
ایران میں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں پہلی بار صدر ٹرمپ نے بھی کھل کر گفتگو کی۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ قیادت کے بعد بھی ایسا شخص اقتدار میں آ جائے جو پہلے والوں سے بھی زیادہ سخت گیر ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کارروائیوں کے بعد ایران میں کوئی ایسا رہنما آ گیا جو سابق قیادت جیسا ہی ہو تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کو عوام کے مفاد میں آگے لے جائے اور جہاں آزادی اظہار رائے ہو، آمریت و جبر نہ ہو۔امریکی صدر نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ تاحال بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہ نکلیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں عوام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ وقت احتیاط کا ہے۔جب صدر ٹرمپ سے ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں۔تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں قومی قیادت کے لیے ایران میں مقیم کوئی شخصیت ہی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔



