خواب اور حقیقت

217

پاکستان میں اللہ کا ہزار شکر ہے کہ کرونا کے مریضوں کی تعداد بھی دن بہ دن کم ہورہی ہے اوراموات کی شرح بھی بتدریج گھٹ رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے بھی برملا اس کا اعلان کیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے بہت کامیابی سے اس بلا پر قابو پانے کی تدبیریں کی ہیں جبکہ دنیا کے بہت سے، بڑے بڑے ترقی یافتہ اور جغادری قسم کے ممالک، جن میں سرِ فہرست امریکہ بہادر ہیں، اس بلا کے مقابلے پر بری طرح سے ناکام رہے ہیں اور مسلسل شکست کھا رہے ہیں۔!
پاکستان کی بائیس کڑوڑ، یا 220 ملین، نفوس کی آبادی میں اموات کی تعداد چھہ ہزار سے بھی کم ہے جبکہ موذی مودی کے بھارت میں یہ تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے جو پاکستان سے کوئی سات گنا زیادہ ہے اور صحت کے ماہرین کا برملا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اعداد و شمار کے ضمن میں ڈنڈی مار رہی ہے جو اس کی منجملہ تمام امورِ مملکت میں پرانی عادت ہے۔
لیکن اس کے باوجود ہمارے شیوخِ عرب کا تکبُرر اور ریا کاری اس قیامتِ صغری میں بھی برقرار ہے اور اس میں ذرہ ّبرابر کمی نہیں آرہی۔ مثال کے طور پر کویتی حکومت کے تازہ ترین اقدام کو ہی لے لیجئے۔ اللہ اللہ کرکے پانچ مہینے کے بعد کویت کا ہوائی اڈ ہ کھولا گیا ہے اور کویت ایر ویز نے محدود پیمانہ پریکم اگست سے اپنی پروازیں شروع کردی ہیں لیکن13ممالک کو خطرناک قرار دے دیا ہے، کرونا کے حوالہ سے، اور ان میں پاکستان بھی شامل ہے جبکہ خود کویت انتہائی خطرناک ملکوں میں سے ایک ہے۔ ملک کی کل آبادی، باہر والوں کو ملا کر، کوئی چار ملین یا چالیس لاکھ ہے، جس میں اصل کویتی نفری، یعنی مقامی لوگوں کی تعداد، چودہ لاکھ سے زیادہ نہیںہے لیکن اس آبادی میں اب تک کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد چار سو سے بھی زیادہ ہے جبکہ ہمارے شیوخِ عرب بھی مودی کی طرح سچ کو چھپانے کے ماہر ہیں اور سفاکی سے جھوٹ بولتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے اعداد و شمار کو ہی درست مان لیا جائے تو کویت میں ہلاکتیں پاکستان کی شرح سے دس بارہ گنا زیادہ ہیں لیکن پیسے کا غرور وہ سر چڑھ کر بولتا ہے کہ ان کی نظر میں غریب پاکستان خطرناک ہے اور ان کا سرپرست امریکہ، جہاں دنیا میں سب سے بڑھ کر کرونا اپنا جلوہ دکھا رہا ہے، محفوظ ملک ہے۔ سچ ہی کہا تھا دانا ؤں نے کہ جب احمقانہ تکبر آنکھوں پہ پردے ڈال دے تو انہیں کوئی نہیں اٹھا سکتا!
لیکن ہماری جاگیردار اشرافیہ بھی اپنے وہمِ تفاخر اور تکبر میں شیوخِ عرب سے شاید دو ہاتھ آگے ہی ہے۔ اس کا مظہر یہ ہے کہ جہاں عمران حکومت کرونا سے دفاع کے معاملے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے وہیں اشرافیہ نے عمران حکومت کو بدنام کرنے اور ناکام بنانے کی اپنی ابلیسی مہم کو تیز سے تیز تر کردیا ہے!
اس دشمنِ پاکستان اشرافیہ کا ایک اور صرف ایک ہدف ہے اور وہ یہ کہ انہیں اس سے غرض نہیں کہ حکومت کس پارٹی کی ہے یا حکمراں کون ہے ان کے مفادات پر حرف نہیں آنا چاہئے اور جو حکومت یا حکمراں ان کے مفادات کو زک پہنچانے کی کوشش کرے، یا جس کے متعلق یہ شبہ بھی ہو کہ وہ ان کی جاگیرِ اقتدار پر حملہ کر رہا ہے، اس کے یہ جانی دشمن ہوجاتے ہیں۔ یہ تو طے ہے کہ یہ بدبخت، سب کے سب، اپنی ہوس کے اسیر ہیں اور ان کا گمان یہ ہے کہ پاکستان پر حکومت کرنے کا حق صرف اور صرف ان ہی کو ہے کیونکہ ان کے باپ داد فرنگی راج کی پیداوار تھے، انگریز کے کاسہ لیس تھے اور اس سے مراعات پاکر ہی یہ اشرافیہ اپنے پنجے اس سرزمین پر گاڑ سکی تھی جو آج کا پاکستان ہے۔ سو یہ خون چوسنے والی چمگادڑیں اور جونکیں اپنے مفادات پر پاکستان کو قربان کرنے سے نہیں ہچکچائیں گی۔ ایک مثال ہمارے سامنے کی تاریخ ہے جب ہوسِ اقتدار کے حریص وڈیرے بھٹو نے مشرقی پاکستان کو ملک سے علیحدہ کرنے کی سازش کو کامیابی سے ہمکنار کیا، اپنے ہی جیسے اقتدار کے حریص جرنیلوں کی مدد سے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جب تک بنگالی اکثریت پاکستان کے ساتھ تھی اس کا خوابِ حکمرانی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا تھا۔
سو عمران خان نے ان سیاسی گماشتوں اور خون چوسنے والی جونکوں کو نظر انداز کرکے ملک کی ترقی اور فلاح کیلئے جب بیرونِ ملک پاکستانیوں میں سے بہترین دماغوں کو پاکستان بلاکر اپنی حکومت میں مشیر اور خصوصی معاون بنانا شروع کیا تو اسی لمحہ سے ان پاکستان دشمن جاگیردار رذیلیہ نے ان ماہرین کی دوہری شہریت کو عنوان بناکر ان کے اور عمران کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کردی۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی ان جونکوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ ان کو صرف اپنے حلوہ مانڈے کی فکر ہے اور بیرونِ ملک سے آئے ہوئے پاکستانی ماہرین انہیں اپنے لئے خطرہ لگنے لگے تھے اور مسلسل لگ رہے ہیں۔
عمران حکومت میں شامل اور عمران کے اپنے قریب جاگیر دار اور مفاد پرست عناصر کو بھی عمران کی یہ بات پسند نہیں تھی کہ وہ باہر سے پڑھے لکھے اور دیانتدار ماہرین کی مدد سے اپنے نئے پاکستان کے خواب کی تعبیر چاہ رہا تھا۔ لہذا یہ طبقہ بھی، جو درپردہ جونکوں سے ہم آہنگی رکھتا تھا اور رکھتا ہے، ان کو بدنام کرنے اور ان کی پاکستان سے وفاداری کو مشکوک بنانے کی مہم میں دل و جان سے شریک ہوگیا ! ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ عمران خان کی شخصیت میں ٹہراؤ نہیں ہے بلکہ اس کی سب سے بڑی کمزوری ہی یہ ہے کہ کپتان کو انسان کی پرکھ نہیں ہے اور اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاست کی چمگادڑوں نے اس کی حکومت میں اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں۔ ایک نئے پاکستان کی تعمیر کا جو خواب کپتان نے دیکھا اور قوم کو بھی دکھانا چاہا اس میں کشش تھی، خاص طور پہ اس قوم کیلئے جو زرداری اور نواز جیسے چوروں کے ہاتھوں برسوں انتہائی سفاکی سے لوٹی گئی تھی لیکن ایک نئے پاکستان کی تعمیر ان کے ہاتھوں سے کروانے کی کوشش جو خود گلے گلے تک کرپشن اور بدعنوانی کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے بجائے خود دیوانے کا خواب تھا! عمران کو شاید اس کا ذرا سا بھی شعور نہیں تھا، نہ اب تک ہے، کہ بڈھے طوطے پڑھانہیں کرتے اور جن کی عمریں کرپشن مافیا سے وفاداری اور اس کے ساتھ مل کر لوٹ مار میں گزری ہوں وہ راتوں رات ایماندار ہونے سے رہے۔ گرگٹ اپنا رنگ بدل سکتا ہے لیکن اپنی سرشت نہیں بدل سکتا اور ان گرگٹوں کو صرف رنگ بدلنا آتا ہے ان کی فطرت وہی چور اور ڈاکو کی رہتی ہے۔ یہ وہ بچھو ہیں جو ڈنک مارے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ سو سمجھدار اور عمران کے نعرہ نئے پاکستان کو تعبیر دینے کی کوشش کرنے والے ماہرین مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی دوہری شہریت کا ہوا کھڑا کردیا گیا۔ اور اس مذموم مہم میں دل و جان سے شریک ہونے میں پاکستانی سیاست سے جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے جاگیرداروں اور وڈیروں نے ایک لمحہ کی دیر بھی نہیںکی !
سوال یہ ہے کہ کیا کسی اور ملک کی شہریت لینے والے بیرونِ ملک پاکستانی اپنے وطنِ عزیز پاکستان سے محبت کرنا بھول جاتے ہیں یا ان کی وفاداریاں نئے وطن کیلئے ہی مخصوص ہوجاتی ہیں ؟
یہ سب مانتے ہیں کہ کوئی خوشی سے اپنا وطن چھوڑ کر نہیں آتا۔ پاکستان کے بہترین دماغ بہ حالتِ مجبوری مغرب کے ملکوں میں آکر بسے ہیں اسلئے کہ ان کے اپنے وطن میں ان کی صلاحیتوں کو نہ سراہا گیا نہ ان کی قدر کی گئی جب کہ مغرب میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا کیونکہ یہاں صلاحیت اور قابلیت کی قدر ہوتی ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کس خاندان کا ہے یا اس کی پشت پناہی کرنے والا کس قد کاٹھ کا مالک ہے۔ ہمارے ہاں تو صلاحیت بہت پیچھے رہ جاتی ہے پہلے اس کے خاندان کو دیکھا جاتا ہے اور پھر یہ فکر ہوتی ہے کہ اس کے پاس مال و منال کتنا ہے اور اس کی سفارش کتنی تگڑی ہے!
دوہری شہریت رکھنے والوں کے دلوں میں پاکستان کیلئے واقعی درد ہوتا ہے اور وہ دل سے چاہتے ہیں، خاص طور پر مغربی ممالک کی ترقی کو دیکھتے ہوئے کہ وہ بھی اپنی مہارت اور صلاحیت کو پاکستان کی تعمیر اور ترقی کیلئے استعمال کریں اور اسے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہی خواہش عمران کی بھی تھی، اور ہماری دعا ہے کہ اب تک ہو، سو جب عمران نے انہیں نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے پکارا تو انہوں نے لبیک کہنے میں دیر نہیں لگائی۔ لیکن ان کے آگے آتے ہی سیاست اور اقتدار کے ٹھیکیداروں نے ان کو متنازعہ بنانا شروع کردیا۔ عمران امریکہ میں مقیم ایک بہترین دماغ رکھنے والے عالمی شہرت کے مالک پاکستانی ماہرِ معاشیات کو اپنا مشیر بنانا چاہتا تھا لیکن اسے ایسا نہیں کرنے دیا گیا کیونکہ وہ ماہر معاشیات قادیانی مسلک رکھتا ہے۔ چور اور بے ایمان جو اسلام کے نام پر دھبہ ہیں وہ وزیر اور مشیر ہوسکتے ہیں لیکن ایک قادیانی کو ان کے زعم میں اس کا حق نہیں ہے۔ جن سیاسی شعبدہ ہ بازوں نے پروفیسر عبد السلام جیسے نابغہ ٔروزگار کو پاکستان میں نہیں ٹکنے دیا وہ اور کسی قادیانی کو کیسے پا ؤں ٹکانے دیتے۔
اب ان شعبدہ بازوں نے دوہری شہریت رکھنے والے مشیروں اور معاونینِ خصوصی کی صف میں دو اور شکار کرلئے ہیں۔ ایک تو ہمارے ٹورنٹو کی ہی ایک ذہین تانیا ہیں جنہیں عمران نے ڈیجیٹل پاکستان کا تعمیری منصوبہ سونپا تھا اور دوسرے ڈاکٹر ظفر ہیں جن کی طبی صلاحیتوں نے کرونا کے خلاف جہاد میں گرانقدر خدمات ادا کیں اور پاکستان میں کرونا کی وبا پر گرفت مضبوط کرنے میں ان کا بڑا کام ہے۔ ان دونوں کو اپنی عزت نفس پیاری تھی، جو ہر با ضمیر انسان کو پیاری ہوتی ہے، لہذا انہوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کیلئے مشقِ ستم بننے کے بجائے اس کو ترجیح دی کہ اپنی عزت بچاکر خاموشی سے اپنے گھر واپس چلے جائیں۔ اصل میں یہ دو دو ٹکے کے وڈیرے اور جاگیردار خود تو کم نسب ہیں، کم ذات اور کمینے ہیں جن کے اسلاف نے ملت فروشی کرکے جاگیریں اور منصب حاصل کئے تھے ان میں نہ خود اپنی عزتِ نفس ہے نہ ہی یہ کسی اور کی عزت کو عزت سمجھتے ہیں ان سے نمٹنے کیلئے ان ہی جیسے نیچ ذات کا ہونا ضروری ہے۔
ہمارے نزدیک زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ عمران نے بھی اپنے ماہرین اور خاص صلاحیتوں کے مالک مشیروں کو ان پیشہ ور ستمگروں اور چھٹ بھیوں سے بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور بڑی آسانی سے ہتھیار ڈال دئیے۔ اگر یہی طرزِ عمل رہا تو پھر نیا پاکستان بننا تو کجا یہ جو گلا سڑا پاکستان ہے اس کو بھی ان چیرہ دستوں کی دسترس ابلیسی سے محفوظ رکھنا محال ہوجائے گا۔ کپتان عمران نے کرکٹ کے میدان میں جو ساکھ بنائی تھی بطور وزیر اعظمِ پاکستان ان کی کارکردگی اس سے یکسر مختلف اور مایوس کن ہے۔ پاکستان کے دشمن سیاسی گماشتوں کی گیدڑ بھبھکیوں سے ڈرجانا عمرانی کردار نہیں ہے۔ کمینے کی پہچان یہی ہے کہ اس سے جو ڈرے گا وہ اس پر اتنا ہی اور حاوی ہونے کی کوشش کرے گا۔ یہ طرزِ عمل، یہ بے بسی کا اظہار اور بلیک میلروں کے سامنے ہتھیار پھینک دینا پاکستان کے حق میں فالِ نیک نہیں ہے اور کپتان کے اپنے سیاسی مستقبل کیلئے بھی یہ نوید نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ بلیک میلروں سے مرعوب ہوئے بغیر کپتان اس نصیحت کو اپنا شعار بنائے:
تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے !