Select Language:
Urdu / English /Spanish / Bengali / Hindi
بین الاقوامی

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ناقابلِ قبول، پاکستان آبی حقوق کا تحفظ قانونی اور سفارتی ذرائع سے کرے گا: سپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور ( آصف اقبال ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا نظرانداز نہیں کر سکتا پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی مؤقف، مؤثر سفارت کاری اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھے گا دی یونیورسٹی آف لاہور میں سندھ طاس معاہدہ اور قومی سلامتی کے عنوان سے منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پانی کا بحران محض دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی، معاشی استحکام، زراعت، ماحولیات اور عوام کے مستقبل سے براہِ راست وابستہ ہے اس اہم مسئلے پر سیاسی وابستگیوں اور علاقائی تقسیم سے بالاتر ہو کر قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ناگزیر ہےانہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی معطلی، خاتمے یا ان میں تبدیلی کے لیے طے شدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے لہٰذا پاکستان کو جذباتی ردعمل کے بجائے ٹھوس قانونی دلائل اور مؤثر سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے اپنا مقدمہ پیش کرنا چاہیےسپیکر پنجاب اسمبلی نے آبی آلودگی اور زیرِ زمین پانی میں آرسینک کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آلودہ پانی دیہی آبادیوں کی صحت، روزگار اور زراعت کو متاثر کر رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں زیرِ زمین پانی پینے اور زرعی استعمال کے قابل نہیں رہا، جس کے انسانی اور ماحولیاتی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتاملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر پانی کی منصفانہ تقسیم اور تمام صوبوں کے تحفظات کا احترام بھی قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ سندھ کو سمندر کی پیش قدمی، زرعی زمینوں، آبادیوں اور مقامی معیشت کو لاحق خطرات پر سنجیدہ خدشات ہیں، جن کا حل باہمی مشاورت اور اعتماد کے ذریعے تلاش کرنا ہوگاانہوں نے مشترکہ مفادات کونسل اور دیگر آئینی و پارلیمانی فورمز کو فعال بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبی معاملات پر سابقہ رپورٹس، سفارشات اور صوبائی مؤقف کا جامع جائزہ لیا جائے۔ آبی ماہرین پارلیمنٹیرینز اور صوبائی نمائندوں کو مشاورتی عمل میں شامل کرکے ایک قابلِ عمل قومی پالیسی تشکیل دی جائے علاقائی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ امن مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملکی خودمختاری، آزادی اور قومی حقوق کے خلاف کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینا پاکستان کا حق ہے۔انہوں نے جامعات اور پارلیمان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور آبی مسائل پر تحقیق، علمی مباحث اور مختلف نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ مؤثر قومی پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے۔ پانی کے مسئلے کا پائیدار حل قومی یکجہتی، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمتِ عملی ہی سے ممکن ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button