
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے خلاف عائد کی جانے والی نئی وسیع پابندیوں اور تجارتی محصولات کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ امریکی قومی مفاد قرار دیتے ہوئے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔یہ پابندیاں لنڈسے گراہم ایکٹ 2026 کے تحت متعارف کرائی گئی تھیں، جس پر ٹرمپ نے ستمبر میں دستخط کیے تھے۔ قانون کے تحت روسی معیشت، مالیاتی شعبے اور توانائی کی برآمدات پر دباؤ بڑھانے کے علاوہ روسی تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے جانے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ ٹرمپ کا فیصلہ ان پابندیوں کے نفاذ سے صرف چند روز قبل سامنے آیا۔ وائٹ ہاؤس کے حکم کے مطابق پابندیوں کی چھوٹ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک صدر یا متعلقہ اعلیٰ حکام یہ فیصلہ نہ کریں کہ مزید کارروائی ضروری ہے۔امریکی صدر کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔حالیہ دنوں میں روس سے ڈیزل کی خریداری سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے نے بھی یوکرین اور بعض امریکی قانون سازوں میں تشویش پیدا کی ہے کہ روس پر معاشی دباؤ کم کرنے سے ماسکو کو جنگ جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔



