0

اب ہوش میں آئے ہو۔۔۔!

آج مرحوم چچا بہت یاد آرہے ہیں۔وہ سب سے زیادہ جو شعر پڑھا کرتے تھے وہ تھا:۔
؎پہلے سے نہ سوچا تھا انجام محبت کا
اب ہوش میں آئے ہو جب سر پہ قضا آئی!
اور دوسرا ان کا پسندیدہ شعر تھا
؎ لو وہ بھی کہہ رہے ہیں یہ بے ننگ و نام ہے
یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں!
اللہ بخشے چچا اور ان کے پسندیدہ اشعار یوں یاد آئے کہ جرنیلوں کی جو کٹھ پتلیاں قوم پر عمران خان کی دشمنی میں مسلط کردی گئی ہیں ان کے کرائے کے وزیر خزانہ نے اپنے آئی ایم ایف کے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے جہاں نئے بجٹ کی صورت میں ٹیکسوں کا بوجھ غریب عوام پر لاد کر ان کی کمر کو بالکل ہی توڑنے کا سامان کیا ہے وہیں چور شہباز اور اس کا مربی، غاصب جنرل عاصم منیر اور اس کے کرپٹ جرنیلوں کا ٹولہ، جو پاکستان کو نوچ نوچ کے کھارہا ہے، اس کی بھی کمر ان کے امریکی آقاؤں نے توڑ کے رکھ دی ہے! تو چچا مرحوم کے یہ دونوں پسندیدہ اشعار غاصب جرنیلوں اور ان کے سیاسی گماشتوں کی پریشانی کی کیا بھرپور عکاسی کرتے ہیں، واہ واہ۔
پاکستانی قوم کے ان دشمنوں کے حواس یوں باختہ ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کی چوکھٹ پہ جبیں سائی کرکے اور اس کے ہر حکم اور فرمان پر سجدہ کرکے ان ملت فروشوں نے یہ سوچا تھا کہ پاکستانی قوم پر ان کا قبضہ پکا ہے اور اسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اسلئے کہ یہ بائیڈن انتظامیہ ہی تو تھی جس کے ابرو کے اشارے پر یہ سامراجی گماشتے فوری حرکت میں آگئے تھے اور عمران کا تختہ الٹنے کیلئے جو بھی حکم صادر ہوا تھا اس کی تعمیل میں جت گئے تھے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا، اپنی جہالت میں، کہ امریکی جمہوریت میں کلیدی کردار تو کانگریس کا ہوتا ہے اور اسی کانگریس کے ایوانِ زیریں نے پچھلے ہفتہ دو تہائی نہیں، تین چوتھائی نہیں بلکہ 85 فیصد سے زائد اکثریت سے، 368 ووٹوں کے مقابلہ میں محض 7 منفی ووٹوں کی اقلیت کو پامال کرتے ہوئے، وہ قرارداد منظور کی جس نے ایک طرف راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھونچال کا سماں پیدا کردیا تو دوسری طرف بائیڈن انتظامیہ کیلئے بھی درد سر پیدا کردیا ہے۔
قرارداد میں دو ٹوک الفاظ میں اس ظلم و بربریت کے نظام کی مذمت کی گئی ہے جو یزید عاصم منیر اور اس کے عسکری اور سیاسی گماشتوں نے پاکستانی جمہور کے حقوق کے خلاف ملک بھر میں عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد سے روا رکھا ہوا ہے اور جس کے تحت انسانی حقوق بھی کچلے جارہے ہیں اور شہری آزادیاں بھی سلب ہوگئی ہیں۔ کانگریس کی قرارداد میں خاص طور پہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد جس طرح بے حیائی اور بے شرمی سے عوامی منشور پہ ڈاکہ ڈالا گیا اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں نے عوامی مینڈیٹ پر شبخون مارا اور اس کے بعد سے ملک پرایک بدترین قسم کا نظامِ ظلم مسلط ہے۔ قرارداد میں صاف کہا گیا کہ یہ سب کچھ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت (تحریکِ انصاف) کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کیلئے کیا جارہا ہے اور ملک کا سب سے مقبول سیاسی رہنما (عمران خان) اس کا نشانہ بن رہا ہے اور جیل میں بند کردیا گیا ہے۔ قرارداد میں بائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس تمام عمل کی تحقیق کروائے اوراس کی نشاندہی کرے کہ پاکستانی قوم کے خلاف یہ جو جمہوریت کی نفی کرتا ہوا نظام ہے اسے کب ختم کرکے پاکستانی جمہور کو ان کے بنیادی حقوق اور آزادیاں نصیب ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان میں امریکہ کے عسکری گماشتوں اور ان کے سیاسی مہروں پر تو یہ قرارداد آسمانی بجلی بن کر گری۔ انہوں نے تو اپنے بدترین خواب میں بھی کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ جن کے بل بوتے پر یہ بندر پاکستان کی مسندِ سیاست اور اقتدار پہ اچھلتے آئے ہیں وہی ان کے قدموں تلے سے زمین چھین لینے کا کام کرینگےَ! اس پر ہمیں وہ شعر یاد آگیا جس کا مصرعہء ثانی تو زباں زدِ عام ہے لیکن پہلا مصرعہ بہت کم کو ہی یاد ہوگا۔ شعر یوں ہے۔
؎باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے!
تو امریکہ کے غلام حواس باختہ ہوگئے یہ تعجب کی بات نہیں کیونکہ غلام کے سر سے اگر مالک و آقا اپنا دستِ شفقت ہٹا لے یا کھینچ لے تو غلام تو اپنی دنیا اندھیر ہوتے ہی دیکھتا ہے۔ تو غلاموں اور گماشتوں کو جب ہوش آیا تو کھسیانی بلیوں نے کھمبا نوچنا شروع کردیا۔ وہ سیاسی بونے، بد زبان خواجہ آصف جیسے، ہرزہ سرائی کرنے لگے کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس وقت ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں لگی تھی جب ان کے انہیں آقاؤں نے انہیں حکم دیا تھا کہ عمران کی حکومت کوختم کردیا جائے۔ اس وقت تو ان کی بانچھیں کھل گئی تھیں کہ عمران ان کے گناہوں کی پوٹلی کھول کھول کر پاکستان کے عوام کو دکھا رہا تھا کہ یہ کیسے گلے گلے تک کرپشن اور ملک کو لوٹنے میں لگے ہوئے تھے۔ اور پھر اس چھٹ بھیے اسحاق ڈار نے جسے دیکھ کر ہمیں سورہ جمعہء کی وہ آیات یاد آجاتی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تورات جن لوگوں پر اتاری گئی تھی اور انہوں نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا جو ایسے ہی تھا کہ جیسے گدھے پر کتابیں لاد دی گئی ہوں۔ تو چھٹ بھیے اسحاق ڈار جیسے جاہل پر عاصم منیر کی عنایات کا یہ عالم ہے کہ وہ وزیر خارجہ بھی ہے، ڈپٹی پرائم منسٹر بھی ہے اور سینٹ میں حکومتی بھان متی کے کنبے کا قائد بھی۔ ایک چھٹ بھیے پر اتنے مناصب اور عہدوں کا بوجھ وہی لاد سکتے تھے جن کی اپنی عقلیں دانش سے عاری ہوں۔ سو قومی اسمبلی میں اسحاق ڈار نے امریکی مداخلت کی مذمت میں قرارداد پیش کی لیکن اس میں بھی ۔ غلاموں کی عین فطرت کے مطابق، فدویانہ زبان، غلامانہ انداز اپنایا گیا۔ ظاہر ہے غلاموں کی اتنی کہاں مجال کہ وہ آقاء کے سامنے سر اٹھا کر اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرسکیں!
کانگریس کی قرارداد کے ردعمل میں بائیڈن انتظامیہ کے نقیبوں نے پھر بھی اپنے پاکستانی غلاموں کی دلجوئی کیلئے یہ کہا کہ وہ پاکستان کی اسٹراٹیجک اہمیت سے آگاہ ہے اور اسے اپنی عالمی حکمت عملی میں کلیدی کردار سمجھتا ہے۔ غلاموں کیلئے آقاء کا یہ فرمادینا نویدِ مسرت تھا جس کے جواب میں واشنگٹن میں غلام پاکستان کے سفیر نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بائیڈن انتظامیہ کے سامنے ایک اور کشکولِ گدائی پھیلادیا یہ کہہ کے کہ پاکستان کو فوری ضرورت ہے امریکی اسلحہ کی تاکہ عاصم منیر نے ’’عزمِ استحکام‘‘کے نام پر جو نیا ناٹک رچانے کا عنوان کیا ہے اسے رو بہ عمل لایا جائے۔!
غلام ہر صورت غلام ہی رہتا ہے۔ لیکن غلام حکومت ضرور کررہے ہیں لیکن ان کے قدموں تلے سے زمین سرکنا شروع ہوچکی ہے اور جب اس ان داتا کی طرف سے بھی ایسے پیغام اور سگنل آنے لگیں جیسے کانگریس کی قرارداد میں صاف ظاہر ہے تو پھر راتوں کی نیندیں حرام تو ہونگی! عوام اور تحریکِ انصاف کی قیادت میں پاکستانی عوام کی دوست سیاسی جماعتوں نے بجٹ کو جس طرح سے رد کرکے حکومت اور اس کے سہولت کاروں کو آئینہ دکھایا ہے وہ بھی کٹھ پتلیوں کو ہلادینے کیلئے بہت ہے۔مفتاح اسماعیل، جو مہارتِ معاشیات ہونے کے سبب جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں کی نظر سے گرے، انہوں نے عوام پاکستان کے نام سے اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ عوام دشمن بجٹ کی جو دھجیاں اڑائی ہیں وہ قابلِ غور حقائق پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے ایک تو مہنگائی اور افراطِ زر میں دس فیصد مزید اضافہ ہوگا جو غریب کیا متوسط طبقہ کی برداشت سے بھی باہر ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نئے ٹیکسوں کا جو انبار کٹھ پتلی وزیر خزانہ نے لگایا ہے تو اس کے نتیجہ میں پاکستان کی آبادی کی اکثریت، یعنی دس بارہ کڑوڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے گرجائینگے!
عوام جائیں بھاڑ جہنم میں ۔ طاقت کے نشہ میںچور عاصم منیر اور اس کے گرد دہشت گرد جرنیلوں کے ٹولے اور ان کے سیاسی گماشتوں کو اس سے کیا غرض ہے۔ ان کی غرض تو صرف اس سے اٹکی ہوئی ہے کہ عمران کسی بھی قیمت جیل سے باہر نہ آنے پائے کیونکہ اس کی آزادی میں ان شیطانوں کو اپنی موت دکھائی دیتی ہے۔ لیکن بیداری کی جو لہر عمران اور تحریکِ انصاف نے پھیلائی ہے وہ زور پکڑ رہی ہے۔ جرنیلوں اور ان کے گماشتوں کیلئے سب سے بڑا دردِ سر اب اعلیٰ عدلیہ بن رہی ہے۔ اپنی طرف سے انہوں نے پکا کام کیا تھا کہ بے ضمیر اور انصاف دشمن فائز عیسٰی کو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سر پہ بٹھا دیا تھا جہاں یہ گماشتہ اپنے مربیوں کو مایوس نہیں کر رہا۔ وہ ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ سپریم کورٹ اس کی سربراہی میں انصاف کے تقاضوں کو ہرگز پورا نہ کرسکے لیکن جسٹس اطہر من اللہ جیسے با ضمیر جج اپنی بے باکی اور قوتِ اظہار سے فائز عیسٰی اور اس کے سہولت کاروں کیلئے مصیبت بنتے جارہے ہیں اور ان کو اپنا ناٹک ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمان بھی دن بہ دن جرنیلوں اور ان کے گماشتوں کو جس بیباکی اور اپنی تقریر کی قوت سے بے نقاب کررہے ہیں اس نے یزید کیلئے اور مشکل پیدا کردی ہے۔ مولانا کی آواز دبانا یا ان کو بھی اپنی عقوبت کا نشانہ بنانا آسان نہیں ہوگا کہ مولانا کے پاس اپنے سینکڑوں مدرسوں اور ان کے ہزارہا طالبعلموں کی وہ بے پناہ طاقت ہے جو جرنیلی بربریت کے دھارے کا رخ بھی پھیر سکتی ہے۔
ہر فرعون کو ایک نہ ایک موسیٰ غرقِ دریا کر ہی دیتا ہے۔ عمران اور مولانا فضل کی ایک محاذ، ایک پلیٹ فارم پر یگانگت اور ساتھ یزیدی جرنیلوں اور ان کے سیاسی مہروں کی موت کا اعلان بن سکتا ہے۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں