ٹرمپ کے سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط

298

 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک  پر دستخط کردیئے گئے ہیں جس میں اس قانونی تحفظ کو ہدف بنایا گیا ہے جو انٹرنیٹ کمپنیاں صارفین کے بنائے مواد کی ذمہ داری سے خود کو بچانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

یہ قانون جسے کمیونیکشنز ڈیکنسی ایکٹ کے سیکشن 230 کا نام سے جانا جاتا ہے، بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں جیسے ٹوئٹر، یوٹیوب اور فیس بک کے لیے ضروری ہے۔

جمعرات کی شب امریکی صدر نے اس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں مختلف چیزوں کے ساتھ سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صارفین کے مواد پر کنٹرول کے قانونی حق سے دستبردار ہوجائیں، جیسے ٹوئٹر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی ٹوئٹس کو غیرمصدقہ قرار دینا وغیرہ۔

امریکی صدر نے دستخط کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا ‘یہ سوشل میڈیا اور شفافیت کے لیے ایک بڑا دن ہے’۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں اور انٹرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا ماننا ہے کہ یہ ایگزیکٹو آرڈر قانون کی اصل روح کے خلاف ہے، ان کا کہنا ہے کہ سیکشن 230 انٹرنیٹ کمپنیوں کے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ اس مواد پر ہرجانے سے بچ سکیں جس کی میزبانی ان کے پلیٹ فارم کرتا ہے، جبکہ فیصلوں کی ذمہ داری سے بچتتے ہوئے مواد میں تبدیلی کا اختیار بھی ملتا ہے۔

ٹوئٹر نے اس ایگزیکٹو آرڈر کو ‘تاریخ ساز قانون کے لیے قدامت پسند اور سیاسی سوچ’ قرار دیا ہے۔