معاشرے کا اضطراب!

کانگرس کی حالیہ بجٹ آفس رپورٹ کے مطابق امریکہ پہلے سے زیادہ خوشحال ہے۔لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہیں۔ بیروزگاری میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ متوسط طبقہ کریڈٹ کارڈ پر حاصل کیے ہوے قرضوں میں کمی کر رہا ہے۔ یکم اپریل کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق معیشت کے یہ ثمرات صرف بالائی طبقوں تک محدود ہیں۔ عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی۔ محنت کشوں کے یومیہ معاوضے (Minimum wages) میں اضافہ ہوا ہے مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لوگوں کی قوت خرید میں خاصی کمی کر دی ہے۔ لوگ گروسری خریدتے وقت بچوں کو ساتھ لیکر نہیں جاتے کیونکہ وہ کسی اضافی چیز کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ عام آدمی اور طبقہ امراء کی آمدنی میں ایک بڑی خلیج حائل ہے۔ امریکہ کی نصف آبادی جو 170 ملین محنت کش افراد پر مشتمل ہے کئی برسوں سے اپنے مستقبل کے بارے میں پر امید نہیں ہے۔ بالائی طبقے کے دس فیصد لوگ ملک کی کل آمدنی کے 69 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ اسکے برعکس نچلے طبقے کی آبادی صرف تین فیصد آمدنی کی مالک ہے۔ حال ہی میں شائع ہونیوالی فیڈرل ریزروبورڈ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 59 فیصد لوگ Paycheck to paycheckکی بنیاد پر زندگی گذار رہے ہیں۔ اس اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے پاس کسی ایمرجنسی کے لیے اضافی رقم نہیں ہے۔ سود کی شرح(Interest Rate) بلند سطح پر ہونے کی وجہ سے مکانات کی خریداری میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ معاشی ماہرین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ صدر ٹرمپ نے کئی ممالک کی برآمدات پر بھاری ٹیرف لگا کر صارفین کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ عام آدمی اب زیادہ خریداری سے گریز کر کے بچت کرنے کی فکر میں ہے۔ اسے صدر ٹرمپ کی شروع کی ہوئی معاشی جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو جیسے ہمسایہ ممالک کی برآمدات پر پچیس فیصد اور چین پر بیس فیصد ٹیرف لگانے کی وجہ سے گاڑیوں‘ الیکٹرانکس‘ دھات‘ لکڑی اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ اور انکے مشاہیر بھی اس صورتحال سے واقف ہیں مگر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دوسرے ممالک کی سستی اشیاء در آمد کرنے سے یہ بہتر ہے کہ اپنے ملک میں مینو فیکچرنگ کی جائے اور جب تک یہ سلسلہ شروع نہیں ہوتا اسوقت تک مہنگائی کو برداشت کیا جائے۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو NBC ٹیلیویژن کے پروگرام Meet The Press میں کہاI couldn’t care less if they raise prices because people are going to start buying American made cars. یعنی مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ لوگ بہت جلد امریکہ میں بنی ہوئی گاڑیاں خریدنا شروع کر دیں گے۔ ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا معاشی فلسفہ ہی یہ طے کرے گا کہ انکی حکومت کامیاب ہوتی ہے یا ایک بڑی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی اس چو مکھی معاشی جنگ کی وجہ سے بڑھتے ہوے اضطراب کو دیکھ کرٹرمپ انتظامیہ کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یہ معاشی جنگیں اس لیے ضروری ہیں کہ دنیا بھر کے ممالک کئی عشروں سے امریکہ کو تجارتی نقصان پہنچا رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے تھوڑی سی مہنگائی برداشت کر کے اس تجارتی نا انصافی سے نجات حاصل کر لی جائے۔ اسکے جواب میں سابق نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ آزادانہ تجارت سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں معاشی اور تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ صدر ٹرمپ کی اس عارضی افراط زر کی حکمت عملی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ لوگوںنے اس امید پر صدر ٹرمپ کو ووٹ دئے تھے کہ وہ معیشت کے بارے میں سمجھ بوجھ رکھنے کی وجہ سے بہت جلد مہنگائی پر قابو پا لیں گے مگر انکی دو ماہ کی کارکردگی خاصی مایوس کن ہے۔ صدر ٹرمپ نے ملک کے اندر عدالتوں‘ وکلاء‘ ریاستی اداروںاور تارکین وطن کے خلاف محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے۔ کئی ریاستوں میں ضلعی عدالتوں کے ججوں نے صدر ٹرمپ کے ڈیپورٹیشن آرڈرز کے خلاف فیصلے دیکر تارکین وطن کی گرفتاریوں کو روکنے کے احکامات دئے مگر ٹرمپ انتظامیہ نے ان پر عملدرآمد نہیں کیا جسکی وجہ سے ملک ایک آئینی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
منگل کے روز نیو جرسی کے سینیٹر Cory Booker نے سینٹ کے فلور پر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف 24گھنٹے اور 46منٹ تک مسلسل تقریر کر کے امریکہ کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ سینیٹر کوری بوکر نے پیر کے روز شام سات بجے تقریر شروع کی جو منگل کی شام آٹھ بجے سے چند منٹ پہلے تک جاری رہی۔ ان سے پہلے سینٹ میں طویل ترین تقریر کرنے کا اعزاز جنوبی کیرو لائینا کے سینیٹر Strom Thurmond کو حاصل تھا جنہوں نے 1957 میں 24گھنٹے اور 18 منٹ تک سول رائٹس کے حق میں کی جانے والی قانون سازی کے خلاف تقریر کی تھی۔ سینیٹر کوری بوکر کی تقریرکا عنوانCrisis Facing The Nation Under President Trump ہے۔ اس تقریر میں نیو جرسی کے سیاہ فام سینیٹر نے صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسی اور تارکین وطن پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتے ہوے کہا I rise tonight because I believe sincerely that our nation is in crisis. ترجمہ: میں اس لیے اُٹھاہوںکہ میں خلوص سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہماری قوم ایک بحران میںمبتلا ہے۔