کورونا کے باعث بچوں کی شرح اموات دوبارہ بڑھنے کا خدشہ

240

اقوام متحدہ (یو این) نے کورونا کی وبا کے باعث نوزائیدہ اور کم عمر بچوں کی زندگی بچانے والی کئی دہائیوں کی محنت پر پانی پھرنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے باعث پھر سے بچوں کی شرح اموات بڑھ سکتی ہے۔

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے مطابق دو دہائیوں بعد گزشتہ سال 2019 میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات سب سے کمی رہی تھی اور گزشتہ سال دنیا بھر میں صرف 52 لاکھ بچے موت کا لقمہ بنے۔

یونیسیف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 1990 میں ایک کروڑ 25 لاکھ بچے قابل علاج بیماری کے باعث لقمہ اجل بنے تھے اور اب کورونا کی وجہ سے دوبارہ بچوں کی شرح اموات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ کورونا کی جاری عالمی وبا اس حوالے سے تمام تر پیشرفت کو ریورس کرسکتی ہے۔

پاکستان کو صحت سے متعلق سب سے متاثرہ ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں والدین بھی انفیکشن کے خوف، نقل و حمل میں مشکلات، خدمات اور سہولیات کی معطلی یا بندش، موزوں اور دستانے جیسے ذاتی حفاظتی سازوسامان کی قلت اور ان سب سے بڑھ کر مالی پریشانوں کی وجہ سے صحت مراکز سے گریز کرتے ہیں۔