بلوچستان میں پہلے امریکی ثقافتی ورثہ منصوبے کی تکمیل مہر گڑھ عجائب گھر کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی

کراچی ( آصف اقبال ) امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بلوچستان کے پارلیمانی سیکرٹری نواب زادہ میر محمد زرین خان مگسی اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی (سیز) کی قیادت کے ہمراہ مہر گڑھ عجائب گھر بلوچستان میں امریکی سفیروں کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے فنڈ (AFCP) کے تحت پہلے منصوبے کی کامیاب تکمیل کی تقریب میں شرکت کی اور یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی بلوچستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا منصوبہ سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی اور محکمہ ثقافت بلوچستان کے اشتراک سے مکمل کیا گیا۔ منصوبے کے تحت تقریباً 8 ہزار سال قدیم مہر گڑھ تہذیب سمیت نیولیتھک دور کے آثارِ قدیمہ کو محفوظ بنایا گیا، عجائب گھر کی نمائش اور ترتیب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید بنایا گیا جبکہ ثقافتی ورثے کی طویل مدتی حفاظت کے لیے مقامی ماہرین کو تربیت بھی فراہم کی گئی منصوبے کی تکمیل کے بعد امریکی سفیروں کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے فنڈ کا دائرہ پاکستان کے چاروں صوبوں تک پھیل گیا ہے، جو پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے امریکہ کے تعاون کا عکاس ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ مہر گڑھ عجائب گھر امریکی مہارت اور تعاون کی بدولت 8 ہزار سال قدیم مہر گڑھ تہذیب اور دیگر تاریخی ادوار کو شاندار انداز میں اجاگر کرے گا انہوں نے کہا کہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے منصوبے نہ صرف تاریخ کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی آبادی کو بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان باہمی تعاون کے ذریعے اس عظیم تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے عملی پیشرفت کر رہے ہیں تقریب کے دوران امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر، پارلیمانی سیکرٹری نواب زادہ میر محمد زرین خان مگسی اور منصوبے کے سربراہان ڈاکٹر اسماء ابراہیم اور ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی، جسے رواں ماہ کوئٹہ میں مہر گڑھ عجائب گھر کی باضابطہ دوبارہ افتتاحی تقریب سے قبل عجائب گھر کے مرکزی دروازے پر نصب کیا جائے گا۔







