0

شرح آپریشن عزم استحکام مع حواشی!

ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے رکن اور چیئرمین خواجہ صفدر مرحوم کے بقید حیات صاحبزادے خواجہ آصف ،جو آج کل وزیر دفاع لگے ہوئے ہیں ،یا یوں کہہ لیں کہ انہیں متعلقہ اتھارٹیز نے یہی باور کرا رکھا ہے کہ وہ وزیر دفاع ہیں۔ انہیں انتخابات میں بھی ابتدائی طور پر ہارنے کے باوجود اسی لیے جتوا دیا گیا تھا کہ ان سے زیادہ تابع فرمان وزیر دفاع ابھی تک مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ایپکس کمیٹی کے جس اجلاس میںآپریشن عدم استحکام کی منظوری دی گئی تھی ، اس کے شرکاء اس آپریشن کے اسم گرامی اور دیگر تفصیلات سے بالکل لاعلم تھے۔خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلیٰ نے تو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ پورے اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کا نام تک سنائی نہیں دیا ، انہوں نے کہا تھا کہ جب اس آپریشن کی تفصیلات سامنے آئیں گی تو کوئی تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی اس آپریشن کی وجوہ اور وقوع پر پکا سا منہ بنا کر سوال اٹھائے ہیں۔ ایسے میں وزیر دفاع خواجہ آصف مشکل الفاظ کے معنی کے ساتھ اس آپریشن کی تشریح کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ انہوں نے اپنی شرح کا آغاز ہی اس بیان سے کیا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کے دوران جب بھی ضرورت محسوس ہوئی ،تو سرحد پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ایسا کہتے ہوئے انہوں نے ملکی سرحدوں کے اندر مبینہ طور پر مقیم دہشت گردوں اور ان کے انسانی آبادیوں کے بیچوں بیچ محفوظ و مامون ٹھکانوں کا ذکر کرنے سے گریز کیا ہے ۔افغانستان کی جغرافیائی حدود کے اندر مستور و مقیم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کے عزم کے اظہار پر افغانستان کی وزارتِ دفاع کا ردعمل قابل توجہ ہے ، وہ لوگ یہ بات جانتے اور مانتے ہوئے کہ افغانستان میں مستور و مقیم تحریک طالبان پاکستان کے گروہ اور متفرق اجزاء کو اپنی منصوبہ بندیوں اور افغان حدود سے باہر پاکستان پر حملہ آور ہونے سے روکنا ان کی ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہا ، پھر بھی وہ پاکستانی حکومت کو مشورہ دینے کی ہمت دکھا رہے ہیں کہ؛ پاکستان کی قیادت کو چاہیے کہ کسی کو بھی حساس معاملات پر اس طرح کے غیر سنجیدہ بیانات دینے کی اجازت نہ دے۔صرف یہی نہیں ، سہیل شاہین نامی افغان نمائندے نے سفارتی آداب کی نسوار ایک طرف تھوکتے ہوئے یہ تک کہہ دیا ہے کہ؛ ’مہم جوئی کا ارادہ رکھنے والوں کو ماضی کے حملہ آوروں کی تاریخ کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے اور ایسی مہم جوئی کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے۔شاید اسی طرح کے منہ ہوتے ہوں گے ،جن کو دیکھ کر مسور کی دال کا خیال ذہن میں آ جاتا ہے۔پاکستان کی افغان پالیسی کا خلاصہ” سو پیاز ،سو جوتے” والے فارمولے سے مختلف نہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان اب بھی بطور ایک مملکت افغانستان سے معاملات طے کرنے کے عوض انفرادی اور وقتی مصلحتوں کے عوض تعلقات کی بیل گاڑی کھینچ رہا ہے۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے وضاحت پیش کی کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کے استحکام اور دہشت گردی کی تازہ لہر کو ختم کرنے کے لیے شروع کئے گئے اس فوجی آپریشن کے بارے میں سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے بھی مشورہ کیا جاتا رہے گا۔وزیر دفاع نے یہ وضاحت پیش نہیں کی کہ یہ مشورہ کان کے قریب منہ لے جا کر سرگوشیوں میں کیا جائے گا یا پھر یہ مشاورت منہ پیچھے ہٹا کر ،سب کے سامنے کی جائےگی۔ وزیر دفاع نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دوام کے لیے ایک منظم اور تربیت یافتہ پولیس سے آئندہ کیا کام لیا جایا کرے گا؟ یا لینا چاہیے اور اگر اتنی بڑی مسلح اور تربیت یافتہ فورس کے ہوتے ہوئے بھی آئے دن امن و امان کے لیے عسکری آپریشنز کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو پھر اس فورس سے کوئی دیگر قسم کے کام لینے کے بارے میں بھی سوچنے کی زحمت گوارہ کی جا سکتی ہے۔ ستم ظریف کے خیال میں رمضان کے مہینے میں گلی گلی ڈھول بجا کر لوگوں کو بروقت سحری کے لیے جگانے کی ڈیوٹی کے علاوہ دسیوں دیگر کام بھی سوچے جا سکتے ہیں۔لیکن چونکہ اس وقت تو ملک میں امن و امان کی مخدوش ہوتی صورتحال کو درست کرنے کا مرحلہ درپیش ہے ، اس لیے ابھی پولیس فورس کو کچھ کہنا یا زحمت دینا مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔وزیر دفاع نے اپنے انٹرویوز میں یہ وضاحت نہیں کی کہ ملک میں نہایت مسلح جتھوں کو رہنے سہنے اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر اپنے مصلح گارڈز کے ساتھ آزادانہ پھرنے کی اجازت کس نے دے رکھی ہے۔انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آخر کیوں اس مملکت میں دہشت گردی کی تازہ بہ تازہ لہریں کثرت سے ابھرتی رہتی ہیں۔ راسخ العقیدہ علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جس بات یا واقعہ کی بار بار مختلف قسم کی وضاحتیں پیش کی جائیں، اس میں کوئی نہ کوئی گڑبڑ یا کمی بیشی ضرور ہوتی ہے۔ایک امریکی نشریاتی ادارے کےروبرو خواجہ آصف کا یہ اصرار کہ آپریشن عزم استحکام کسی قسم کی جلد بازی میں شروع نہیں کیا گیا۔لیکن انہوں نے نہ تو برطانوی نشریاتی ادارے اور نہ ہی امریکی نشریاتی ادارے کو کوئی ایسی شہادت پیش کی ہے جو یہ ثابت کر سکے کہ آپریشن کے اس فیصلے کے پس منظر میں طویل غور و خوض اور تحقیق شامل ہے۔دوسرے لفظوں میں خواجہ آصف نے اس خواب کے بارے میں سبھوں کو بے خبر رکھنے کی کوشش کی ہے ، جس کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے ملکی تاریخ کے ایک اور آپریشن کی زحمت گوارہ کی جا رہی ہے ۔اب جبکہ آپریشن شروع ہو چکا ہے تو خواجہ آصف نے اطلاع دی ہے کہ عنقریب اس آپریشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی،انہوں نے یہ بھی امکان ظاہر کیا کہ اگر حکومت نے مناسب خیال کیا تو وہ اس معاملے کو اسمبلی میں بحث مباحثے کے لیے لے کر آئے گی۔ایسا کرنے سے پارلیمنٹ کے منتخب اراکین کے اعتراضات ، سوالات اور تحفظات کی وضاحت پیش کرتے ہوئے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے غیر ملکی نشریاتی اداروں سے انٹرویوز میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اب تک کئے گئے متعدد فوجی آپریشنز کے مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ان آپریشنز کے بعد دہشت گردی پھر سے سر اٹھائے گی۔ستم ظریف کہتا ہے کہ شاید پرانے فوجی آپریشنز میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کے سر بچا کر رکھے جاتے تھے ، تاکہ کچھ عرصے بعد وہ پھر سے اٹھتے ہوئے نظر آ جائیں اور پھر تازہ نشانہ بازی شروع کی جاسکے ؟ میں ستم ظریف کے اس چٹکلے کو اہمیت اس لیے نہیں دوں گا کہ اس کی سمت درست نہیں ،وہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ رحم اور عفو ودرگزر کی وجہ سے دہشت گردوں کے سر کھلے چھوڑ دیئے جاتے تھے ،اور توقع کی جاتی تھی کہ وہ اس احسان کو یاد رکھتے ہوئے دوبارہ نمودار نہیں ہوں گے۔ لیکن تاریخ باور کراتی ہے کہ افغانستان والے احسان کے معنی اپنی سہولت اور مفاد کے مطابق طے کرتے ہیں ۔جو لازماً اردو میں موجود متداول معنی سے بالکل مختلف اور بعض اوقات متضاد ہوتے ہیں۔اس تضاد کو سمجھنے کے لیے جس قابلیت ، اہلیت ، فکر و تدبر اور سنجیدگی کی ضرورت ہے ، وہ ابھی تک پاکستان میں دستیاب نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں