
امریکی قانون سازوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ساتھ بھارتی حکومت کے ناروا سلوک کا معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے۔چھ امریکی ڈیموکریٹ قانون سازوں نے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے آئندہ دورۂ بھارت کے دوران بھارتی حکام کے سامنے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے وابستہ احتجاجی مظاہرین کے ساتھ مبینہ سخت حکومتی رویے کا معاملہ اٹھائیں۔ قانون سازوں میں پرمیلا جے پال، الہان عمر، جم میک گورن، راشدہ طلیب، ایلینور ہومز نورٹن اور جیسس گارشیا شامل ہیں۔انہوں نے روبیو کو خط میں طلبہ مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور نگرانی پر تشویش کا اظہار کیا۔امریکی قانون سازوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے اور امریکا کے مختلف شہروں میں بھارتی قونصل خانوں نے کاکروچ جنتا پارٹی کے حق میں مظاہرے کرنے والوں کی نگرانی کے لیے فوٹوگرافرز تعینات کیے۔ انہوں نے ان الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔قانون سازوں نے بھارت میں انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام خارج کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اظہارِ رائے، پرامن اجتماع اور ووٹ دینے کا حق جمہوری معاشروں کی بنیادی اقدار ہیں۔دوسری جانب امریکا میں بھارتی سفیر ونائے موہن کواترا نے پرمیلا جے پال کے تبصروں کو بھارت کے داخلی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روبیو اگلے ہفتے بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں ان کی بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات متوقع ہے۔



