
ترکیہ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی کرد عسکریت پسند گروہ (PJAK) کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کی ممکنہ کارروائیاں ایران کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکیے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات سامنے آئیں کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں اور امریکا کے درمیان ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں مشاورت ہوئی ہے، جس میں امریکا اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ایرانی کرد ملیشیاؤں نے امریکا سے اس بارے میں مشورہ کیا کہ وہ ایران کے مغربی علاقوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کس طرح کارروائیاں کر سکتے ہیں۔اس سے قبل بعض امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔ایک امریکی اہلکار نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک ہزار عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور ہزاروں افراد سرحد عبور کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں۔دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔تاہم ایرانی خبر ایجنسی نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سرحدی صوبوں میں کرد جنگجوؤں کے داخل ہونے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔



