ہفتہ وار کالمز

کیا 23مارچ یوم پاکستان کی پریڈ ہونا چاہیے؟

اس ہفتے 23مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر ہر سال کی طرح سے فوجی پریڈ ہوئی تو مگر بڑے چھوٹے پیمانے پر کئی وجوہات بیان کی جارہی ہیں۔ کسی نے کہا کہ فوج کا بجٹ نہیں تھا اس لئے پریڈ کی جگہ اور اس کے اسکیل کو مختصر کر دیا گیا۔ ہر سال یہ پریڈ اسلام آباد میں پریڈ گرائونڈ میں ہوتی تھی مگر اس مرتبہ یہ پریڈ اسلام آباد میں واقع ایوان صدر میں ہوئی۔ لیکن اس حوالے سے دو اور موقف بھی سامنے آرہے ہیں ۔ کچھ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے دو صوبوں خیبرپختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بعد پریڈ گرائونڈ میں لوگوں کی تعداد کی وجہ سے اور فوجی قافلوں، سازو سامان کی تریل کی وجہ سے اس دن دہشت گرد کوئی کارروائی کر سکتے تھے اس لیے اس تقریب کو مختصر کر دیا گیا۔ دوسرا موقف یہ ہے کہ عوامی سطح پر فوج کے خلاف پھیلی ہوئی ناپسندیدگی کی وجہ سے اور عمران خان کی مقبولیت کی وجہ سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں مجمع میں سے فوج کے خلاف نعرے بازی اور قیدی نمبر 804کے حق میں نعرے نہ بلند ہو جائیں جن کے کئی مظاہرے کرکٹ کے مختلف شہروں میں اسٹیڈیم میں نہ صرف کرکٹ کے کھیل کے دوران بلکہ افتتاحی تقریب میں لگائے گئے فلک شگاف نعروں سے ہو چکا ہے۔ ان نعروں کو تو تمام ٹی وی نیٹ ورکس نے ڈبنگ کے ذریعے چھپا دیا مگر جب پریڈ گرائونڈ میں پریڈ کے دوران یہ نعرے لگ جاتے تو انہیں سنبھالنا خاصا مشکل ہوتا خاص طور پر جب پوری دنیا کا میڈیا وہاں موجود ہوتا ہے اور اوپر سے اس مرتبہ پہلی مرتبہ پریڈ میں چائنا کاایک بہت بڑا فوجی دستہ بھی شرکت کررہا تھا۔ سب سے بڑھ کر ڈیجیٹل دہشت گرد میڈیا یعنی کہ سوشل میڈیا تو ایسے مواقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
ہماری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی ہے کہ 1940ء میں لاہور کے منٹو پارک میں منظور کی جانے والی قرارداد پاکستان کا کسی فوج پریڈ سے کیا تعلق بنتا ہے؟ 1940ء میں تو پاکستانی فوج کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا تو پھر فوج کی پریڈ کو یوم پاکستان کیساتھ کن بنیادوں پر جوڑ دیا گیا؟ قرارداد پاکستان کو ایک بہت بڑے سویلین عوامی اور سیاسی جلسے میں سیاستدانوں کی قیادت میں منظور کیا گیا تھا اور اسٹیج پربھی کوئی فوجی جنرل موجود نہیں تھا۔ اگر آپ اس تمام معاملے کے پس منظر میں جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ فوج کے چند جنرلوں نے بہت مہارت اور چالاکی کیساتھ اس عوامی ڈے کو ایک فوجی پریڈ میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان کو کسی فوج یا فوجی جنرل نے نہیں بنایا تھا۔ پاکستان اپنے وقت کے معروف وکیل بیرسٹر محمد علی جناح نے سیاسی پارٹی مسلم لیگ کے بینر تلے اور پلیٹ فارم پر عوام کی مدد کیساتھ حاصل کیا تھا، پاکستان کی فوج ہر گز بھی حصول پاکستان اور تکمیل پاکستان میں شامل نہیں تھی ہاں البتہ پاکستان توڑنے میں ضرور شامل تھی۔ ایک بڑے منظم طریقے سے یوم پاکستان اور یوم آزادی پاکستان کے مواقع پر فوجی جنرلوں کو گھسیڑ دیا گیا ہے۔ اصل میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر سال 16دسمبر کو یوم سقوط پاکستان سارے جنرل مل کر مناتے اور اپنی ناکام حکمت عملی کا جائزہ لیتے جس کی وجہ سے ایک لاکھ فوج کی موجودگی میں ہندوستان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے گئے اور مشرق پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اس طرح سے جنرلوں کو ایک دن کارگل کیلئے بھی منانا چاہیے اور ISPRکو نغمہ جاری کرنا چاہیے کہ کس طرح سے پاکستان کا علاقہ ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ جنگ ستمبر میں بھی ہمارے جنرلز تو جنرل یحییٰ کی طرح لاہور جم خانے میں مئے نوشی میں مصروف تھے اور ہندوستانی فوج لاہور کے نزدیک پہنچ چکی تھی۔ کبھی پلوں کو اڑا کر تو کبھی فوجی جوانوں نے ٹینکوں کے نیچے بم باندھ کر دشمن کی پیش قدمی کو روک دیا تھا نہیں تو ان جنرلوں نے تو شکست کھانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ پاکستان میں کئی مقامات پر گمنام فوجیوں کی قبریں موجود ہیں جبکہ ہمارے جنرلوں کے کے جزیرے اور جائیدادیں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اب شکر ہے کہ پاکستانیوں کی آنکھیں پچھتر سالوں پر محیط جنرلوں کے ڈھکوسلوں سے کھل گئی ہیں اور اب وہ جنرلوں کو نہیں بلکہ اپنے فوجی جوانوں کی قدر کرتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button