0

بجٹ

بجٹ ہر سال جون کے ماہ میں بنایا جاتا ہے اور اس کا اعلان کر دیا جاتا ہے اس کی تیاری عام طور پر مئی کے ماہ سے شروع ہو جاتی ہے یہ کام وزارتِ خزانہ کا ہے، بجٹ کو اسمبلی میں لایا جاتا ہے اس پر بحث ہوتی ہے کٹوتی تحریک پر بات ہوتی ہے اور پھر اتفاق رائے سے بجٹ منظور کر لیا جاتا ہے، ایسا ہر ملک میں ہوتا ہے، مغرب اور امریکہ میں طریقہء کار تو یہی ہے مگر وہاں کا نظام بہت مربوط اور سائنسی ہے، ہر چند کہ یہ سارے ممالک CAPITALIST ECONOMY سے جڑے ہوئے ہیں مگر یہ بھی ہیں کہ CONSUMER INTEREST کو پس پشت نہیں ڈالا جاتا، ان کا فلسفہ یہ ہے کہ کمپنیاں جو چیزیں بناتی ہیں ان کو خریدنے کے لئے صارف کی ضرورت ہوتی ہے اگر صارف کے پاس خریدنے کی استطاعت نہیں تو کمپنیاں جو پراڈکٹس بناتی ہیں ان کو خریدے گا کون، پھر ایک اور اصطلاح GOOD CONSUMER کی بھی متعارف ہوئی ہے جس کا مطلب ہے صارف اشیاء زیادہ سے زیادہ استعمال کرے، مغرب میں بجٹ کا بہت زیادہ انتظار نہیں کیا جاتا عام طور پر اخبارات یا الیکٹرانک میڈیا عوام کو بجٹ کے MAIN FEATURES سے آگاہی دے دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر بجٹ پر رسمی سی بات ہوتی ہے، مغرب کی عالمی منڈی پر نظر ہوتی ہے لہٰذا وہ جانتے ہیں کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے ان کی جیب پر کیا اثر پڑے گا اور وہ یہ اثر قبول کر لیتی ہے اور ایسا ہر گز نہیں کہ بجٹ میں امیروں کو زیادہ فائدہ دیا گیا ہو اور عام صارف کا معاشی قتل ہو جائے، ٹیکسوں کا نظام بہت منصفانہ ہے امیر زیادہ ٹیکس دیتے ہیں اور کم تنخواہ دار یا مزدور کم ٹیکس دیتے ہیں، اس لئے یورپ اور امریکہ میں بجٹ کا بے چینی سے انتظار نہیں ہوتا ، اور نہ ہی کوئی EXCITEMENT یہ تو تیسری دنیا کے لوگوں میں ہوتا ہے کہ بجٹ سے بہت سی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں یا اپنے اوپر خوف طاری کر لیا جاتا ہے کہ اس بار بجٹ سخت ہوگا یا اس بار بجٹ میں عوام کو ریلیف مل جائے گا، تیسری دنیا کے ممالک کے وسائل بہت کم ہیں وہ اکثر بڑے ممالک کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں چاہتے ہیں کہ ان کی PRODUCTS/ PRODUCE بڑے ممالک تک پہنچ جائے تاکہ ان کو زرِ مبادلہ حاصل ہوجائے برازیل سے کیلے کی پوری فصل ایک بڑا ملک خرید لیتا ہے اس ملک کے برازیل کچھ مطالبات تھے جن کو پورا کرنے سے برازیل نے انکار کر دیا کیلے کی پوری فصل خراب ہو گئی اور برازیل کو اس ملک کے مطالبات ماننے پڑے، پاکستان کے مل مالکان بھی چاہتے ہیں کہ ان کی پراڈکٹس امریکہ اور یورپ میں فروخت ہوں اور وہ بڑا منافع کمائیں
مجھے یاد نہیں پاکستان میں کسی بھی بجٹ سے پاکستان کے عوام خوش ہوئے ہوں، پاکستان میں ہمیشہ سے ہی وڈیرا شاہی ، سرمایہ دار ، بیورو کریٹس اور فوج کی حکمرانی رہی ہے اور بجٹ ان کے لئے ہی بنتا بس دو چار دانے عوام کی جھولی میں ڈال دیئےجاتے ہیں ، کچھ شور و غوغا ہوتا
ہے اور پھر بیچارے خاموش ہو جاتے ہیں، پاکستانی عوام کو وڈیروں، زمینداروں اور سرداروں کی غلامی کی عادت ہے لہٰذا بھوک سہنے کی عادت ہے روٹی چھیننا ان کے بس کی بات نہیں اور ظاہر ہے روٹی مذکورہ بالا طبقے کے ہاتھوں سے ہی چھینی جا سکتی ہے جو خون تو بہا سکتے ہیں مگر غریب کے دو نوالے بڑھانے کے روادار نہیں، ان کی اسمبلی اور سینٹ میں لابی ہے، ملا ان کا محافظ ، حلال حرام کے سارے فیصلے بھی وہی کرتا ہے، اور فیوڈلز کا فوج سے پرانا یارانہ ہے لہٰذا فیوڈلز کے مفادات پر آنچ نہیں آتی، فیوڈلز تو ایک استعارہ ہے جن میں تمام اشرافیہ آتی ہے، ان میں مزاروں کے پیر اور گدی نشین بھی آتے ہیں بجٹ میں ان سب کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے اگر ذرا اونچ نیچ ہو تو طبقات ARM TWISTING سے بھی اپنے مفادت چھین لیتے ہیں یہ طریقہ عشروں سے ہے بجٹ 2024/2025 میں عوام کے لئے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، یہ اشرافیہ کا بجٹ ہے یہ بجٹ اشرافیہ نے ہی بنایا ہے وہ اشرافیہ جس کو منتخب کر کے عوام نے اسمبلی نے بھیجا ہے مجھے حیرت ہوئی تھی جب میں نے الیکشن مہم کے دوران یہی ننگے بھوکے لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح جلسوں میں دیوانہ وار آتے دیکھا، اس وقت کسی نے ان اشرافیہ کے نمائندوں سے نہیں پوچھا کہ تم عوام کو کیا دوگے، اگر یہ کوئی وعدے کر بھی لیں تو ان کے وعدوں کی وقعت ہی کیا یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن پر حلف اٹھا کر مکر جاتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ اس دنیا میں یہ حقیر ننگے بھوکے ان سے کیا حساب لیں گے اور مولوی سمجھا دیتا ہے کہ انہوں نے اگر جھوٹا حلف اٹھایا ہے تو اس کا حساب روزِ جزا ہوگا اور ایمان کا مارا یہ سن کر چپ ہو جاتا ہے، ملک کے 85 وسائل اشرافیہ کے قبضے میں ہیں، اور یہ جانتے ہیں کہ اقتدار پر قابض رہ کر ہی وہ اپنے اثاثے بڑھا سکتا ہے ، بچا سکتا ہے، یہ جو ٹی وی پر آپ کو شرجیل میمن، ناصر شاہ، عطا اللہ تارڑ ، روؤف حسن اور گوہر خان نظر آتے ہیں ان کی کوئی اوقات نہیں یہ فیوڈلز کے اہل کار ہیں جب تک وفادار رہیں گے وزیر رہیں گے ورنہ کون جانے کہاں ہونگے ، سوال یہ ہے کہ وہ کون ہے جس نے ملک کو اس حالت میں پہنچایا ہے تو اس سوال کا ایک ہی جواب ہوگا اشرافیہ، اگر ننگی بھوکی عوام ہی اشرافیہ کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ میں پہنچائے تو قصور کس کا، ننگی بھوکی عوام ہی مولوی کی تمام بدکاریوں کے باوجود اس کے فتوے مانے تو قصور کس کا، اسی اشرافیہ نے عوام سے تعلیم چھین لی صحت چھین لی، دوا چھین لی اور یہ جاہل قوم بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ٹائر تو جلاتی ہے کسی ممبر اسمبلی کا گھر نہیں جلایا، میری تیری گاڑیاں تو جلائیں کسی وزیر کی گاڑی نہیں جلائی ، یہ دھماکے جو بازاروں میں ہوتے ہیں جن میں عام انسان کام آتا ہے وہ وڈیروں کے اوطاق پر کیوں نہیں ہوتے اور یہ دلیل ہی پھیکی ہے کہ اشرافیہ عوام کی پہنچ سے باہر ہے، یہ بات کتنی بار سمجھائی جائے کہ دنیا میں کوئی بھی پلیٹ میں رکھ کر آپ کو آپ کا حق نہیں دے گا، حق چھیننا پڑتا ہے اسکا دوسرا مہذب رخ یہ ہے کہ THOSE WHO DO NOT KNOW THEIR RIGHTS , DONT HAVE ANY RIGHTS.شہباز کو سعودیہ ، امارات یا امریکہ سے کوئی پیسہ نہیں ملا، اشرافیہ ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں IMF کا اصرار تھا کہ بجٹ خسارہ ختم کیا جائے تو اخراجات تو کم نہیں ہوئے بلکہ اسمبلی ممبران کو پانچ سو ارب دے دیئے گئے ، زرعی ٹیکس نہ لگایا جا سکا اسمبلی میں وڈیرے سرمایہ دار تاجر مافیاز بیٹھی ہوئی ہیں وہ اپنے اوپر ٹیکس کیوں لگائیں گی وہ سپر ٹیکس کیوں دیں کوئی ملک کا وفادر ہوتا جس کو اس ملک سے محبت ہوتی عوام کا درد ہوتا تو اصلاحات ہو تیں نظام بہتر ہوتا ایسا تو ہے نہیں تو بجٹ ایسا ہی آنا تھا جیسا آیا ، وزیر خزانہ اور نگ زیب کتنے ہی قابل کیوں نہ ہوں مگر بجٹ تو ویسا ہی ہوگا جیسا ارکان اسمبلی چاہیں گے، جب تک ملک کے عوام وڈیرہ شاہی، ملائیت کے سر قلم نہیں کرتے کسی بھی بہتری نہیں کی جا سکتی، ایسا ہی ظالمانہ بجٹ آتا رہے گا، اب ابابیل تو نہیں آئیں گی مگر عوام دوست بھی پیدا نہیں ہونگے آیا کُتاکھا گیا کھیر ، اب بیٹھی ڈھول بجا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں