گھاٹے کا سودا۔۔۔۔۔

14

سورہ العصر پر تفکر و تدبر کرنے والے ہل کر رہ جاتے ہیں‘‘ زمانہ کی قسم ہے۔ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور حق پر قائم رہنے کی اور صبر کرنے کی آپس میں وصیت کرتے رہے۔’’۔ قرآن مجید لگ بھگ اسی ہزار الفاظ پر مشتمل کتابِ مقدس ہے۔عام مسلمان کویہ دیکھنا چاہے کہ قرآن مجید مجھ سے کیا چاہتا ہے توپورے قرآن کا خلاصہ خود قرآن مجید کے اندر موجودہے جسے ہم سورۃ العصر کہتے ہیں۔ جوانی بدمست، بے فکر اور لااُبالی ہوتی ہے مگر زندگی کی تلخیاں اور تجربات بندے کو پچاس سال بعد زندگی کو سنجیدگی سے آشنا کرنے لگتے ہیں، انسان کی جو تھوڑی بہت زندگی بچ جاتی ہے، اس کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ چالیس سال کی عمر سنجیدگی کا دور سمجھا جاتا ہے مگر ساٹھ سال کی عمر میں بھی انسان بڑھاپے اور ’’مہلت‘‘ کو نہ سمجھ سکے اور خود کو خوش رکھنے کے لئے ایسے شوق اور مشاغل پال لے جو اس کو عارضی راحت دیں تو ایسے احمق نے خسارے کا راستہ اختیار کیا۔ ہمارے بیشتر بُڈھے ’’دل جوان ہے‘‘ کے قائل ہیں جبکہ دل کی جوانی ’’اطمینان قلب‘‘ کے ساتھ منسوب ہے اور اطمینانِ قلب فقط اُخروی زندگی کی تیاری میں ہے۔ ساٹھ سال کے بعد جتنے بھی سال گزر یں گے، بونس ہوگا، مگر بُڈھے وارے بھی گھنٹوں ٹی وی فلم اور انٹرنیٹ بینی پر گزار دئیے جائیں تو باقی کیا بچا؟ ایک تو مدھو بالا مرحومہ کی فلموں نے بُڈھوں کا دماغ خراب کر رکھا ہے۔ ہمیں بھی پرانی اداکاروں کے نام اور چہرے یاد ہیں کہ کالج کے زمانے میں جب بلیک اینڈ وائٹ سکرین پر امرتسر سے کوئی ’’ڈبہ فلم‘‘ دیکھنے کا موقع مل گیا تو وہ چہرہ اور نام آج تک دل و دماغ سے محو نہیں ہو سکا۔ والد صاحب کے نظریاتی ماحول کی وجہ سے بھارتی فلم دیکھنے پر پابندی عائد تھی جبکہ پاکستانی سینماؤں میں جانے کو معیوب خیال کیا جاتا تھا۔ سوچا شادی کے بعد شوق پورے کریں گے۔ شادی کے فوری بعد امریکہ آ گئے تو پاکستان میں گزرانظریاتی ماحول غالب آ گیا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے برحق فرمایا کہ ’’بچپن کی تربیت پتھر پر لکیر اور جوانی کی تربیت پتھر پر پانی کی مانند ہے۔‘‘ بچپن کا ماحول بڑھاپے میں سر چڑھ کر بولتا ہے لہٰذا بچوں کو وہ ماحول مہیا کیا جائے جس سے بچہ بڑا اور بوڑھا ہو کر دینا اور آخرت میں توازن برقرار رکھ سکے۔ زندگی کا پریڈ بہت مختصر ہے۔ جوانی کا جوش تو سمجھ میں آتا ہے مگر بڈھے بھی انٹرنیٹ اور دیگر میڈیا پر بھارتی فلموں اور گانوں سے خود کو بہلا رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں فلم بینی کا موقع اور فرصت نہ مل سکی۔ زندگی میں جتنی بھی فلمیں دیکھیں اتفاقادیکھیں، شادی کے بعد آزادی ملے گی ’’معصوم سوچ‘‘ غلط ثابت ہوئی بلکہ شادی کے بعد گھریلو ذمہ داریاں اور بچوں کی نظریاتی و اسلامی تعلیم و تربیت میں جوانی میں ہی بڑھاپا طاری ہو گیا البتہ جب بچے جوان ہوئے تو اِس ماں نے بھی خود کو جوان محسوس کرنا شروع کر دیا۔ ماں باپ کی جوانی اور بڑھاپا اولاد کے قدموں کے نقوش کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ اولاد دنیا ہی نہیں آخرت بھی سنوار سکتی ہے مگر اس کے لئے والدین کو اپنی جوانی کی بے جا خواہشات قربان کرنا پڑتی ہیں۔ کم عمری میں جب ہم امریکہ منتقل ہوئے تو یہاں کی مصروف ترین زندگی میں اتنی فرصت نہ مل سکی کہ ہم ایسے شوق پال لیتے جو صرف ہمیں جوان رکھتے مگر ہمارے بچے گمراہ یا نظر انداز ہو جاتے۔ فوک موسیقی اور عارفانہ کلام ہماری کمزوری ہے مگر جب سے امریکہ آئے ہیں، کلچر اور مذہب کو سٹڈی کرنے اور اپنے اور پاکستانی کمیونٹی کے بچوں کو عملی مسلمان بنانے میں اپنی ذات فراموش کر دی۔ پروردگار نے رفاعی اور علمی خدمات کے بہت مواقع فراہم کئے، اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں خدمت خلق کے لئے منتخب فرما دیتے ہیں اور یہ جنون ہمیں اپنے والد گرامی سے نصیب ہوا ہے۔ امریکہ جیسی سرزمین میں بسنے والے مسلمان رضا کارانہ سرگرمیوں میں مصروف رہیں تو ان کے بچوں کی سوچ اور رویہ بھی عام بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔ ہم نے نائن الیون کے واقعہ سے پہلے کا امریکہ بھی دیکھا اور نائن الیون کے بعد والا امریکہ بھی بھگت رہے ہیں مگر آفرین ہے اس ملک کے مسلمانوں پر جنہوں نے کفر اور اسلام کی تفریق کو نہ صرف اسلامی و اخلاقی طور پر سمجھا بلکہ اپنی اولادوں کو بھی عملی انسان اور مسلمان بنایا۔ پاکستان میں مشرقی روایت کے مطابق ہمارا بھی بی اے کے بعد بیاہ ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے مومنہ جیسی فرشتہ صفت بیٹی کی نعمت سے نواز دیا۔ مومنہ لاہور میں پیدا ہوئی، دو ماہ کی تھی کہ اس کے والد کو میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ ہجرت کرنا پڑی۔ امریکہ میں پہلے دس سال تعلیمی جدوجہد میں گزر گئے، اعلیٰ ڈگری حاصل کرتے ہی سعودی عرب ہجرت کر گئے، تین سال حرمین شریفین کی برکات سے فیضیاب ہوئے اور پھر واپس اپنے شہر لاہور آ گئے۔ امریکہ کے پہلے دس سالوں کے دوران میرے شوہر میڈیکل سٹڈی میں مصروف رہے اور ہم اپنی کھوئی ہوئی ’’خودی‘‘ کی تلاش میں سرگرداں رہے۔
’’مُلا کی دوڑ مسجد تک‘‘ کے مصداق امریکہ کی مختلف ریاستوں میں رضاکارانہ خدمات میں مشغول رہے، اس دوران بہت سیکھا اور سکھایا، اللہ سبحان تعالیٰ نے مسلم کمیونٹی سروس کے تمام مواقع فراہم کئے۔ سعودی عرب میں بھی تین سال سیکھتے سکھاتے گزر گئے اور لاہور میں بھی جو تین سال کا عرصہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی جاب میں گزرا ’’رضاکارانہ‘‘ خدمات کا بھرپور موقع ملا۔ امریکہ سے کشتیاں جلا کر گئے تھے مگر امریکہ میں تعلیمی مواقع کوئی ضائع نہیں کرنا چاہتا، اس ملک میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے پہلے باپ آیا تھا اور پھر اسی غرض کے حصول کی خاطر اپنے بچوں کو لایا۔ مومنہ تو تعلیم کا سلسلہ بیچ میں چھوڑ کر دنیا کو ہی خیر باد کہہ گئی مگر اس کے بھائی ابھی زیر تعلیم ہیں اور ہم آج بھی اپنی رضاکارانہ خدمات کے نشے میں مشغول ہیں۔ خدمت خلق کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ امریکہ سے بہت کچھ سیکھا مگر جس چیز نے ہماری زندگی بدل کر رکھ دی وہ وقت کی قدر ہے۔ ہمیں 80 کی دہائی کے بعد کے سپر فلم سٹار اور فنکاروں کے نام اور چہروں کی شناخت نہیں بھولی۔ مگر زندگی میں کبھی اتنی فرصت ہی میسر نہ آ سکی کہ ہم فلم بینی اور دیگر مشاغل سے لطف اندوز ہو سکتے البتہ جب سے پاکستان کا نجی میڈیا معرض وجود میں آیا ہے ہمیں ’’مُنی بدنام ہوئی‘‘ سے لے کر کئی گانوں سے آشنائی ہوئی ہے۔ زندگی خوب گزر رہی ہے کہ اصل زندگی ’’اطمینانِ قلب‘‘ ہے جبکہ بُڈھے تو درکنار آج کی یوتھ بھی اس نعمت سے محروم ہے اور خود سے جھوٹ بولنے کے لئے انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع سے خود کو خوش اور جوان رکھنے کی کوشش کر تے ہیں۔سورہ العصر کا حقیقی مفہو م ہما ری جواں سالہ لخت جگر مومنہ چیمہ کے دل و دماغ پر غالب ہو چکی تھا اور اسی کیفیت میں خالق حقیقی سے جا ملی۔ہم وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ برباد اور غارت کر رہے ہیں۔ مر گئے تو ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا بجز پچھتاووں کے۔ بے شک انسان نے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.