ہفتہ وار کالمز

کیا عمران خان کو سیاست چھوڑ دینی چاہیے؟

پہلی بات یہ کہ خان کو نوبل امن کے تمغہ کے لیے نامزد کیا گیا ہے، لیکن یہ اس حد تک ہی رہے گا۔ہمارا تجربہ بتاتا ہے جس پاکستانی کو نوبل کا تمغہ ملتا ہے اس کی پاکستانی چھترول کر دیتے ہیں۔خان اس سے بچ جائے گا۔اسے اس میڈل کی ضرورت بھی نہیں۔ وہ 25کروڑ پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن بن چکا ہے۔
تعجب تو یہ ہے، آئی ایم ایف اور عا لمی بینک پاکستا ن پر ڈالروں کی برسات کررہے ہیں۔واہ بھئی واہ۔ کیا واقعی پاکستان نے کوئی اچھے کام کیے جن سے آئی ایم ایف کے نمائندے مرعوب ہو گئے؟ جو ادارہ پاکستان کو اخراجات کم کرنے کا مشورہ دیتا ہے، اس نے غالباً دفاعی خراجات کو کم کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہو گا کیونکہ ان کی موجودگی میںبلوچستان میں اتنا بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہوا۔ اکثر جب بھی بجٹ میں اداروں کے اخراجات پر نظر ہو رہی ہوتی ہے کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقع عین اس وقت ہو جاتا ہے۔ تعجب ہے؟ البتہ پاکستان پر ڈالروں کی برسات کا تعلق عسکری اخراجات سے نہیں ہے، شاید؟ البتہ یہ انعام ضرور ہو سکتا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ہر الٹا سیدھا حربہ استعمال کر کے، آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا کر، عمران خان کو بددستور جیل میں رکھا ہوا ہے، اور اس کے ساتھیوں، کارکنوں کو بھی محبوس کر رکھا ہے، اس کا کچھ تو انعام ہونا چاہیئے؟ تو وہ انعام یہ ہے۔ کہ پاکستان پر اور قرضوں کا مزید بوجھ لادا جائے گا۔ اور حکومت اس پر خوشیاں منا رہی ہے کہ آہا جی ۔ ہمیں اور ڈالروں کا قرضہ ملے گا۔ہم نے آئی ایم ایف کو قائل کر لیا۔ بھائی، یقین کیجئیے۔ آئی ایم ایف واشنگٹن سے یہ ہدایات لیکر آیا تھا کہ پاکستانیوں کو انعام دینا ہے اس لیے ان کے مطالبات مان لیے جائیں۔ ورنہ ادارے کے چند درمیانے درجے کے ملازموں کی کیامجال کہ اپنے تمام مشاہدات اور تحقیق کے نتائج کو ایک طرف رکھ کر بالکل بر عکس فیصلہ کر دیتے؟ جیسے ہمارے پولیس والے کہتے ہیں جی کیا کریں۔ اوپر سے حکم آیا ہے۔ آئی ایم ایف کو بھی اوپر سے حکم آیا تھا۔
پاکستانیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ عمران خان نہ صرف پاکستانیوں کا محبوب ہے وہ تمام دنیا میں قبولیت پا چکا ہے۔اس کو اگر آزاد کر دیا گیا اور وہ پھر انتخابات جیت کر وزیر اعظم بن گیا تو ایک یا دوملکوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جائے گا۔یہ خطرہ اتنا شدید ہے کہ اس کو مول نہیں لیا جا سکتا۔البتہ اگر خان بھائی سیاست سے توبہ کر لے اور قشقہ کھینچ کر کسی خانقاہ میں یا القادر یونیورسٹی کے کسی کونے کھدرے میں باقی عمر گزار نے پر راضی ہو جائے، تو شاید اس کی خلاصی ہو سکتی ہے۔شاید، ہماری ناقص اور بزدلانہ رائے میں، خان کو یہ مشورہ قبول کر لینا چاہیئے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ اس کا متبادل راستہ جو ہے کہ 25کروڑ عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئے اور جگہ جگہ دھرنے مار کر بیٹھ جائے ، تو شاید حکومت گھر چلی جائے۔ مگر بھائی جان ، ان تلوں میں وہ والا تیل ہی نہیں۔ یہ قوم ابھی تک غلام ہے اس میںوہ مادہ ہی نہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ ان لوگوں نے پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے کوئی خونی جد و جہد نہیں کی۔ اگر کوئی خون بہا تو وہ بھی بزدلوں کی طرح سرحد پار کرنے کی سعی میں۔ یہ صدیوں بلکہ قرنوں سے بادشاہوں، نوابوں اور راجوں کی خدمت کرتے آئے ہیں، اور بغاوت کا تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ ایک دفعہ سوچا تھا، تو کیا ہوا؟ مٹھی بھر انگریزوں نے ، جو انکی نفسیات کو بخوبی سمجھتے تھے، بغاوت کا ایسا سر کچلا کہ مسلمانوں قعر مذلت میں ڈوبتے چلے گئے۔
انگریزوں نے مسلمانوں کے مذہب کو ان کے خلاف استعمال کیا۔ ایک طرف جمعیت علمائے ہند کو شہ دی کہ وہ مسلمانوں کو انگریزی، حساب اور سائنس کی تعلیم سے دور رکھے، کیونکہ یہ علوم انسان کو اللہ سے دور لے جاتے ہیں بلکہ انہیں کافر اور ملحد بنا دیتے ہیں۔ دوسری طرف ایک ایسی نئی مذہبی جماعت کو پروان چڑھایا جس نے کہا کہ جہاد کرنا جائز نہیں۔ انگریزوں نے عیسائیت کے پرچار کا بھی تندہی سےشروع کر دیا۔ان کے پادریوںنے ہندووں کے ایک طبقے پراپنی مہربانیوں کی بو چھاڑ کرنی شروع کر دی، جو طبقہ معاشرے میں سب سے کمزور اور بے سہارا تھا۔ یہ لوگ آسانی سے عیسائیت قبول کر لیتے تھے۔ اور جب دیکھتے تھے کہ وہ گرجا میں انگریزوں کے شانہ بشانہ بیٹھے ہیں تو ان کی عزت نفس میں بے اندازہ اضافہ ہوتا تھا۔وہ بھی اپنے آپ کو انگریز سمجھنے لگتے تھے۔ جو بڑی اچھی بات تھی۔ صدیوں سے حقیر سمجھے جانے کے بعد ان میں حیرت انگیز بہتری آئی تھی۔ اس سے پہلے مسلمانوں نے انہیں اسلام قبول کرنے کے بعد برابری کی مسند پر بٹھایا تھا۔ اور یہ لاکھوں کی تعداد میں اسلام قبول کر چکے تھے۔اسلام کا پیغام ان کو پسند آیا کیونکہ اسلام نے سب مسلمانوں کو برابر تسلیم کیا، اور کوئی ذات پات، برادری اور قبیلے کی شناخت کو مذہب اور قانون کی نظر میں قابل اعتنانہیں سمجھا۔
ہم بات کر رہے تھے کہ پاکستانی کس حد تک حکومت وقت کے خلاف کھڑا ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں اور کس حد تک اپنے حقوق کی خاطر جانے کے لیے تیار ہوں گے؟ ہمارا معمولی اندازہ ہے کہ ان لوگوں میں وہ مادہ ہی نہیں جو ان کو اس حد پر لے جائے کہ وہ کہیں کہ بس حد ہو گئی۔ اب ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ1857ء کی جنگ آزادی کے بعد سے اس قسم کے احتجاج کا دروازہ ہی بند ہو گیا۔مسلمان بس قسمت پر راضی رہنے پر تیار ہو گئے۔جو ہوئو ، سو ہوئو۔ہماری قسمت میںجو ہے وہ ہمیں مل کررہے گا۔ اللہ کی مرضی یہی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اب اللہ کیخلاف تو ہم نے لڑنا نہیں۔ اس سے مجھے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ اس عقیدہ نے، کہ ہر کام اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے، پتہ بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا، مسلمانوں میں قوت ارادی ، اپنی مدد آپ اور سوچ بچار کر کے عمل کرنے کا رستہ بند کر دیا گیاہے۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اس اعتقاد کے پیچھے وہ فرماں روا تھے جو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ہر چیز کے پیچھے اللہ کی مرضی کو ڈال دیتے تھے۔ اس اعتقاد کے پیچھے اصل معاملہ غالباً یوں ہے کہ اللہ کا بنایا ہوا نظام فطرت اٹل ہے اور اس میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا۔اللہ کی مرضی سے زمین اور سیارے اپنی مقررہ رفتار اور مدار پر چلتے ہیں۔ اس کے خلاف ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ لیکن جہاں تک اس جہاں میں انسانوں کو تعلق ہے وہ اشرف المخلوقات ہیں ان کو اللہ نے ہاتھ، پائوں، دل و دماغ دئیے ہیں، جن سے وہ کام لیکر نمازیں پڑھتے ہیں، نیکی کے کام کرتے ہیں اور بُرے بھی۔ لیکن انسان کو اللہ کی طرف سے کھلی چھٹی ہے کہ وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے یا بدی کا، کیونکہ ایک دن آئے گا جب ہر ایک بشر کو اپنی کرتوتوں کا جواب دینا پڑے گا۔ لیکن ہمارے مذہبی علماء اور مشائخ نے یہ بات کیوں نہیں سمجھائی، یا کم از کم مجھے نہیں معلوم۔لیکن عوام الناس کا اعتقاد تو میں جانتا ہوں۔ عین ممکن ہے کہ اس میں بھی اسلام کے دشمنوں کی سازش ہو۔وگرنہ اگر لوگ قران مجید کو سمجھ کر پڑھیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں جگہ جگہ کہتے ہیں کہ غور و فکر کرو، اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود نہ بدلیں۔ لیکن یہاں تو کوئی لا پرواہی سے ٹریفک کے حادثے میں زخمی ہو جائے تو کہتے ہیں اللہ کی مرضی تھی۔ بچہ امتحان میں فیل ہو جائے تو اللہ کی مرضی تھی۔ اس طرح غور خوض کرنے اور علت تلاش کرنے کے سب دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ حادثہ ہوا کیوں؟ہم کیسے ٹریفک میں حادثوں سے بچ سکتے ہیں؟ بچہ کیوں فیل ہوا؟اس قسم کے عقائد نے مسلمانوں میں تحقیق کے دروازے بند کر دیئے اور یہی وجہ ہے کہ سائنس کی دنیا میں تقریباً سب ایجادیں اہل مغرب نے کیں۔
اسی طرح، دنیا بھر کے مسلمان، ظالم حاکموں، بادشاہوں اور ان کے ملازموں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوتے رہے ہیں، کیونکہ وہ ان تکالیف کا سبب اللہ کی مرضی جانتے ہیں۔پاکستانی ان مسلمانوں سے زیادہ مختلف نہیں۔
پاکستان میں انگریزوں کے دئیے ہوئے انتظام کی ایک اچھی مثال بلدیہ اور مقامی خود مختار حکومت (Local self government) کا تصور تھا ۔ اس طریق کار میں مقامی قائدین مقامی مسائل پر خود مشورہ کر کے اس پر عمل درآمد کرتے تھے اور حکومت کی طرف سے ان کو ان کاموں کے لیے رقم ملتی تھی۔یہ چھوٹے موٹے کام جیسا کسی سکول یا ڈسپنسری کی عمارت میں مرمت کرنا، کہیں پانی کا نلکا لگوانا، کہیں نالیاں بنانا یا ان کی مرمت کروانا، کوڑا کرکٹ اُٹھوانا اور اسکو ٹھکانے لگانا وغیرہ۔ اس سے آبادی میں اپنی مدد آپ کا جذبہ پپدا ہوتا تھا اور لوگوں میں اپنے مسائل حل کرنے کی عادت بنتی تھی۔لیکن پاکستان میں کیونکہ سیاستدانوں اور سرکاری نوکر شاہی کو یہ شوق تھا کہ وہ تمام سرکاری پیسے کے استعمال پر اپنا کنٹرول رکھیں، تا کہ اس میں جو کمیشن ملتا ہے وہ ان کو ملے، انہوں نے اس نظام کو پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کے لیے باقاعدہ انتخابات کروائے جاتے تھے، جو ایک عرصہ سے التوا میں پڑے ہوئے ہیں، چونکہ کچھ خود غرض عناصر نے مقدمے کر کے ان کو موخر کروا دیا ہے اور ان مقدمات کا فیصلہ نہیں کیا جاتا کیونکہ اہل اقتدار کی یہی مرضی ہے۔
تو صاحبو! عوام میں اپنی مدد آپ کا دروازہ بند کر کے انہیں مکمل طور پر ذہنی طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔اب اگر کچھ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کپتان کو جھوٹے مقدمے بنا کر جیل میں رکھا گیا ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ کف افسوس ہی مل سکتے ہیں لیکن کوئی عملی قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ یا تو انہیں ہر کوچے قصبہ میں ایسے قائدین ملیں جو ان کی رہنمائی کریں، تو وہ حرکت میں آئیں لیکن سرکار نے بہت سے ایسے قائد جیلوں میں ڈال کر نا کارہ بنا دئیے ہیں۔ ان کے بغیر کوئی ایسی مہم جوئی ممکن نظر نہیں آتی۔
عوام زیادہ پڑھے لکھے نہیں اس لیے ان کو اخبارات اور رسائل سے تو زیادہ خبریں نہیں ملتیں۔ جو پڑھے لکھے ہیں وہ بھی ان کے اخراجات نہیں اٹھاتے۔ الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کا کنٹرول ہے اس لیے انہیں سچ کون بتائے گا؟ دوسری طرف مہنگائی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ انہیں زیادہ وقت یہ غم ستاتا ہے کہ بال بچوں کا پیٹ کیسے بھریں، مکان کا کرایہ کہاں سے دیں اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیسے پورے کریں؟ ا ن بے چاروں، بے سہاروں کے پاس وہ جوش و جذبہ کہاں کہ وہ ملک میں انقلاب لانے والی قوم بنیں۔ان میں سری لنکا اورمشرق وسطیٰ کے نوجوانوں والی تعلیم نہیں ہے۔بنگلہ دیش کے نوجوان بھی تعلیم میں پیچھے نہیں۔ تعلیم ہی شہری شعور پیدا کرتی ہے۔جب چالیس فیصد سے زیادہ پاکستانی نا خواندہ ہیں، اور جو باقی کے خواندہ ہیں ان میں تعلیم نے کچھ نہیں بگاڑا۔ وہ جب تک اپنے آپ اس نتیجے پر نہیں پہنچیں گے تو کیسے خان کے پیچھے جان دینے پر تیار ہوں گے؟ وہ بھی دے دیں لیکن انہیں آمادہ کرنے کے لیے بھی تو جس آگہی کی ضرورت ہے وہ کون دے گا؟
خان صاحب کا حسن ظن ہے کہ ان کی قوم جس نے ان کے لیے ووٹ دیا تھا انکے لیے جان کا تحفہ بھی دے گی۔ممکن ہے لیکن ضروری نہیں۔اس لیے خان صاحب کو ابھی سیاست سے کنارہ کشی کر لینی چاہیئے۔ ممکن ہے کہ بعد میں کوئی اورنو جوان قائد آئے اور یہ میدان سنبھال لے لیکن اس سے پہلے نوجوانوں کو اچھی تعلیم سے ضرور نوازنا ضروری ہو گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button