
برطانیہ میں بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا جہاں شہزادے اینڈریو کی گرفتاری کے بعد ایک سینیئر سیاست دان اور سفیر کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پیٹر مینڈیلسن امریکا میں بطور برطانوی سفیر تعینات رہے اور اسی دوران ان کے ایپسٹین سے گہرے روابط سامنے آئے تھے۔گزشتہ برس جب یہ معاملات منظرِ عام پر آئے تو انھیں سفارتی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔برطرفی کے فوری بعد پیٹر مینڈیلسن نے ایوانِ بالا کی رکنیت بھی چھوڑ دی تھی اور بعد ازاں اپنی جماعت لیبر پارٹی سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ وزیرِ اعظم گورڈن براؤن کی حکومت میں بطور وزیر خدمات انجام دیتے ہوئے جیفری ایپسٹین کو حساس نوعیت کی سرکاری دستاویزات فراہم کرتے رہے۔تحقیقات میں بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے ان کے تعلقات سے متعلق ٹھوس شواہد ملنے پر آج انھیں باضابطہ گرفتار کرلیا گیا۔



