اسرائیل کا عرب امارات سے معاہدہ

220

مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل والی خبر 13 اگست کی رات کو سامنے ا?ئی۔ امریکا اسرائیل متحدہ عرب امارات کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جس میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتا ہو گیا ہے اسے امن سمجھوتے کا نام دیا گیا ہے۔ بعض پاکستانی اخبارات نے اسے تاریخی امن سمجھوتا قرار دیا ہے۔ لیکن ہر اعتبار سے یہ بڑی خبر ہے۔ فلسطینیوں کے نقطہ? نظر سے یہ ان کے خلاف بڑی سازش ہے اور دراصل اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم کا حصہ ہے۔ متحدہ عرب امارات کو تو استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ ٹرمپ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک اگلے ہفتے سفارتخانوں کے قیام، سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سیکورٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، ثقافت اور دیگر معاہدے کریں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک یہ معاہدے کر لیں گے۔ جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اسے امریکا اسرائیل امارات مشترکہ اعلامیہ کہا گیا ہے۔ جس کے مطابق اسرائیل سے امن قائم کرنے والے ممالک کے مسلمان مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ سکیں گے۔ شیخ محمد بن زاید النہیان نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں کا مزید انضمام روکنے کے لیے اسرائیل سے معاہدہ کیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ زمین کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ امریکی صدر نے دیگر عرب ممالک کی جانب سے اس معاہدے پر شرکت کا عندیہ بھی دیا ہے اور جمعے کے روز اس حوالے سے بحرین کا نام بھی سامنے ا?گیا ہے۔ جن ممالک میں روایتی خاندانی بادشاہت ہے وہاں سے عموماً مغرب کے اشاروں پر امت مسلمہ کی پشت میں چھرا گھونپا گیا ہے۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں بھی ان ریاستوں کا اہم کردار تھا لیکن اسرائیل کے حوالے سے پوری امت کا اتفاق تھا کہ یہ فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کرکے قائم کیا گیا ہے۔ اس اتفاق و اتحاد کے باوجود متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر متفق ہو جانا امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور اس میں رخنہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ کوئی بیس پچیس سال قبل غزہ اور اریحا کا معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق فلسطینیوں کو حقوق دیے گئے تھے۔ کہاں گیا معاہدہ اور کہاں گئے حقوق… اسرائیل تو فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے اور نئی بستیاں بسانے میں لگا ہوا ہے۔ یہود نے کبھی مسلمانوں کے ساتھ کسی معاہدے پر عمل نہیں کیا۔ امارات کی جو بھی مجبوریاں ہوں وہ یہ جانتے ہیں کہ اسرائیل سے دوستی کا مطلب امت مسلمہ سے علیحدگی ہے۔ امت میں انتشار ہے اور یہود کو تقویت بخشنا ہے۔ ٹرمپ نے جس معاملے پر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی ہے وہ اسرائیل سے امن قائم کرنے والے ممالک کے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی اجازت کی خوش خبری ہے۔ ٹرمپ بھی شاید اس حقیقت سے واقف نہیں اور ہوں گے بھی تو چونکہ امت مسلمہ کی غالب اکثریت اس سے واقف نہیں اس لیے اسے خوش خبری سمجھ رہی ہے۔ یہ بھی ایک جال ہے۔ مسجد اقصیٰ تو قانونی طور پر اردن کی ملکیت ہے وہاں دنیا کے ہر مسلمان کے لیے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ ٹرمپ اسرائیل یا امارات کو یہ اجازت یا حق دینے کا کوئی اختیار نہیں بلکہ اسرائیل اس امر کا پابند ہے کہ اگر کوئی مسلمان مسجد اقصیٰ کی زیارت کرنا چاہے تو اسے اس کی اجازت دی جائے۔ لیکن اس میں سفارتی پابندیاں اور قوانین ا?ڑے ا?تے ہیں۔ امارات اسرائیل معاہدے کے اثرات براہ راست اتحاد امت پر پڑیں گے۔ فی الحال ترکی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور امارات سے تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ لیکن وہ تو خود اسرائیل سے تعلقات رکھتا ہے۔ جو توجیح وہ کرتا ہے وہی امارات نے بھی کی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ اس سے اسرائیل کو تقویت ملے گی۔ بات یہیں تک نہیں رہے گی بلکہ اس اعلان کے اثرات سعودی عرب پر بھی پڑیں گے۔ مسلم ممالک کی قیادت کا جو منصب برسہا برس سے سعودی عرب کے پاس تھا وہ بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ عرب ممالک کی اکثریت کو اس معاہدے کی طرف جھکائو دکھانا پڑے گا ان کی مجبوریاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان قرضوں اور تیل کے ا?سان شرائط پر حصول کی خاطر اس جانب جھکائو یا کم ازکم اس کی مخالفت سے گریز کی پالیسی پر مجبور ہوگا۔ پاکستان میں گزشتہ دنوں اسرائیل میں بیٹھی خاتون کی جانب سے سوشل میڈیا پر فرقہ واریت پھیلانے اور نیکٹا کی جانب سے اسرائیلی پرچم والے پوسٹر کو پہلی پوزیشن دینے کا مطلب بھی اب پاکستانی قوم کو سمجھ میں ا?گیا ہوگا۔ پاکستان میں بھی برسوں سے اس سازش پر کام ہو رہا ہے۔ جنرل پرویز کے دور میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی اسرائیلی وزیر خارجہ سے ترکی میں ملاقات اور اس کی تصویروں کی اشاعت کا اہتمام پھر جنرل پرویز اور خورشید قصوری کا بیان کہ ہمارا اسرائیل سے کوئی جھگڑا نہیں ہم تو عرب اسرائیل جنگ کی وجہ سے عربوں کے اتحادی اور دوست ہونے کے ناتے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ عرب تسلیم کر لیں گے تو ہم بھی کر لیں گے اور اب موجودہ دورہ حکومت میں تو کسی چیز کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ قادیانی سے لے کر توہین رسالت کے مجرموں اور قرا?ن کا انکار کرنے والوں، شریعت کا مذاق اڑانے والوں، سب کو اہمیت حاصل ہے۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے اور کون کون لا بٹھایا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد ہے کہ زمین کے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلیوں کا دعویٰ ہی غلط ہے۔ یہ لوگ تو دنیا بھر سے لا بسائے گئے۔ فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہیں تو دستبرداری کا کیا سوال ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اس فیصلے کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات سے اپیل کی تھی کہ اتحاد امت کی خاطر اس فیصلے پر نظرثانی کریں۔ امریکی صدر کے دبائو پر فیصلہ عرب ممالک کو بھی نقصان پہنچائے گا یہ لاکھوں فلسطینیوں کے خون سے بے وفائی ہے۔ قبلہ? اول پر اسرائیل کا قبضہ کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اس مسئلے پر او ا?ئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور امارات کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنے کی اپیل کی ہے۔ سراج الحق نے 16 اگست کو ملک بھر میں یوم فلسطین منانے کا اعلان کردیا ہے اور ملک بھر میں ریلیوں اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرانے کے حوالے سے جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب عالمی حکمران ٹولے کی سازش ہے جو دنیا بھر کی حکومتوں کو بلیک میل کرتا ہے۔ یہی ٹولہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی بلیک میل کرتا ہے۔ ٹرمپ کو دوسری مدت کے لیے انتخاب جیتنا ہے۔ اس لیے وہ یہ محنت کر رہا ہے۔ امارات کو اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنا ہے اس لیے وہ اسرائیل سے معاہدے پر مجبور ہے۔ یمن اور شام کی جنگ نے عرب ممالک کی معیشت کو بری طرح تباہ کر دیا ہے اس لیے وہ بھی اس معاہدے کی حمایت پر مجبور ہوں گے۔ یہ ساری مجبوریاں بھی اس عالمی نظام کی غلامی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ مسلمان ممالک بھی اس میں پھنسے ہوئے ہیں اور غیر مسلم ممالک بھی۔ غیر مسلم ممالک کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ سودی نظام ہے یا نہیں جبکہ وہ اسلامی ممالک سے زیادہ سودی نظام کے مخالف ہیں لیکن معاملہ اسلامی ملکوں کا ہے۔ یہ معاملہ امت مسلمہ کا ہے۔ امت مسلمہ کی قیادت عربوں کے پاس رہے یا کسی غیر عرب ملک کے پاس۔ امت کا اتحاد نہیں ٹوٹنا چاہیے