یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر کمپنی کی سابقہ ملازمہ کے سنگین الزامات

دنیا کے سب سے بڑے یوٹیوبر جمی ڈونلڈسن المعروف مسٹر بیسٹ ایک نئے تنازعے میں گھر گئے ہیں، جہاں ان کی کمپنی پر ایک سابق خاتون ملازمہ نے جنسی ہراسانی، صنفی امتیاز اور زچگی کی چھٹی کے بعد ملازمت سے نکالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مسٹر بیسٹ کی کمپنی کی سابق سوشل میڈیا منیجر لورین میورومیٹس نے نارتھ کیرولینا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں زچگی کی چھٹی ختم ہونے کے محض تین ہفتے بعد ہی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، حالانکہ وہ کئی برسوں سے کمپنی کا حصہ تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ دورانِ حمل اور زچگی کے وقت بھی ان پر کام کا دباؤ برقرار رکھا گیا، یہاں تک کہ وہ اسپتال میں بھی میٹنگز میں شریک ہوتی رہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ انکار کی صورت میں نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی کا ماحول خواتین کے لیے نامناسب اور تضحیک آمیز تھا، جبکہ کمپنی کے سی ای او جیمز وارن کے حوالے سے بھی غیر موزوں گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے۔لورین کے مطابق یہ تمام اقدامات امریکی قوانین، خصوصاً فیملی اینڈ میڈیکل لیو ایکٹ، کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔



