ظہران ممدانی نے نیتن یاہو کی گرفتاری کی بات کر کےعالمی نظام کا قانون چیلنج کیا

نیویارک: نیویارک کے میئر زوہران ممدانی تقریباً 18 ماہ تک یہ وعدہ کرتے رہے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ انہیں گرفتار کرائیں گے۔تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا کوئی قانونی اختیار موجود نہیں۔مضمون کے مطابق، یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ممدانی کو پہلے سے معلوم نہ ہو کہ ان کا یہ وعدہ قانونی طور پر قابلِ عمل نہیں تھا۔ مصنف کے نزدیک، اس وعدے کا اصل مقصد نیتن یاہو کی گرفتاری نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کی قیادت میں قائم عالمی نظام کی قانونی اور سیاسی حیثیت کو چیلنج کرنا تھا۔رپورٹ کے مطابق، ممدانی انتظامیہ نے قابلِ اطلاق قوانین کے تحت تمام ممکنہ قانونی راستوں کا جائزہ لیا، مگر اسے ایسا کوئی آزاد قانونی اختیار نہیں ملا جس کے ذریعے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف جاری وارنٹ پر عمل درآمد کیا جا سکے۔بعد ازاں میئر زوہران ممدانی نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ پر عمل درآمد کرے، حالانکہ امریکہ کبھی بھی آئی سی سی کا رکن نہیں رہا۔یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ نیتن یاہو کو امریکہ میں کسی بھی صورت، کسی بھی شکل یا کسی بھی طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو موجودہ تباہ کن صورتحال تک پہنچانے والے رہنما ہی دراصل گرفتاری کے مستحق ہیں۔مضمون کے مصنف کے مطابق، یہ معاملہ صرف ایک ناکام سیاسی وعدے تک محدود نہیں بلکہ اس سے ممدانی کی اسرائیل مخالف مہم کے پس منظر میں موجود نظریاتی سوچ، یعنی تھرڈ ورلڈ ازم بھی نمایاں ہوتی ہے۔مصنف کے مطابق، تھرڈ ورلڈ ازم ایک نظریہ ہے جو 1950 کی دہائی کے آخر میں سامنے آیا۔ اس نظریے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں غربت کی بنیادی وجہ ترقی پذیر ممالک کی اپنی پالیسیاں یا ادارے نہیں بلکہ وہ عالمی نظام ہے جس پر صنعتی اور مغربی ممالک کا غلبہ رہا ہے۔مضمون میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نظریے کے مطابق مغربی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ بعض مسلح یا دہشت گرد تنظیموں کو آزادی کی تحریکیں قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ امریکہ کی قیادت میں قائم عالمی نظام کی مخالفت کرتی ہیں۔مصنف کے مطابق، اس نظریاتی سوچ میں اسرائیل کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسرائیل کو ایک ایسی آبادکار نوآبادیاتی ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو امریکی طاقت کے سہارے قائم ہے، اور اسی بنیاد پر اسرائیل اور فلسطینیوں کے تنازعے کو نوآبادیاتی طاقت اورمحکوم قوم کے درمیان جدوجہد کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس منطق کے تحت، مصنف کے مطابق، اسرائیل کی قانونی و سیاسی حیثیت کو بنیادی ہدف بنایا جاتا ہے۔



