روس کی طاقت اور سفارتکاری!

امریکی کانگریس نے ستمبر میںروس پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک بل پاس کیاتھا۔ اس بل کی زد میں زیادہ تر روس کی اشرافیہ ‘ اعلیٰ افسران اور سرکاری ادارے آتے تھے۔ اسکا مقصد ان شخصیات اور اداروںپر دبائو ڈالنا تھا کہ وہ پیوٹن حکومت پر اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے اسے یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر مجبور کریں۔ امریکی آئین نے صدر کو جو وسیع اختیارات دیئے ہیں انہیں استعمال کرتے ہوے صدر ٹرمپ نے اس بل پر دستخط کرنے کے بجائے اسے کانگرس کو واپس بھیج دیا ۔ صدر امریکہ نے کانگرس کو ایک خط کے ذریعے آگا ہ کیا ہے کہ وہ اس بل کو امریکہ کی قومی سلامتی کے حق میں نہیں سمجھتے۔گذشتہ چند ہفتوں میں صدر ٹرمپ کئی بار یہ کہہ چکے ہیںکہ یوکرین کے روس کی آئل ریفائنریز پر حملے دنیا بھر میں تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ یوکرین روس پر تمام حملے امریکہ کی مہیا کردہ انٹیلی جینس کی بنیاد پر کرتا ہے۔ واشنگٹن نے Kyiv کو سٹار لنک اور سٹار شیلڈ کے نام سے پہچانے جانے والے ایسے جدید دفاعی نظام مہیا کر رکھے ہیں جو روس کے میزائل اور ڈرون حملوں کا دفاع کرنے کے علاوہ اہداف کا تعین کرنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ اب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ پینٹا گون نے اس سسٹم کو اتنا سست کر دیا ہے کہ یوکرین اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اب کھل کر روس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے صدر پیوٹن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت امریکہ روس پر سے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے‘ ٹیرف میں کمی کرنے اور تیل برآمد کرنے کے اقدامات پر عمل کرے گا۔ اسکے ساتھ ہی Treasury Department نے عارضی طور پر روس کو امریکہ اور عالمی منڈی میں اپنا تیل اور ڈیزل فروخت کرنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا۔ اس میں حیران کن بات یہ ہے کہ یہ اجازت اگلے سال اپریل تک دی گئی ہے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس اب اپنا تیل عالمی منڈی میں فروخت کر کے خوب دولت کمائے گا اور اسے یوکرین کے مظلوم عوام پر میزائل برسانے کے لیے استعمال کرے گا۔
صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف امریکہ اور یورپ میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کی ا سٹیبلشمنٹ جسے ہر ملک میں ڈیپ سٹیٹ کہا جاتا ہے24فروری 2022 کو شروع ہونیوالی روس یوکرین جنگ میں بڑی شدو مد سے Kyiv کا ساتھ دے رہی ہے۔ امریکہ اب تک اربوں ڈالر کی فوجی امداد یوکرین کو مہیا کر چکا ہے۔ کئی یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کر کے یوکرین کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔ روس کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے معاشی آمدنی کے اتنے بڑے ذرائع کھول دینے کے بعد صدر ٹرمپ کو ملک کے اندر اور باہر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کانگرس نے کئی ماہ کے غوروخوض کے بعد روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا جو بل پاس کیا تھا اسے دونوں جماعتوں کے لیڈروں کی حمایت حاصل تھی۔ صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آرڈر کی مخالفت کرتے ہوے ٹیکساس کے ریپبلیکن سینیٹر N John Corneyنے کہا ہے ” Congress must investigate Trump’s aid and comfort to Russia.”ریپبلیکن پارٹی کے نارتھ کیرو لائنا کے سینیٹر Thom Tillis نے بیان دیا ہے کہـ’’ ٹرمپ انتظامیہ نے جس انداز سے روس کے ڈکٹیٹر کے آگے ہتھیار ڈالے ہیںوہ ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ پیوٹن وہ شخص ہے جو ہر روز یوکرین کے معصوم شہریوں کو قتل کرتا ہے۔‘‘ ریپبلیکن پارٹی کے علاوہ امریکن میڈیا بھی صدر ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ روس کا تیل کسی بھی صورت امریکہ میں گیس کی قیمت کم نہیں کر سکتا۔ یہ قیمت اسوقت تک بڑھتی رہے گی کہ جب تک امریکہ ایران جنگ ختم نہیں ہو جاتی۔ معروف کالم نگار ٹام فریڈمین نے اٹھارہ اکتوبر کے کالم میں لکھا ہے’’ ٹرمپ مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے ڈیزل کی قیمت میں کمی کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ریپبلیکن امیدوار مہنگائی کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوں گے۔‘‘ اتنی کڑی تنقید کے باوجود صدر ٹرمپ اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میںانہوں نے لکھا ہے’’ میں روس یوکرین جنگ ختم کرانے کے لیے صدر پیوٹن سے مذاکرات کر رہا ہوں۔ میںا س دوران ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھانا چاہتا جس کی وجہ سے روس مذاکرات سے دستبردار ہو جائے۔‘‘ صدرٹرمپ کی اپنی جماعت اور میڈیا کے مقابلے میں یہ مزاحمت پتہ دیتی ہے کہ وہ روس کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیںاور اسکی شرائط مان کر اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔لگ بھگ پانچ برسوں سے جاری اس جنگ میں شدید نقصان اٹھانے کے باوجود روس اپنی عسکری اور سفارتی طاقت کو مؤثر انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ روس کے وزیر داخلہ Alexandrovich Kolokoltson گذشتہ ہفتے چار روز تک اسلام آآباد کی عسکری اور سیاسی قیادت سے خطے کے دفاعی امور پر بات چیت کرتے رہے۔ وہ اپنے ملک کی سفارتی طاقت کو استعمال کر کے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تنازعات ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ روس کے وزیر خارجہ Sergy Lavrov نے انیس اکتوبر کو ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ امریکہ ایران جنگ پر بات چیت کی۔ صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کے قریبی تعلقات کو دیکھتے ہوے کہا جا سکتا ہے کہ روس‘ امریکہ ایران جنگ کو ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔






