیں بتانا کہ مہینے بھر کی مشقت کے بعد آپ نے اپنے اندر کیا تبدیلی پیدا ہوئی تو وہ پہلو تہی فرماتے ہیں،پر عہد نبوی میں روزے عربوں کی وحشت کم کرنے کے لئے تھے، نفس قابو کرنے کے لئے بھی، اور بھی کہ رزق کی کمی پر پردہ ڈال دیا جائے ، رزق میسر ہی نہیں تھا پیٹ پر پتھر باندھنے کی کہانیاں بھی ہیں، پہلے سال ہی روزے کی وجہ سے چودہ اموات ہو گئیں تو مسافر اور بیمار پر روزہ ساقط ہو گیا اور یہ حکم بھی آگیا کہ اگر روزہ نہیں رکھ سکتے تو دو بھوکوں کو کھانا کھلا دیا جائے بادی النظری میں یہ ایک میکنزم تھا کہ اہل ثروت ان لوگوں کی غذا کا بندوبست کر دیں جن کو رزق میسر نہیں، مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایک خاموش مقصود یہی تھا کہ سال بھر یہ سلسلہ جاری رہے، واضح حکم آتا تو مشکلات کھڑی ہو جاتیں، ایسا ہر گز نہیں تھا کہ عرب قبائل کے سرداروں کا اثر و رسوخ فتح مکہ کے بعد قبائل ختم ہو گیا تھا لہٰذا یہ احتیاط برتی گئی کہ SOCIAL FABRICK تبدیل نہ ہو اور قبائلی نظام کو نہ چھیڑا جائے ، البتہ یہ ضرور ہوا کہ رمضان میں زکوۃ صدقات اور خیرات کا سلسلہ دراز ہو گیا جس سے بھوک کو کسی حد تک کم کیا جا سکا، تاریخ ابن کثیر اور تاریخ فرشتہ نے تو صحابہ کرام کی بہت ایمان افروز تصویر پیش کی ہے مگر نبی نے اپنی زندگی میں کچھ کو جنت کی بشارت تو دے دی مگر صاحب تقویٰ ہونے کا اعزاز شائد کسی کو نہیں بخشا، اہل تصوف کے ہاں تو بہت محیر العقل واقعات ہیں جن میں بے انتہا EXAGGERATION یا مبالغہ ہے مگر ان سے قطع نظر تقویٰ کا حصول مشکل ہی نظر آیا ہے میرا خیال ہے کہ ہر رمضان میں انسان ایک برائی سے چھٹکارا حاصل کرلے اور وہ ہر سال ایک ایک برائی چھوڑتا رہے تو وہ ولی ضرور ہو جائیگا اور شائد یہی تقویٰ ہے، اور ممکنہ طور پر ماہِ صیام میں روزہ داری کا منشا بھی یہی ہے اگر یہ مقصد ہیں اور فی صد بھی پورا ہو جاتا تو معاشرہ بہت خوبصورت ہوتا، رمضان کے بعد عید بھی اس طرح سادگی سے نہیں منائی جاتی بلکہ منفرد انداز میں ملبوسات کا انتخاب، پارلر کی گہما گہمی، کبھی سوچا تھا آپ نے کہ عید کچھ اس طرح منائی جائیگی، آج کل عید COMMERCIALIZED ہو گئی عید اگر دینی تہوار سے سماجی تہوار بن گیا تو ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا کہ عید کرسمس کی طرح منائی جائے اور بزنس BOOST کرے مگر قلق اس وقت ہوا جب اس تبدیلی نے اقدار کا خون کر دیا ذرا اندازہ کیجیئے کہ رمضان عبادت کا مہینہ نہیں رہا یہ ایک FOOD FESTIVAL بن چکا اور عید سماجی جشن کا مظاہرہ اس تبدیلی میں مولوی نے معاشرے کو گمراہ بھی کیا اور پیسہ بھی کمایا حتیٰ کہ مسجدوں میں نعت خوانوں پر نوٹوں کی اسی طرح برسات ہوئی جو کبھی کوٹھوں پر طواف پر نچھاور کرنے کی ایک رسم تھی بات پیسے کی تھی تو مولوی آیت نکال ہی لیتا ہے سارا ملبہ دورِ حاضر پر نہ ڈالا جائے تہوار سماجی EVENTS ہوتے ہیں جب جب سماج تبدیل ہوگا تہوار بھی تبدیل ہوگا، عبادات کو جب COMMERCIALIZED کر دیا جائیگا اور اس کی پروموشن بھی کسی PRODUCTI COMMODITY کی طرح ہو گی تو اس کا پروموٹر اس کو رنگین بنا دے گا یہ ایک سماجی اصول ہے، بہر حال ملول نہ ہوں اور یہ یقین کرلیں کہ رمضان ایسے ہی کھانے پینے کا مہینہ رہے گا اور عید پر آپ کو ایک اچھا CONSUMER بننا ہے اس روش سے آپ بھی خوش اور زمانہ بھی خوش۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button