
انتہاپسندانہ پالیسیوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے باعث دنیا افغان طالبان رجیم سے بیزار ہوچکی ہے۔ افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی کے باعث اقوام متحدہ میں افغانستان کی مستقل نشست کا فیصلہ نہ ہوسکا، اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی نے تاحال افغانستان کی مستقل نشست طالبان رجیم کے حوالے کرنے سے گریز کیا ہے۔ طالبان رجیم انسداد دہشت گردی، اسمگلنگ اورانسانی حقوق جیسے عالمی مطالبات کو اندرونی معاملہ قرار دیکر ناجائز اقتدار کو طول دے رہی ہے، سالانہ واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث افغانستان مسلسل چوتھے سال بھی جنرل اسمبلی میں ووٹ کے حق سے محروم رہا۔ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ میں افغانستان کی خالی نشست اور ووٹنگ کے حق سے مسلسل محرومی طالبان رجیم کی سفارتی ناکامی اورعالمی تنہائی کا واضح ثبوت ہے، طالبان دور میں افغانستان بطور ریاست بری طرح ناکام ہوچکا جس کا خمیازہ براہِ راست افغان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔



