گورنر راج !

پاکستان نارمل ملک نہیں ہے،نارمل ملک شائد کبھی تھا ہی نہیں،جس ملک کا آئین اپنے شہریوں کا ایمان ٹٹولتا ہو وہ ملک نارمل کیسے ہو سکتا ہے،پاکستان واحد ملک ہے تو 1973کے آ ٓئین کے بعد نارمل نہیں رہا کتنا بڑا دھوکہ کہ ایک سیاست دان جو چینی رہنما ماؤ کا پیروکار تھا وہ ملک کو مولویوں کے حوالے کر کے چلا گیا،اور اب گلی گلی سڑک سڑک مولوی شہریوں کے ایمان کا ٹیسٹ لیتے رہتے ہیں،ملک میں کچھ بھی اسلامی نہیں مگر کہتے ہیں کہ پاکستان ا سلامی جمہوریہ ہے،جمہوریت نام کو نہیں مگر جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپا جا رہا ہے،حال ہی میں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ پاکستان کا ہر تیسرا شہری دماغی مریض ہے ،نماز پڑھتے ہیں مساجد آ باد ہیں مگر جھوٹ، بد دیانتی،دھوکہ، فریب، غیبت،منافع خوری،اسمگلنگ،کام چوری عام ہے ابھی چند دن پہلے اسلام آباد میں ایک لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی ہے اس لڑکی کا نام لائبہ اعجاز بتایا جاتا ہے وہ گولڈ میڈیلسٹ تھی اور امریکہ کی ہارورڈ یونی ورسٹی میں داخلہ چاہتی تھی اس نے ایجنٹ کو داخلے کے لئے 93 لاکھ دے دیئے اور ایجنٹ پیسے لے کر فرار ہو گیا اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ ڈیپریشن کا شکار ہوکر لڑکی نے خود کشی کر لی،ملزم گرفتار ہو چکا ہے کیونکہ یہ واقعہ اسلام آباد میں وقوع پزیر ہوا اور وزیر اعظم نے نوٹس لیا اور وزیر داخلہ متحرک ہو گئے،لائبہ اعجاز ایک ذہین لڑکی تھی مگر اس ذہین لڑکی نے واقعہ کی اطلاع پولیس کو دینے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دی،اگر سماجی آزادی ہوتی،ٹیلی وژن سے اذان کی بجائے سماجی الجھنوں اور مسائل پر بات ہوتی تو کامن سینس استعمال کرتے ہوئے لائبہ کو پولیس کی مدد لینی چاہئے تھی مگر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کام اندر کھاتے ہی ہو رہا تھا،یعنی چوری چھپے،لڑکی کے پاس کامن سینس کی کمی تھی سو آسان طریقہ اپنایا گیا اور لائبہ نے خود کشی کر لی، کیاآپ کو معلوم ہے کہ پاکستان میں خود کشی کی شرح مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہے،اس کی وجہ عورتوں میں سماجی علم کی کمی ہے پاکستان کا مرد پاکستانی عورت کے مقابلے میں زیادہ مکار اور چالاک ہے،اور 96%وارداتیں مرد ہی ڈالتا ہے،اور 56%جرائم سے بچ نکلتا ہے،عورت اگر جرم کرے جس کا تعلق کسی بھی صورت میں دین سے نکل آئے تو مرد کے ساتھ مولوی کھڑا ہو جاتا ہے مثلاً جائیداد کے مسائل میں مولوی ہمیشہ مردکے ساتھ کھڑا ہوتا ہے،طلاق اور خلع کی کیس میں بھی مولوی ہمیشہ ہی مرد کے ساتھ ہوتا ہے،اور عورت کو انصاف نہیں ملتا،یہ نارمل نہیں ہے دنیا کا قانون جینڈر بیس نہیں ہوتا ،کسی قانون میں مرد اور عورت کی تخصیص نہیں ہوتی،ایسا نہیں کہ ٹریفک لاء کی خلاف ورزی عورت کرے تو اس کو سزا ملے گی، جرمانہ ہوگا اگر مرد ٹریفک لاء کی خلاف ورزی کرے تو تو اس کو چھوڑ دیا جائے،قانون کا اطلاق یکساں ہوتا ہے،مگر یہ صرف پاکستان کا قانون ہے جہاں قتل کے بعد بھی اسلام قاتل کو بچالیتا ہے،مولویوں کا اصرار ہے کہ عرب کے قبائلی قانون کو اس دور میں بھی جاری رکھا جا سکتا ہے عجیب بات ہے کہ قاتل پیسے دے کر بچ جاتا ہے اور state lawمنہ دیکھتا رہ جاتا ہے،نیویارک میں ایک پاکستانی کو ایک سیاہ فام نے قتل کر دیا،پولیس نے قاتل کو گرفتار کر لیا عدالت میں قاتل کے باریش والد نے جو شلوار قمیص میں ملبوس تھا جج سے کہا کہ میں قاتل کو معاف کر تا ہوں،شائد اس شخص کے ذہن میں ہو کہ اس کے معاف کرنے سےقاتل سزا سے بچ جائے گامگر جج نے کہا کہ تم ایک بڑے دل کے مالک ہو مگر قاتل نے ریاست کا قانون توڑا ہے اس لئے اس کو سزا ضررو ملے گی، یہ نارمل ہے اور عدلیہ کا یہ رویہ انصاف بھی فراہم کر رہا ہےمجھے یاد ہے کہ بلوچستان میں ایک فوجی کپتان پر الزام تھا کہ اس نے ایک بلوچی ڈاکٹر کا ریپ کیا ہے اس وقت اکبر بگٹی نے اصرار کیا تھا کہ کیپٹن کو آگ پر چل کر اپنی معصومیت کا ثبوت دینا ہوگا،اکبر بگٹی پڑھے لکھے سیاست دان تھے،شائد پڑھنے بیرون ملک گئے تھے بلوچستان کے وزیر اعلی بھی رہے مگر پھر بھی قبائلی سوچ، وہی دقیانوسی سوچ،وہی فرسودہ روایات ،ہزار سال پرانی جرگے اور پنچائیت کے گھٹیا دیہاتی فیصلے،یعنی اتنے بڑے لوگ اتنے بڑے عہدوں پر فائز مگر دقیا نوسی اور بنیاد پرست روایات کے جال میں ،ان لوگوں نے کبھی عوام کو روشن خیالی کی طرف آنے ہی نہیں دیا عوام کو بنیاد خیالی میں گرفتار رکھا ہے ،یعنی یہ سب کچھ دانستہ ہوا ہے ، کیا سیاست دان دانستہ ہی ملک کو فرسودہ مذہبی روایات کا شکار رکھنا چاہتے تھےتاکہ عوام کو بے شعور رکھا جائے ،اور ایسا ہی ہواعوام بھیڑ بکریاں ہی ہیں،اور یہی ان کو سوٹ کرتا ہے پختون خواہ میں گورنر راج لگ گیا،وہی پختون خواہ جو کبھی پاکستان میں شامل ہونے سے گریزاں تھا،جو ایک ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شامل ہوا ،شامل ہو تو گیا مگر ہمیشہ بدگمان، ہمیشہ شاکی، فوج میں جانے کے دروازے کھلے تو کچھ شکائیت میں کمی آئی، پھر پختون خواہ سرخ پوش ہو گیا ،باچا خان اور خان عبد الولی خان کے اثرات تھے،اپنے کالج کے دور میں ہمارے جو پٹھان دوست تھے وہ سب ترقی پسندی کی بات کرتے تھے،سبطِ حسن عباس جلال پوری، ڈاکٹر منظور علی،کے نظریات سے متفق،پھر اس وقت کے سرحد کے سارے دانش ور ترقی پسند،کس کس کے نام لئے جائیں،پھر مفتی محمود کا ظہور ہوا اور یہ بھی ہوا کہ مفتی محمود سرحد کے وزیر اعلی بھی بن گئے،ذرا رکئےذرا یہ سوچئے کہ افراد ترقی پسند ہو نے بعد بنیاد پرست کیسے ہو سکتے ہیں،کسی نے کہا تھا کہ انسان reasoning کا عادی ہو تو وہ ان نظریات کو مسترد کر دیتا ہے جن کی بنیاد reasoningپر نہ ہو ،مگر پختون خواہ reasoningسےبنیاد پرستی کی طرف آگیا اور جنرل ضیا الحق کے زمانے میں تو سارے سرخ پوش ussr کو مٹانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے پر تیار تھے،establishment کی خواہش پر، پھر یہی establishment عمران کو لے آئی،اور یہی جہادی اور طالبان عمران کے ساتھ ہو گئے،یعنی 45سالوں میں پختونوں نے تین بار اپنا سیاسی مسلک بدلا،ہر پندرہ سالوں کے بعد،دنیا کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا،یہ بھی پہلی بار ہوا کہ پختوں خواہ اسمبلی کے وزراءیہ کہتے سنے گئے کہ ہمیں ووٹ عمران کی رہائی کا ملا ہے،مگر یہ بات تو ایک صحیح الدماغ انسان سمجھ سکتا ہے کہ عمران پر مقدمات ہیں جعلی مقدمات ہو سکتے ہیں ،جھوٹے مقدمات، تو عمران کی رہائی عدلیہ کے حکم پر ہی ہو گی،دھرنوں اور لانگ مارچ سے تو ہوگی نہیں،یہ دلیل پختوںخواہ کے کسی بھی لیڈر کی سمجھ میں نہیں آرہی،یہ بات تو ماہرِ قانون و آئین سلمان اکرم راجہ،بیرسٹر گوہر، سلمان صفدر،بیرسٹر عمیر نیازی کی سمجھ میں نہیں آرہی،اور سیاسی مجبوری کی وجہ سے وہ یہ بات پختون خواہ کے عوام کو نہیں بتا رہے ،بتائیں گے تو لات مار کر نکال دیا جائیگا،پورا ملک نارمل نہیں،اور پورا ملک denial میں ہے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دعاؤں سے covidچلا جاتا ہے وظیفوں سے کینسر کا علاج ہو سکتا ہے،اور دعاؤں سے امریکہ اور اسرائیل تباہ ہو سکتے ہیں ،امریکہ اور اسرائیل اگر بُرے ہیںتو مومنین کو خود اپنی طاقت سے امریکہ یا اسرائیل کو تباہ کرنا تھامگر یہ لوگ عقل سے اتنے فارغ ہیں کہ چاہتے ہیں کہ یہ کام اللہ ہی کر دے ان کو زحمت نہ کرنی پڑے،دو سال کے بعد پی ٹی آئی کو پھر خیال آیا کہ کپتان کو لانگ مارچ سے رہا کرا لیا جائے،اور لانگ مارچ کرنے نکل پڑے،جیو کے سلیم صافی تین بار کہہ چکے کہ پختون خواہ کے بارہ اضلاع ٹی ٹی پی کے کنٹرول میں ہیں اور پختون خواہ میں دہشت گردی وہیں سے ہو رہی ہے جس کا نشانہ فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں،حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات بھی ہوئے معاہدہ ہونے کے قریب تھا کہ سہیل آفریدی نے کہہ دیا کہ ہم پختون خواہ میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے اور حکومت کو چاہیئے کہ مل بیٹھ کر پالیسی بنائے،اس کا مطلب ہے کہ پالیسی ٹی ٹی پی اور افغانستان کی مرضی سے بنائی جائے،حکومت نے کئی بار وارننگ دی مگر نظر انداز کر دیا گیا،اور قیاس کر لیا گیا کہ وفاقی حکومت بہت کمزور ہے مگر یہ بات مس کر گئے کہ مقتدرہ بہت مضبوط ہے،میں کہہ سکتا ہوں کہ پختون خواہ کو بچانے کے لئے گورنر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا مگر پی ٹی آئی کو موقع دیا گیا کہ وہ سیاسی راستہ اختیار کرے مگر سہیل آفریدی نہیں مانے لہٰذا جو سمری دس دن سے زرداری کے پاس پڑی ہوئی تھی اس پر بالآخر صدر نے دستخط کر دئے،گورنر راج نافذ ہوا گورنر نے گیارہ مشیران پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل بنا لی ہے سہییل آفریدی کو حراست میں لے لیا گیا ہے شفیع جان روپوش،پورا پختون خواہ میں ایمرجنسی، کوئی احتجاج نہیں ہوا،فوج کو سارے اختیارات حاصل ہیںاور اب فوج پوری مستعدی سے بارہ اضلاع میں آپریشن کرے گی،اور اس بار نتائج چاہیئے کسی غلطی کی گنجائش نہیں، ہمیں اس غرض نہیں کہ مشاورتی کونسل میں کون کون ہے ہم صرف نتائج چاہتے ہیں یہ موقع ہے کہ پختون خواہ سے ملائیت کی بیخ کنی کر دی جائے،پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے مگر پی ٹی آئی نے سیاسی رویہ اختیار نہیں کیا اور جتھوں کے ذریعے اسلام آباد فتح کرنے کے خواب دیکھے،ہمیں نواز لیگ اور پی پی پی سے کچھ زیادہ امیدیں تو نہیں مگر لگتا ہے کہ مقتدرہ نے ایک سمت متعین کر لی ہے اور یک سو ہے،گیارہ سالوں میں اگر پختوں خواہ میں مثبت تبدیلی آتی، امن ہوتا، دہشت گردی پر قابو پا لیا جاتا ،تعلیم اور صحت پر کام ہوتا، اقرباء پروری ختم ہو جاتی تو شائد نہ لانگ مارچ کی ضرورت پیش آتی نہ گورنر راج لگتا،اب یہ بات شائد عوام کی سمجھ میں آگئی ہے پی ٹی آئی جتھ بندی کی سیاست کر رہی ہے اور صوبے کو امن کی شدید ضرورت ہے، نالغ میڈیا شائد یہ سمجھ رہا ہے کہ گورنر راج لگانے کا فیصلہ آج ہوا ایسا نہیں ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے تھے اس وقت یہ فیصلہ ہو چکا تھا مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو یہ نوبت نہ آتی مگر سول اور ملٹری intelligence ادارے وفاقی حکومت کو برابر بریف کر رہے تھے کہ سہیل آفریدی کے تیور درست نہیں،جیسے ہہ سہیل آفریدی نے نئے مطالبات پیش کئے فیصلہ کر لیا گیا یہ وہ وقت تھا جب سہیل آفریدی کوہاٹ میں تھے تیاری مکمل تھی اور پھر وفاقی حکومت نے صدر سے سمری پاس کرا لی اور پختون خواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی اور صوبائی اسمبلی کو غیر فعال کر دیا،بہر حال یہ انتہائی اقدام ہے جو بحال مجبوری نافذ کیا گیا ہے ۔



